خواتین اساتذہ کا استحصال - فارینہ الماس

کہا جاتا ہے کہ عورت کی نجات اقتصادی خودمختاری میں ہے۔ اعلٰی تعلیم یافتہ خاتون برسر روزگار ہو کر مرد کی حاکم داری کے نتیجے میں خود سے ہونے والے استحصال سے چھٹکارا پا سکتی ہے۔ اسے کسی حد تک سسرال میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، یہ اور بات کہ اس کے لیے مشکلات کی نوعیت بدل تو جاتی ہے لیکن ان میں ہرگز بھی کمی واقع نہیں ہوتی۔

ملازمت کرنے سے عورت کی ذات میں ایک ایسی خود اعتمادی آ جاتی ہے کہ وہ خود بخود اس خاص نوعیت کے احساس کمتری سے چھٹکارا پا لیتی ہے جو عموماً مرد اس کی معاشی کفالت کے زعم میں اس پر مسلط کیے رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے خود مرد کے کاندھوں کا بوجھ بھی بٹ جاتا ہے اور عورت کو بھی اپنے شوہر کی ان مشکلات اور تکالیف کا ادراک ہونے لگتا ہے جو اسے باہر نکل کر کام کرنے سے درپیش رہتی ہیں۔ اقتصادی خودمختاری عورت کو ہر قسم کے حالات سے نپٹنے کی جرات اور حوصلہ بھی دیتی ہے مثلاً شوہر سے ذہنی طور پر عدم مطابقت کی صورت میں وہ زیادہ با اعتماد طور پر کسی فیصلے کو اپنا سکتی ہے۔ اگر وسیع تر معنوں میں پرکھیں تو کسی بھی ملک و قوم کی ترقی کا بھی یہ ایک کارگر فارمولہ ہے جسے مغرب نے بھی اپنا کر اپنی معاشی و سماجی ترقی کی منزل کا حصول ممکن بنایا۔

بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق پاکستان میں برسر روزگار خواتین کی تعداد گزشتہ ایک دہائی کے دوران چھپن لاکھ نوے ہزار سے بڑھ کر ایک کروڑ اکیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یوں تو خواتین اب کئی طرح کے غیر روایتی شعبوں سے اپنا مستقبل وابستہ کرنے لگی ہیں لیکن تقریباً ستر فیصد خواتین ڈاکٹریٹ، انجنیئرنگ، فارمیسی یا بزنس کی ڈگریاں حاصل کر کے بھی ان شعبوں میں اپنی خدمات انجام نہیں دے پاتیں، جس کی بڑی وجہ معاشرے کی وہ روایتی سوچ ہے جو خواتین کو مردوں کے برابر کام کرنے سے روکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بہت سی خواتین مخصوص شعبوں کی ڈگریاں ہونے کے باوجود یا تو گھریلو زندگیاں گزارنے پر مجبور کر دی جاتی ہیں یا پھر ان کے لیے صرف اور صرف درس و تدریس کے دروازے ہی کھولے جاتے ہیں۔ اس وقت خواتین کا ایک بڑا حصہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہے۔ پنجاب میں 56فیصد، سندھ میں 52 فیصد، خیبرپختونخوا میں 39 فیصد، بلوچستان میں 36 فیصد، اور اسلام آباد میں 68 فیصد خواتین اساتذہ اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

کمرشل تعلیمی اداروں کی تعداد میں ستر فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سرکاری و فلاحی تعلیمی اداروں میں تیس فیصد۔ سن دو ہزار تک تعلیمی سیکٹر میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا تناسب 19 فیصد تھا جو کہ اب چالیس فیصد ہو چکا ہے۔ تقریباً 45 فیصد اساتذہ پرائیویٹ اسکولوں سے وابستہ ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔ ان داروں میں اگر مرد اپنی خدمات انجام دے بھی رہے ہیں تو جیسے ہی کسی دوسرے شعبے میں انہیں ملازمت مل جاتی ہے، وہ اس شعبے کو خیر باد کہہ دیتے ہیں ۔

گویا پرائیویٹ اسکول خواتین ہی کی کاوشوں اور محنتوں سے چلتے ہیں۔ جہاں خواتین کے کام کرنے کی ایک بڑی وجہ سرکاری سطح پر ملازمتوں کی کمی اور موجود ملازمتوں کے لیے سفارش کی ضرورت جیسے عوامل ہیں۔ اس کا ایک اہم باعث لڑکیوں کے اپنی مرضی سے پروفیشن کے انتخاب پر والدین کی عائد کردہ پابندیاں بھی ہیں۔ اگر وہ اپنی مرضی کا پروفیشن اپنا بھی لیں تو شادی کے بعد سسرال کی پابندیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جو یا تو انہیں ملازمت کرنے ہی نہیں دیتے یا صرف ٹیچنگ کو اپنانے کی اجازت دیتے ہیں۔

سرکاری اسکولوں میں تو صورتحال ناقابل یقین قسم کے حالات کا شکار ہے۔ جہاں اساتذہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ تمام تر سہولیات مثلاً پنشن و گریجویٹی وغیرہ سے مستفید تو ہو جاتے ہیں لیکن کام کا بوجھ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور کئی دیہاتوں کے اسکول تو اس بوجھ سے بھی عاری ہیں۔ یہاں مڈل پاس اساتذہ بھی مدتوں سے محض اپنی ریٹائرمنٹ کی مدت کے پورا ہونے کے انتظار میں ہیں اور مفت کی تنخواہیں اور مراعات کے حقدار بنے بیٹھے ہیں۔ اکثر اساتذہ کو ”ٹیچر“ یا ”سکول“ تک کے انگریزی زبان میں سپیلنگ نہیں آتے یہاں تک کہ انہیں تو اپنی قومی زبان اردو بھی بولنا نہیں آتی۔ سو وہ اپنی مادری زبان میں ہی طلبہ سے ہم کلام رہتے ہیں۔

سرکاری کتابوں کا بوجھ بھی پرائیویٹ اسکولوں کے نصاب کی نسبت بہت معمولی ہوتا ہے۔ یہاں ماں باپ کی تعلیمی پسماندگی اور عدم دلچسپی کے باعث اساتذہ کو ان کی سطح پر کسی قسم کے دباؤ کا سامنا بھی نہیں رہتا۔ سرکاری اسکولوں میں نسبتاً پرائیویٹ اداروں کے غیر نصابی سرگرمیوں کا بوجھ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

پرائیویٹ اداروں کی صورتحال گورنمنٹ اداروں سے ہر لحاظ سے مختلف ہے۔ اساتذہ جو اکثریتی طور پر خواتین پر مشتمل ہیں عموماً انتہائی قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ایم اے، ایم ایس سی اور ایم فل کی ڈگریوں کا ہونا تو ایک معمولی بات ہے۔ یہاں تو ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ خواتین ایم بی اے، فارمیسی اور انجینئرنگ کی محنت طلب اور قدرے مہنگی تعلیم کے حصول کے بعد ٹیچنگ کو اپنا پروفیشن بناتے ہوئے پرائیویٹ اسکولوں میں اپنی خدمات انجام دینے لگتی ہیں جبکہ سکول سبجیکٹ میں تعلیمی ڈگری نہ ہونے کے سبب انہیں اجرت بھی ایم اے یا ایم ایس سی کے لیول پر نہیں دی جاتی۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ پرائیویٹ ادارے خواتین کی ان مجبوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا خوب استحصال کرتے ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے ہر سال بچوں کی فیسیں اور اخراجات بڑھانے میں تو ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں لیکن اپنے اساتذہ کے لیے پے اسکیل،گریجویٹی یا انکریمنٹس کے مناسب ضابطے تک لاگو نہیں کرتے۔ آپ کو یہاں ایسی مثالیں بھی ملیں گی کہ اسکول کے اساتذہ کی تنخواہوں اور اسکول کے چوکیدار کی تنخواہ میں کوئی خاص فرق نہیں ہوگا، محض کچھ خاص سکول سسٹم ہی ہیں جو اساتذہ کا کم استحصال کرتے ہیں لیکن اکثریتی ادارے اس استحصال میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔

ایم اے سے زیادہ ہائر ایجوکیشن کو تو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ ان کے سلیبس اور تدریسی ضرورتوں کے زمرے میں ہی نہیں آتی۔ البتہٰ اسکول کے لیے بڑے بڑے سرمایہ داروں سے ڈونیشنز لیتے ہوئے یا بچوں کے داخلے کے وقت والدین سے ایسے اساتذہ کا غائبانہ ذکر بڑے فخر سے کیا جاتا ہے جو ہائر ایجوکیشن کی ڈگریوں کے حامل ہوتے ہیں۔

یہاں ایسا رواج بھی ہے کہ سکول میں نئے اساتذہ کی تقرری عموماً گرمیوں کی ہونے والی چھٹیوں سے قبل کی جاتی ہے اور ان اساتذہ کو ملازمت کے پہلے سال چھٹیوں کی تنخواہیں دینے سے گریز کیا جاتا ہے ۔اس طرح ان کی دو ماہ کی تنخواہ بڑی چالاکی سے بچا لی جاتی ہے۔ کچھ اسکول ایسے بھی ہیں جو کسی استاد کی تقرری کے بعد پہلے ماہ کی تنخواہ بطور گارنٹی روک لیتے ہیں۔ تنخواہ بچانے کا ایک اور کارگر طریقہ بھی رائج ہے، وہ یہ کہ اکثر اسکولوں میں ایک ماہ میں ایک یا دو سے زائد چھٹیاں کرنے والے اساتذہ کی مزید چھٹیوں پر تنخواہ کٹنی شروع ہو جاتی ہے۔ ایک اور سنگین ستم ظریفی جس کا تعلق غیر انسانی رویے سے ہے، وہ یہ کہ تنخواہ بڑھانے کے خطرے کے پیش نظر اساتذہ کو سینئر ہونے سے پہلے ہی معمولی وجوہات کو جواز بنا کر ملازمت سے بر خاست کر دیا جاتا ہے، کیونکہ معاہدے کے ذریعے اساتذہ کو بغیر وجہ بتائے ملازمت سے فارغ کرنے کا اختیار اسکول انتظامیہ اپنے پاس رکھتی ہے۔ یہ اور ایسے ہی کئی دوسرے عوامل جو اساتذہ کے معاشی استحصال کا ذریعہ ہیں، ان کا سامنا تو بہرحال اساتذہ کو کرنا ہی ہوتا ہے لیکن دوسری طرف ایسے ان گنت نفسیاتی و جذباتی عوامل بھی ہوتے ہیں جن سے نپٹتے نپٹتے انہیں شدید قسم کے ذہنی و دماغی دباؤ اور تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ اگر کسی ملک کی سرحدوں کی محافظ اس کی افواج ہوتی ہیں تو اس کی تہذیب و تمدن کے محافظ اس کے اساتذہ ہوتے ہیں۔ استاد جو ناپختہ اور کچے اذہان کو شعور عطا کرتا ہے، کسی ادیب یا فنکار کی طرح کا تخلیق کار ہوتا ہے۔ جس طرح ایک تخلیق کار کے لیے اپنے کام کے لیے ذہنی آزادی اور تائید و تحسین درکار ہوتی ہے، اسی طرح ایک استاد کو بھی باطنی تخلیقی عمل کے لیے کسی اتھارٹی کی حکم آوری سے بھی نجات کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اپنی محنت و جستجو اور خلوص کے صلے میں ادارے کی طرف سے داد و تحسین کا متقاضی بھی ہوتا ہے اور اسے اپنے فرائض کی بہتر ادائیگی کے لیے ذہنی آزادی کا احساس بھی درکار ہوتا ہے تاکہ وہ طلبہ کی ذہنی و نفسیاتی سطح کو جانچتے ہوئے اپنے طریقہ کار سے ان کے جذباتی، معاشرتی و نفسیاتی مسائل کا حل نکال سکے۔ ان کی ایسی ذہنی تربیت کر سکے کہ جو انہیں ان کے نظریات قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔ لیکن ہمارے زیادہ تر نجی تعلیمی اداروں نے انہیں اپنا محض ایک ”ملازم“ بنا رکھا ہے جو ہر وقت سربراہ ادارہ کے احکامات کے منتظر رہتے ہیں۔ وہ کلاس میں کن موضوعات پر بات کرے گا، تاریخ پر کن تناظر سے روشنی ڈال سکے گا، کن اختلافی نکات کو زیر بحث لا سکتا ہے اور کن کو نہیں، نصاب میں کون سی کتاب شامل کی جائے گی، اور کون سی نہیں، یہ سب سربراہان ہی طے کرتے ہیں یا پھر ان کے معاونین۔ ایک ہی وقت میں ایک استاد کو سربراہ، نائب سربراہ، مضمون انچارج، اور اگر ایک سے زیادہ پارٹنر یا ٹرسٹیز ادارہ چلا رہے ہیں تو ان پارٹنرز یا ٹرسٹیز کی بھی سننا اور ان کے احکامات کی بجا آوری کو ممکن بنانا ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ معمولی غفلت پر ان سے کھری کھری سننے کا بھی ان میں حوصلہ ہونا اس ملازمت کی ایک خاص شرط ٹھہرتی ہے۔ اور انتہائی کرب آمیز حقیقت یہ بھی ہے کہ کئی اسکولوں میں تو اساتذہ کو والدین سے بھی بے نقط سننا ہوتی ہے، لیکن اگر وہ ایسا حوصلہ خود میں پیدا نہ کر سکیں تو انہیں اس صورت میں ملازمت سے بھی ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔

ادارے کی طرف سے انھیں قدم قدم پر ان کی نااہلی اور کم مائیگی کا احساس دلایا جاتا ہے۔ ان کی قابلیت، اہلیت اور محنت کو جان بوجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے تاکہ انہیں کبھی بھی یہ احساس نہ ہو سکے کہ وہ اس ادارے کی ضرورت بن چکے ہیں، کیونکہ اس طرح ان کی طرف سے تنخواہ میں اضافے کے مطالبے کا احتمال پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ اکثر پرائیویٹ اداروں کے سربراہان مرد حضرات ہیں اور اساتذہ کی اکثریتی تعداد خواتین پر مشتمل ہے، اس لیے مرد کے ہاتھوں ہونے والی تحقیر ان اساتذہ میں اپنی تذلیل کا احساس اور بھی شدید کر دیتی ہے۔ دوسرے کئی شعبوں کی طرح یہاں بھی خواتین کے مرد سربراہان کے ہاتھوں ہراساں ہونے کے واقعات رونما ہو چکے ہیں، لیکن ان واقعات کو کبھی رپورٹ نہیں کیا جاتا بلکہ خواتین ایسی صورت میں خاموشی سے ملازمت کو خیر باد کہہ دینے میں ہی اپنی عافیت جانتی ہیں۔

اساتذہ کی تحقیر کا ایک اہم پہلو ان سے ان کی برداشت سے کہیں زیادہ کام لیا جانا ہے۔ عموماً پرائیویٹ اداروں میں اساتذہ کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور جب ایک استاد چلا جائے تو پیچھے رہ جانے والے اساتذہ کو ان کی کلاسوں کا اضافی بوجھ بھی اٹھانا پڑ جاتا ہے۔ انہیں کلاس میں تھک کر کسی کرسی پر بیٹھنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔ انتظامیہ انہیں ہر وقت کوئی نہ کوئی اضافی کام دے کر فرصت کے اوقات میں بھی مصروف رکھتی ہے۔ یہاں تک کہ ہم نصابی سرگرمیوں کی تیاری کے لیے اکثر چھٹی کے دن بھی انہیں حاضر کر لیا جاتا ہے۔ یا چھٹی کے بعد طویل میٹنگوں کے لیے زبر دستی روک لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات کوئی اضافی کام گھر پر لے جا کر کرنے کے بھی پابند بنا دیے جاتے ہیں۔

الغرض ایسے ان گنت حربے ہیں جن کے ذریعے ان اساتذہ کو ذہنی اور روحانی طور پر بے سکون کیا جانا ممکن ہوتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ کم اجرت پر غیر انسانی رویوں کو برداشت کرنے اور ناقابل برداشت بوجھ کو خود پر لادنے والا انسان، پرائیویٹ اسکول کا ٹیچر کہلاتا ہے تو ٹیچر کی اس تعریف میں کوئی جھول اور جھوٹ نہیں۔

پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 17 فریڈم آف ایسوسی ایشن کے مطابق ہر فرد کو تنظیم سازی کا حق دیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں دوسرے شعبوں کی طرح پرائیویٹ سکول ٹیچرز کی بھی ایسوسی ایشنز ہیں، حتیٰ کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی ایسی کئی تنظیمیں موجود ہیں، لیکن پاکستان میں گورنمنٹ اسکولوں کے اساتذہ کی تنظیمیں تو موجود ہیں، مگر پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کو ایسے کسی پلیٹ فارم پر یکجا ہونے یا آواز اٹھانے کی اجازت نہیں۔ اگر کسی جگہ ایسی جسارت کی بھی جائے تو ان اساتذہ کو ہی ملازمت سے فارغ کر دیا جاتا ہے۔ 2013ء میں تربت میں پرائیویٹ ٹیچرز کو PSTA جیسی تنظیم بنانے کی پاداشت میں فارغ کر دینا ایسی ہی ایک ناانصافی کی مثال ہے۔ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ حکومتی سطح پر بھی پرائیویٹ اسکولوں میں کوالٹی تعلیم دینے والے ایسے ہزاروں اساتذہ کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔

اکثر خواتین ان میں سے وہ ہیں جو طلاق کی صورت یا بیوگی کی صورت میں اپنے بچوں کی کفالت تنہا کر رہی ہیں لیکن وہ ایسی نامناسب اجرت میں یہ سب کس طور کر پاتی ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ وہ ملازمت کے علاوہ ٹیوشنز پڑھا کر گزر واقات کرنے کا بندوبست کرتی ہیں۔ جب ہ ایسے دگرگوں مالی حالات میں ان سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ اسکول اچھا اور منفرد لباس پہن کر آئیں، اپنی آرائش اور زیبائش میں بھی جدید وقت کے تمام تر تقاضے پورے کریں۔ ان میں ایسی بھی ہیں جو ان اسکولوں میں سخت اور بے حساب محنت کرتے کرتے اپنی صحت اور شادابی گنوا بیٹھی ہیں کہ اب ان کے ہاتھ پیلے کرنا بھی ماں باپ کے لیے ایک خواب بن چکا ہے۔ لیکن وہ پھر بھی مجبور ہیں ایسی کٹھن ملازمت کو انجام دینے کے لیے، کہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں گھر کے معاشی بوجھ اٹھانے کا۔

ایسے تمام تر مسائل اور مشکلات کے باوجود ان سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ بچوں کو پڑھاتے ہوئے اپنی کسی قسم کی ذاتی فرسٹریشن یا گھریلو نوعیت کے ذہنی مسائل کو اپنے چہرے سے ظاہر نہ ہونے دیں ۔کیوں کہ اس طرح بچوں کی نفسیات پر برا اثر پڑتا ہے۔

Comments

فارینہ الماس

فارینہ الماس

فارینہ الماس کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی روح میں گھلا ہوا ہے۔ ساتویں جماعت میں خواتین پر ہونے والے ظلم کے خلاف افسانہ لکھا جو نوائے وقت میں شائع ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم۔اے کیا، دوران تعلیم افسانوں کا مجموعہ اور ایک ناول کتابی شکل میں منظر عام پر آئے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */