قائداعظم کے وفادار سیکولر - ابن حجر

سیکولر: تم جاہل مسلمان کیا جانو کہ جمہوریت بڑی مقدس چیز ہے، جس میں اکثریت کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے.
مسلمان: لیکن جناب مسلمانوں کی اکثریت نے اسلامی ریاست حاصل کرنے کی خاطر پاکستان بننے کے حق میں ووٹ دیا تھا.
سیکولر: اچھا؟ لیکن قائداعظم تو سیکولر پاکستان چاہتے تھے!
مسلمان: قائداعظم سیکولر ریاست تو نہیں چاہتے تھے لیکن فرض کریں کہ جیسا آپ نے کہا ویسا ہی ہے، پھر اس صورت دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں:
1- قائداعظم سیکولر ریاست ہی چاہتے تھے تو وہ سیکولر ہندوستان سے کس لیے علیحدہ ہو رہے تھے ؟ اور وہ بھی خاص اس وقت جب وہ اپنی طبعی عمر کے آخری حصہ میں تھے اور ٹی بی کے ہاتھوں جان ہار رہے تھے؟ پھر قائداعظم بات اسلام کی کر رہے تھے، اور چاہتے سیکولرزم تھے، کیا وہ منافقت کا شکار تھے؟
2- اگر قائداعظم سیکولر ریاست چاہتے تھے، لیکن عوام کی اکثریت تو پاکستان میں شریعت پر مبنی نظام چاہتی ہے، پھرآپ جس جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں، اس کے تحت پاکستان کی عوام کے اس جمہوری حق کو بھی مان کر پاکستان کو اسلامی ریاست بننے دیں.
سیکولر: اس صورت میں جمہوریت کے تقدس کا راگ الاپنے کے بجائے قائداعظم کی بات کو اکثریت پر ٹھونسنا مناسب ہوگا، اور وہ بھی اس صورت میں کہ قائداعظم کی اسلامی ریاست والی درجنوں تقریروں کو چھوڑ کر صرف ایک مبینہ تقریر کو اہمیت دی جائے جس سے یہ غلط فہمی ہونے کا مارجن ملتا ہے کہ قائد اعظم سیکولر ریاست چاہتے تھے.
مسلمان: یعنی آپ ’’سیکولر مسلمان‘‘ اور دیسی لبرلز اس جمہوری اصول کے انکاری ہوگئے جس کی ڈفلی بجاتے آپ تھکنے نہیں، یعنی:
1- پاکستان کی اکثریت کا اسلامی نظام لانے کا جمہوری مطالبہ بھی مسترد.
2- قائداعظم کی ایک تقریر کو چھوڑ کر باقی ساری تقریروں اور بیانات کا جمہوری حق بھی مسترد.
نتیجہ: اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ قانون کیا کہتا ہے، اور اصول کیا کہتے ہیں، بات ساری بدنیّتی کی ہے، کیونکہ آپ کو اصل تکلیف اسلامک سسٹم آف گورننس (اسلام کے نظام) سے لاحق ہے.

یہ بھی پڑھیں:   مسلمانوں کی موجودہ صورتحال اور اسکا علاج - عطاء الرحمن بلھروی

اگر کوئی قانون، کوئی طریقہ یا اصول اسلام کے خلاف استعمال کرنا ہو تو اس کے تقدس کے گیت گاؤ، اس اصول کو بطور ہتھیار استعمال کرو، لیکن اگر آپ کے اسی اصول کے استعمال کے نتیجے میں مسلمانوں کو کوئی فائدہ پہنچنے کا اندیشہ ہو تو فوراً اس اصول کو مسترد کرنے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہ کرو.

اگر غیر مسلموں کی اکثریت پر مبنی کسی ریاست پر کوئی مسلمان حکمران یہ کہتا کہ اس نے یہ ریاست اس لیے بنائی کہ وہاں اسلامی نظام ہو تو آپ کی آہ و بکاہ اور چیخ و پکار دیکھنے والی ہوتی، اور آپ گلے پھاڑ پھاڑ جمہوریت کی رٹ لگا کر آسمان سر پر اٹھا لیتے، موم بتیاں لے کر نکل کھڑے ہوتے، فیس بک کی ڈی پیز بدل لیتے، اور ایسے مسلمان حکمران کو فاشسٹ قرار دے کر نشان عبرت بنا دینے کا مطالبہ کرتے.
لیکن اگر کسی مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ریاست کا بانی سو اسلامی تقریروں کے بعد صرف ایک مبینہ بیان میں کچھ ایسا کہہ دے جسے توڑ مروڑ کر آپ اپناسیکولرزم کا بیانیہ اخذ کر سکیں تو آپ مسلمان عوام کے اکثریتی جمہوری حق کو مسترد کرنے میں ایک لمحہ کی تاخیر بھی نہیں کرتے

حقیقت حال یہ ہے کہ اسلامی نظام نہ صرف غیر مسلموں کو اپنے مذاہب پر عمل پیرا ہونے کی آزادی دیتا ہے بلکہ ان کا استحصال نہ ہونے کی ضمانت بھی دیتا ہے، اور سیکولر نظام کی نسبت بہتر فلاح کا بھی ضامن ہے، لیکن ہاں سیکولرزم کے مقابلے میں اسلامی نظام کس بات کی اجازت نہیں دیتا؟ اسلامی نظام سرمایہ کے ارتکاز اور سود کے ذریعہ عوام کا خون نچوڑنے کی اجازت نہیں دیتا، اور کسی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دیتا جس سےعوام کا اخلاق بتدریج گر کر حیوانوں کی سطح پر پہنچ جائے، اسلامی نظام عیاش عناصر کی خرافات اور غل غپاڑہ کو منظر عام پر آنے اور سوسائٹی میں انتشار پھیلانے سے روکتا ہے جوکہ عیاش، سیکولرسٹ اور ملحد افراد کے لیے بہت ہی تکلیف کی بات ہے.