میں مسلمان ہونے پر شرمندہ نہیں - ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

’’مجھے تو یہ کہنے میں کہ میں مسلمان ہوں، کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی‘‘

23مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرار داد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی، اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

مینار پاکستان لاہور میں عین اسی جگہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں مارچ 1940ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخی قراردار پاکستان منظور ہوئی۔ پاکستان کا قیام محض ایک تاریخی حادثہ نہ تھا اور نہ ہی سیاسی فتح بلکہ یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اپنے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے کی خواہش کا ثمر تھا۔ درحقیقت قائد اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان بناکر اپنی تہذیب، مذہبی اقدار اور ثقافت کو بچالیا ورنہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا وہی حشر ہوتا جو اسپین میں مسلمانوں کا ہوا۔

قائد اعظم نے گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ جناب گاندھی دیانتداری سے تسلیم کرلیں کہ کانگریس ایک ہندو جماعت ہے اور وہ صرف ہندوؤں کی نمائندہ ہے، جناب گاندھی کیوں یہ بات فخر سے نہیں کہتے کہ میں ہندو ہوں اور کانگریس کو ہندوؤں کی حمایت حاصل ہے. مجھے تو یہ کہنے میں کہ میں مسلمان ہوں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔

آج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھارت سے ایک دانشورانہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ دونوں ملک ایک ہیں، ہندو اور مسلمان برسوں اکٹھے رہے ہیں، جغرافیائی لکیر نے انہیں تقسیم کر دیا ہے. آئیے! پھر سے مل بیٹھیں ایک ہو جائیں، یہ غیر فطری لکیر ہے۔ آج کی مسلم لیگ کی قیادت نے بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا تھا۔ لیکن اس نوع کے سارے استدلال قائد کے اس فکری خطاب کے سامنے کوئی معنویت نہیں رکھتے۔ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کوخطرہ صرف اور صرف داخلی انتشار سے ہو سکتا ہے، کسی بیرونی سازش سے نہیں ۔آج ہمیں اس اتحاد کی ضرورت ہے جس کے باعث تحریک پاکستان کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ یہی اتحاد اس مملکت کومعاشی خوشحالی دے سکتا ہے، ہمیں اپنے تاریخی جذبوں اور اساسی نعروں پر غور کرنا ہوگا۔ اپنے ماضی کو بھلانے والی قومیں زندہ کہلانے کا حق نہیں رکھتیں، ماضی کے تناظر میں ہی مستقبل کی راہوں کا تعین کیا جاسکتا ہے۔

Comments

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم

ڈاکٹر رانا تنویر قاسم انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کے اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، مذاہب ثلاثہ میں امن اور جنگ کے تصورات کے موضوع پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، تدریسی و صحافتی شعبوں سے برابر وابستہ ہیں، ایک ٹی وی چینل میں بطور اینکر بھی کام کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.