پنجاب یونیورسٹی اور جمعیت، میڈِیا جانبدار کیوں ہے؟ ابومعاذ

عنوان دیکھ کر ناک بھوں چڑھانے سے پہلے صرف ایک لمحے کے لیے ذرا ان حقائق پر نظر ڈال لیں۔

پنجاب یونیورسٹی میں 3 سرگرمیاں جاری تھیں ۔۔۔
1۔ اسلامی جمعیت طالبات کا سیمینار ( یوم پاکستان کے حوالے سے )
2۔ اسلامی جمعیت طلبہ کا اسٹال ( 22 مارچ یکجہتی پاکستان ریلی کے حوالے سے )
3۔ پشتون کلچرل فیسٹول

ان تینوں سرگرمیوں میں کیا ہوا؟

1۔ طالبات کے سیمینار میں پشتون طلبہ کا حملہ، مہمان خواتین ڈاکٹر سمیحہ راحیل اور معروف سماجی کارکن فائقہ سلمان سے بدتمیزی، ڈائس اور کرسیاں الٹ دی گئیں۔
2۔ پشتون طلبہ نے جمعیت کے اسٹال کو آگ لگادی۔
3۔ پشتون کلچرل فیسٹول کی تقریب پر جمعیت کے کارکنوں کا دھاوا

الیکٹرانک میڈیا کی یکطرفہ رپورٹنگ :
جیسے تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، ویسے تصادم بھی دو طرفہ ہوتا ہے، جبکہ میڈیا نے یک طرفہ رپورٹنگ کی۔
کوئی ایک ٹکر، خبر، پیکج یا بیپر ایسا دکھا دیں جس میں پشتونوں کے طالبات پر حملے کا ذکر ہو، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اور فائقہ سلمان کو دھکے دیے جانے کا بتایا گیا ہو.
کوئی ایک ٹکر، خبر، پیکج اور بیپر ایسا دکھادیں جس میں جمعیت کے کیمپ کو آگ لگائے جانے کی بات ہو ۔
ہاں سارے میڈیا کی ایک ہی لائن تھی کہ جمعیت نے پشتون کلچرل فیسٹول پر دھاوا بول دیا۔

میڈیا کی غلط رپورٹنگ
اسلامی جمعیت طلبہ کے کیمپ کو آگ لگی، مگر میڈیا میں چلتا رہا کہ جمعیت نے کیمپ کو آگ لگائی، یہاں تک کہ دنیا نیوز کے بیوروچیف ارسلان رفیق بھٹی بھی اپنے بیپرز میں کہتے رہے کہ جمعیت نے مخالفین کے کیمپ کو آگ لگا دی. ابھی سما ٹی وی پر بلال قطب کے پروگرام میں یونیورسٹی کے ترجمان خرم شہزاد نے اعتراف کیا کہ یہ کیمپ جمعیت کا تھا. حیران کن طور پر کسی چینل نے اسے رپورٹ نہیں کیا.
اسی طرح ایک طالب علم کو کئی لڑکوں کے مل کر وحشیانہ تشدد بنانے کی ویڈیو وائرل ہوئی، میڈیا پر اسے یہ کہہ کر چلایا جاتا رہا کہ جمعیت کے کارکنان لڑکے کو مار رہے ہیں، سما ٹی وی نے کچھ دیر اس نوجوان کا انٹرویو نشر کیا ہے جس میں اس نے بتایا ہے کہ اسے مارنے والے پشتون طلبہ تھے. تو کیا پیمرا اس غلط رپورٹنگ پر نوٹس جاری کرے گا؟ کیا مالکان اپنے رپورٹرز اور بیورو چیف سے جوابدہی کریں کہ یہ یکطرفہ اور غلط رپورٹنگ کیوں ہوئی؟ کیا چینلز میں کوئی ایڈیٹوریل بورڈ ہے جو اس کا جائزہ لے اور رپورٹر سے سوال کرے، اور کیا میڈیا میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ اس پر معذرت کرے؟

یہ بھی پڑھیں:   شکریہ جماعت اسلامی - احسان کوہاٹی

اے اہل صحافت ۔۔۔!
جمعیت نے دھاوا بولا، یہ تو خوب چلایا۔ تصادم میں طالبات پر پشتون طلبہ کا حملہ اور جمعیت کے کیمپ کو لگنے والی آگ کیوں فراموش کرگئے؟ کوئی ہے جواب اس بات کا ؟ یہ جانبدارانہ رپورٹنگ نہیں تو اور کیا ہے؟ پورا سچ کیوں نہیں بولتے، کیوں نہیں دکھاتے؟ بغض جمعیت میں صحافتی اخلاقیات کا جنازہ نکالنا گوارا کر لیا؟

بغض جمعیت کی واضح مثال:
جمعیت درس قرآن کرے، اسٹڈی سرکل کرے، نیلام گھر، کتاب میلے، اسٹڈی ٹورز، اسلام اور پاکستان کی محبت کے فروغ کے لیے سیمینارز، کانفرنسز، حیا ڈے، اقبال ڈے، قائداعظم ڈے، یوم پاکستان۔ کسی کا تذکرہ الیکٹرانک میڈیا کے لیے خبر نہیں۔ بہت بڑا خوبصورت اور نیوز وردی تعمیری پروگرام ہو تو بھی جمعیت کو کریڈٹ دینے کے بجائے کہتے ہو ایک طلبہ تنظیم کے تحت کتاب میلہ، لڑائی یا تصادم ہو جائے فورا جمعیت کا نام لبوں پر آ جاتا ہے۔ پھر بڑ بڑ کرتے جمعیت کے نام کی تکرار شروع کر دیتے ہو. اپنے بیپرز اور تجزِیے دیکھ لو سارے۔ کیا اس یکطرفہ رپورٹنگ، اور جانبدارانہ خبروں کا کوئی جواب ہے، آپ اہل صحافت کے پاس؟

آپ لوگوں کے پاس میڈیا کی طاقت ہے، جس کی چاہو گڈی اڑائی ،جس کی چاہو واٹ لگاؤ۔ آپ کو تو کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ جناب کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔ اس لیے بس اتنی ہی گذارش ہے کہ
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی