ٹارگٹ کلر - ریحان اصغر سید

اپنے فلیٹ کی بلڈنگ سے نکل کر میں نے محتاط انداز میں گردوپیش کا جائزہ لیا۔ رات کے گیارہ بج چکے تھے، شہر کے اس حصے کی سڑکوں کی رونق ماند پڑ رہی تھی اور اکا دکا لوگ آتے جاتے نظر آ رہے تھے۔ میں تب تک بلڈنگ کے سامنے پارکنگ کے تاریک گوشوں میں ٹہلتا رہا. جب تک مجھے یقین نہ ہو گیا کہ آس پاس کوئی مشکوک آدمی نہیں ہے۔ حالیہ آپریشن کے بعد ہمارے لیےحالات مشکل سے مشکل تر ہوتے جا رہے تھے۔ ہمارے بہت سے ساتھی مارے یا پکڑے گئے تھے، جو بچ گئے وہ تتر بتر اور روپوش ہو چکے تھے۔ ان حالات میں تنظیم کے لیے میرے جیسے تجربہ کار لڑاکے کی اہمیت دو چند ہو گئی تھی۔ میں نے کچھ دن پہلے ہی اپنی جان پر کھیل کے تنظیم کے ایک بڑے دشمن کو ٹھکانے لگایا تھا۔ اس لیے مجھے کچھ ہفتوں تک اس فلیٹ میں روپوش رہنے اور باہر نہ نکلنے کی سختی سے تاکید کی گئی تھی۔ لیکن اگر میں آج فلیٹ سے نہ نکلتا تو شاید گھٹن سے میرا دم نکل جاتا۔ یادوں اور خیالات کی ایک یلغار تھی جو ذہن کے پردہ سکرین پر ہو رہی تھی۔ پچھتاووں کے ناگ رہ رہ کے ڈس رہے تھے، میں نے سگریٹ سلگایا اور سڑکوں پر بےمقصد ٹہلنا شروع کر دیا۔

آج سولہ ستمبر تھا، آج عالیہ کی شادی تھی، وہ عالیہ جو ساری زندگی مجھ سے منسوب رہی تھی، وہ عالیہ جس کے بغیر میرے لیے زندگی کا کوئی تصور نہیں تھا، جو کچھ سال پہلے تک میرے لیے زندگی کا دوسرا نام تھی۔ آج وہ ہمیشہ کے لیے کسی اور کی ہو رہی تھی۔ مجھے اندازہ تو تھا کہ یہ رات مجھ پر بھاری ہوگی پر اتنی بھاری ہوگی کہ میرے اعصاب چٹخ جائیں گے، اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا۔ مجھے اپنی ساری زندگی، جہدوجہد، تنظیم کا نظریہ، ہر چیز فضول لگ رہی تھی، میرے اکاؤنٹ میں پڑے کروڑوں روپے ردی کے ڈھیر لگ رہے تھے۔ کتنی دعائیں مانگی تھیں میں نے کہ میرے نام کا منحوس سایہ عالیہ کے نام سے چھٹ جائے۔ وہ کسی اور سے شادی پر آمادہ ہو جائے، اس کی کسی اچھی جگہ شادی ہو جائے، اور آج جب یہ سب ہو رہا تھا تو میرے دل و دماغ میں ایک آگ لگی ہوئی تھی. جی چاہ رہا تھا کہ ساری دنیا کو اس آگ میں بھسم کر دوں۔ کبھی جی چاہتا کہ ابھی شادی کے تقریب میں پہنچ جاؤں اور اسے ایک نظر دیکھ لوں۔

یادوں کے سمندر میں ڈوبتا ابھرتا میں شہر کے ایک بارونق علاقے میں آ پہنچا۔ یہاں ابھی بازاروں میں چہل پہل تھی، لوگ خوشگوار موڈ میں کھا پی رہے تھے، نوجوان جوڑے دمکتے چہروں کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے۔ میں حسرت افسوس کے ساتھ لوگوں کو دیکھتا رہا، مجھے لگ رہا تھا کہ یہ کسی اور دنیا کے باسی ہیں اور میں کسی اور دنیا کا رہنے والا ہوں۔ یہ آزاد ہیں اور میں آزاد ہو کے بھی قید ہوں۔ درجنوں سنگین مقدمات میں پولیس کو ایک انتہائی مطلوب مجرم، جسے دشمنوں کے علاوہ ہر دم دوستوں سے بھی خطرہ رہتا ہے۔ میں سگریٹ پیتا رہا اور عالیہ کو یاد کرتا رہا۔ وہ میرے چچا کی بیٹی تھی، ہم ایک ہی گھر میں پل کے جوان ہوئے تھے۔ گھر والوں نے بچپن سے ہی ہمیں ایک دوسرے سے منسوب کر دیا تھا۔ ہم ایک دوسرے سے دلی لگاؤ تھا، ہم ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ زندگی میں صرف رنگ ہی رنگ تھے ،محبت اور خوشیوں کے رنگ۔ پھر جانے ہماری ہنستی مسکراتی زندگی کو کس کی نظر لگ گئی اور میں ایک لسانی سیاسی تنظیم کے جال میں اس طرح پھنسا کہ ایک طالب علم سے ایک پیشہ ور قاتل بن گیا۔

چلتے چلتے میں نے کلائی پر موجود گھڑی پر وقت دیکھا، بارہ بج چکے تھے۔ سڑکیں کافی حد تک ویران ہو چکی تھیں، میں نے کسی رکشے کی تلاش میں اردگرد نظر دوڑائی۔ جس کے فی الحال اس جگہ پر کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ پیدل ہی میں نے اپنے فلیٹ کی جانب چلنا شروع کر دیا۔ میرا شہر بہت بڑا تھا لیکن میں سارے شہر کو اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح پہچانتا تھا۔ کچھ آگے جا کے مجھے پولیس کا ایک ناکہ نظر آیا جہاں پر ایک پولیس موبائل سمیت تین ڈھیلے ڈھالے پولیس والے کسی موٹر بائک والے کو روکے کھڑے تھے۔ شاید جان بخشی کی مقدار کے تعین کا مسئلہ تھا۔ اصولاً مجھے اسی وقت ساتھ والی گلی میں مڑ جانا چاہیے تھا، لیکن میری نظریں موٹر بائک کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی دبلی پتلی لڑکی پر ٹکی ہوئی تھیں، جس نے کالے رنگ کا سکارف باندھ رکھا تھا۔ جس کے ہالے میں اس کا چہرہ کسی سفید بلب کی طرح چمک رہا تھا۔ نہ جانے کیوں وہ مجھے بلکل عالیہ جیسی لگی۔ میں ٹہلنے کے انداز میں سگریٹ کے کش لگاتا ان کے قریب پہنچ گیا. پولیس والے ابھی تک میری موجودگی سے بے خبر تھے۔ بڑی سے توند والے اے ایس آئی نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کا مہنگا سمارٹ فون پکڑ رکھا تھا اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اسے اپنی جیب میں ڈال لیا۔ موٹرسائیکل سوار نوجوان جو کہ شکل سے خاصا تیز طرار لگتا تھا، کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا، جبکہ اس کے پیچھے بیھٹی لڑکی کا رنگ خوف اور پریشانی سے بالکل سفید پڑ رہا تھا۔ اس نے نوجوان کے کندھے میں اپنی لمبی سفید انگلیاں دھنساتے ہوئے اسے سرگوشی میں چلنے کا کہا لیکن نوجوان کو کوئی جلدی نہیں لگ رہی تھی۔ وہ اے ایس آئی سے اپنے سیل فون کی واپسی کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اے ایس آئی نے چمک کر نوجوان کے گال پر تھپکی دی اور کہا۔ چل بیٹا اب نکل جا یہاں سے، اور شکر کر میں صرف فون لے کر تیری جان چھوڑ رہا ہوں ورنہ مال تو اور بھی ہے تیرے پاس۔ یہ کہہ کر اس نے بائک کے پیچھی بیٹھی لڑکی کو معنی خیز انداز میں دیکھا جو مزید سمٹ کے نوجوان کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔
کیوں بے، تیرے باپ کا مال ہے کیا؟ قصور کیا ہے ہمارا؟ کس قانون کے تحت تم نے میرا سیل فون لیا ہے؟ پانچ سو سے ہزار روپے کی اوقات ہے تمھاری۔ وہ لے لو اور جان چھوڑو ہماری۔ میں تمھاری یہ بدمعاشی برداشت نہیں کروں گا۔ نوجون بپھر کر بولا۔
اے ایس ائی کے کالے چہرے پر خباثت کا رنگ مزید گہرا ہو گیا۔ آدھی رات کو جوان چھوکری کو لے کر شہر میں گھوم رہا ہے، جس سے تیرا کوئی رشتہ بھی نہیں ہے۔ تیرے پاس موٹر سائیکل کے کاغذات ہیں نہ شناختی کارڈ، پھر کہتا میرا قصور کیا ہے؟ تیرے جیسے کنجروں کو عزت راس نہیں آتی، اب میں تمھیں تھانے لے کر جاؤں گا۔ تیرے پاس سے ممنوعہ بور کی گن، اور ہینڈ گرینڈ برآمد ہوگا، وہاں تیرے کپڑے اتار کر چھتر پریڈ ہوگی تو صبح سے پہلے تو دس قتل تسلیم کر لے گا، اور بھی بہت سے وارداتیں پینڈنگ ہیں جو تیرے سر پر ڈالنی ہیں۔ اور اس چھوکری کی فکر نہ کر، میں صرف اسے ایک ہفتہ اپنے پاس رکھوں گا، پھر رانا صاحب کو تحفے میں دے دوں گا، یہ عیش کرے گی عیش۔ اے ایس آئی نے یہ کہتے ہوئے لڑکی کو بازو سے پکڑ کر نیچھے کھینچ لیا۔ لڑکی زور زور سے چیختے ہوئے اپنے بازو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔ نوجوان نے شدید طیش کے عالم میں بائک سے اترنے کی کوشش کی لیکن اے ایس آئی کے ساتھ کھڑے کانسٹیبل نے بہت بے رحمی سے اپنی گن کا بٹ اس کے منہ پر مارا تو وہ الٹ کے گرا اور بائک اس کے اوپر گر گئی۔ اے ایس آئی نے لڑکی کے ساتھ دست دارزی شروع کر دی تھی۔

پولیس والے ابھی تک میری موجودگی سے بے خبر تھے. میں اوٹ سے نکلا تو میری ہینڈ گن میرے ہاتھ میں آ چکی تھی. دبلی پتلی لڑکی کو میں نے روتے دیکھا تو مجھے لگا کہ میری عالیہ رو رہی ہے۔ میرے دل و دماغ میں تو پہلے سے ہی آگ لگی ہوئی تھی، میں نے پہلی گولی پولیس موبائل کے قریب کھڑے تیسرے پولیس والے کے سر میں ماری۔ شاید وہ گرنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ میرا دوسرا نشانہ وہ کانسٹیبل تھا جس نے نوجوان کے منہ پر رائفل کا بٹ مارا تھا۔ گولی اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ لگی، میں ایک ماہر ٹارگٹ کلر تھا اور میرا نشانہ خطا جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا. کانسٹیبل کے زمین پر گرنے سے پہلے پہلے میں نے اپنی دائیں ٹانگ پوری طاقت کے ساتھ اے ایس آئی کی ٹانگوں کے بیچ میں ماری، وہ ذبح ہوتے بکرے کی طرح ڈکرایا، الٹ کے گرا اور زمین پر درد کی شدت سے لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ یہ ساری کارروائی بمشکل بیس سکینڈ میں مکمل ہو گئی تھی۔ نوجوان اور لڑکی کے چہرے دہشت سے پیلے پڑ گئے تھے۔ میں نے ہاتھ سے سہارا دے کے نوجوان کو اُٹھایا اور اس سے کہا کہ فورا نکل جاؤ یہاں سے اور اس واقعے کو مکمل طور پر بھول جاؤ، یہی تمھارے حق میں بہتر ہے۔ نوجوان نے بمشکل اپنا سر اثبات میں ہلایا اور اے ایس آئی کی جانب لپکا، اس کی جیب سے اپنا فون نکالا اور لڑکی کو پیچھے بٹھا کے نکل گیا۔ اس اثنا میں میری دو بھرپور لاتیں اے ایس آئی کےمنحوس چہرے پر لگ چکی تھیں، اس کا منہ خون سے تر ہو رہا تھا اور زبان سے گندی گالیوں اور دھمکیوں کی بارش ہو رہی تھی۔ میں نے اردگرد دیکھا، دور دور تک کسی ذی نفس کا نام و نشان نہیں تھا، اگر کوئی آس پاس تھا بھی تو روپوش ہو چکا تھا۔ اتنی دیر میں پولیس موبائل کا وائرلیس بھی جاگ گیا۔ ذرا دور ہونے کی وجہ سے الفاظ تو مجھے سمجھ نہیں آ رہے تھے مگر تیز تیز بولنے اور شور کی وجہ سے مجھے لگ رہا تھا کہ ان پولیس والوں سے فائرنگ کی بابت پوچھا جا رہا ہے۔ شاید کسی نے پولیس کو کال کر دی تھی۔ اسی لمحے میرے کانوں نے دور سے پولیس سائرنوں کی آواز سنی۔ میں نے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ کر اے ایس آئی کا خون آلودہ منہ سیدھا کیا اور اس کا نیم بیج دیکھا۔
تیری قسمت اچھی ہے خالد شاہ کہ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ورنہ میں تمھیں عبرت ناک موت مارتا۔ خالد شاہ ہونٹوں پر زبان پھیر کے رہ گیا۔ موبائل کی چابی کہاں ہے؟
وہ اگنشین میں ہی لگی ہے۔ خالد شاہ نے تھوک نگل کر کہا. شاید اس نے میری آنکھوں میں اپنی موت کو دیکھ لیا تھا۔ میں نے اپنی گن کی نال کو اس کے منہ میں گھسیڑ کے بنا کسی توقف کے گولی چلا دی جو اس کے سر کے پچھلے حصے کو توڑتی ہوئی نکل گئی، اس کا بھیجا سڑک پر بہنے لگا۔ میں نے آخری کش لے کر سگریٹ کو پاؤں تلے مسلا۔ پولیس موبائلز کا شور بڑھتا جا رہا تھا، وائرلیس میں سے بھی مسلسل چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں لیکن ایک عجیب سی بےحسی اور درندگی میرے اعصاب پر سوار تھی. میں نے جھک کے کانسٹیبل کی آٹومٹیک گن اٹھا لی، اس کے اضافی میگزین اور گولیوں والا بیگ بھی اتار کے میں پولیس موبائل کی طرف بڑھا۔ چابیاں اگنیشن میں ہی لگی تھیں، میں نے ہتھیار پسنجر سیٹ پر پھینکے، ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو سائیڈ مرر سے چنگھاڑتی آتی پولیس موبائل کی روشنیاں نظر آئیں. میں نے گیئر لگایا اور گاڑی کو بھگا دیا۔ لیکن یہ خستہ پولیس وین دوڑنے سے زیادہ جھوم رہی تھی، اس کا سارا کیبن کانپ رہا تھا اور انجن مسنگ کر رہا تھا. میرے پیچھے آتی موبالز میں سے ایک جائے حادثہ پر ہی رک گئی جبکہ دوسری میرے پیچھے لگ گئی۔گاڑی کے وائرلیس پر کوئی چلا چلا کر شاہ جی اور اس کے ساتھیوں کے قتل اور میرے فرار کے بارے میں بتا رہا تھا۔ وائرلیس کی بدولت مجھے پتہ چلا کہ اب دو مزید گاڑیاں میرے پیچھے ہیں۔ جلد ہی مجھے اندازہ ہو گیا کہ یہ پھٹیچر پولیس وین مجھے مروائے گی.اب ہم ایک قدرے پوش رہائشی علاقے میں تھے. میں نے تیزی سے دو تین گلیاں بدلیں اور ایک بنگلے کی دیوار کے ساتھ وین کو کھڑا کے تیزی سے باہر نکل آیا، مگر گاڑی چھوڑنے سے پہلے میں رائفل اور دوسرا ایمونیشن اٹھانا نہیں بھولا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ویلڈن پشاور پولیس - ملک محمد سلمان

میں نے دوڑ کر چند مزید گلیاں بدلیں اور ایک چھوٹے سے بنگلے کی چھ فٹ اونچی باؤنڈری وال پر چڑھ کے اندر کود گیا۔ کچھ دیر تک دم سادھے گھاس پر پڑا رہا۔ بنگلے میں کسی کتے یا چوکیدار کے آثار ناپید تھے۔ میں کچھ دیر باہر کی سن گن لیتا رہا، بظاہر میں پولیس والوں کو وقتی طور پر چکمہ دینے میں کامیاب رہا تھا۔ جھکے جھکے دبے قدموں پورچ سے گزر کر میں گھر کے اندرونی مرکزی دروازے تک پہنچا جو بہت مضبوط اور خوبصورت لکڑی کا بنا ہوا تھا۔ کھڑکیوں سے آتی روشنی اور کھٹ پھٹ سے میں نے اندازہ لگایا کہ باہر پولیس موبالز کے سائرن سے صاحب خانہ بیدار ہوگئے ہیں. میں نے بیل بجائی۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد بیل کے ساتھ لگی جالی سے ایک بھاری مردانہ آواز برآمد ہوئی۔
کون ہے۔۔؟
میں انسپکٹر ہاشم ہوں، دروازہ کھولیے؟
کیا چاہتے ہو۔۔؟
آواز بدستور خشک تھی۔ اس علاقے میں ایک خطرناک مجرم گھس آیا ہے، ہم آپ کی سلامتی کے لیے فکر مند ہیں۔
یہ کہہ کر میں نے دوبارہ اردگرد دیکھا اور دعا کی کہ یہاں کوئی خفیہ کمیرہ نہ ہو۔
میں بالکل ٹھیک ہوں تم لوگ جاؤ یہاں سے۔
اتنے میں ایک پولیس موبائل چھنگاڑتی ہوئی گھر کے سامنے سے گزری، میں فوراً زمین پر لیٹ گیا۔
دروازہ تو آپ کو کھولنا پڑے گا ورنہ ہم دروازہ توڑ دیں گے، ہمارے پاس سپیشل اختیار ہے۔ جواباً ایک غصیلی بڑبڑاہٹ کی آواز سنائی دی، پھر کوئی دروازے کی طرف آیا، میں دروازہ کے آئی ہول کے سامنے سے ہٹ گیا. تھوڑی دیر بعد محتاط انداز میں تھوڑا سا دروازہ کھلا، میرے لیے اتنا ہی کافی تھا، میں نے کندھے کی بھرپور ٹکر دروازہ پر ماری، پیچھے موجود شخص دروازے کی ٹکر لگنے سے دور جا گرا، اس کے منہ سے ہلکی سے کراہ نکلی. میں کھلے دروازے سے جلدی سے اندر گھسا اور دروازے کو لاک کر دیا. صاحب خانہ فرش سے اٹھ گیا تھا، وہ پچاس سال کے قریب لمبا تڑنگا ایک صحت مند شخص تھا، پہلی نظر میں مجھے وہ کوئی فوجی آفیسر لگا۔ وہ ماتھا سہلاتے ہوئے مجھے گھور رہا تھا۔
کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو؟ اس نے میرے گلے میں لٹکی رائفل اور ہاتھ میں پکڑی گن کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔ یقیناً اس شخص کے اعصاب آہنی تھے اور وہ اسلحہ شناس تھا۔
سوال پوچھنے کا حق صرف میرا ہے، میں نے پسٹل لہرایا۔ اندر چلو، میں اسے دھکیلتا ہوا اندر ٹی وی لاؤنج میں لے آیا۔
گھر میں اور کون کون ہے؟ میں نے اس سے پوچھا۔
میرے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے۔ اس نے لاپرواہی اور بے خوفی سے کہا۔
میں نے دیوار کی نکڑ پر پڑے فینسی سے سٹینڈ پر لٹکی زنانہ چادر اور دوپٹے کو دیکھا۔
اس نےگردن موڑ کر میری نظروں کا تعاقب کیا اور بولا وہ عظمیٰ کا ہے۔
کون عظمیٰ؟؟
میری بیٹی ہے۔ بیٹی تو نہیں ہے مگر سمجھ لو کہ بیٹی جیسی ہی ہے، میں نے ہی اسے پالا ہے، وہ بے گھر تھی۔
ابھی کہاں ہے عظمیٰ؟ میں نے پوچھا.
وہ اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گئی ہے، ان کا فلم دیکھنے کا پروگرام تھا۔ اب وہ آتی ہی ہوگی۔
تمھارا نام کیا ہے۔ کیا تم آرمی میں ہو؟؟
میرا نام سکندر ہے. نہیں میں آرمی میں نہیں ہوں۔۔
سکندر نے حسب سابق سکون سے جواب دیا۔ اس شخص کا اعتماد اور سکون مجھے ڈسٹرب کر رہا تھا۔

چلو مجھے گھر دکھاؤ۔ میں تمھاری بات پر اعتبار کر کے نہیں بیٹھ سکتا۔
لاؤنج کے ساتھ ڈرائنگ روم تھا جس کا ایک دروازہ لاؤنج میں کھلتا تھا۔ کچن اور ایک بیڈ روم کا دروازہ بھی لاؤنج میں تھا، پیچھے دو کمرے مزید تھے، گھر سنگل سٹوری تھا، سارے کمرے چیک کر کے ہم پیچھے موجود سٹور نما بڑے سے کمرے کے سامنے پہنچے جس کا دروازہ لاک تھا۔۔
اس میں کیا ہے۔۔؟
یہ میری ریسرچ لیب ہے۔
اس کو کھولو۔
سکندر کے چہرے پر پہلی دفعہ کچھ تذبذب کے آثار نمودار ہوئے۔ اس کی چابی فی الحال میرے پاس نہیں ہے۔ اس نے مڑ کر مجھے دیکھا۔
میں نہیں چاہتا کہ عظمیٰ جب اس گھر میں واپس آئے تو تم اسے مردہ ملو۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔
تم پولیس والے تو نہیں لگتے؟
اس نے دوبارہ میرے سینے پر بیلٹ سے جھولتی پولیس رائفل کو دیکھتے ہوئے کہا۔
دروازہ کھولو، فوراً، میں نے پسٹل کا رخ اس کے سر کی طرف کر لیا۔
باہر سڑک پر دوبارہ پولیس موبائلز کے سائرن کی آواز آنا شروع ہو گئی تھی، پھر ایسا لگا کہ گاڑی بالکل اس گھر کے سامنے آ کے رکی ہے۔
شاید انھوں نے مجھے ٹریس کر لیا تھا، شاید میں کوئی نشانی یا پیروں کے نشان چھوڑ آیا تھا۔
یہ تمھارے پیچھے ہیں۔؟ سکندر نے باہر کی آوازوں پر غور کرتے ہوئے مجھے دیکھا۔
ہاں۔ میں نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہا۔
کیوں۔؟
کیونکہ میں ابھی ابھی تین پولیس والوں کو قتل کر کے آیا ہوں، اور تمھیں بھی قتل کر دوں گا، اگر تم نے مزید کوئی سوال کیا تو۔
سکندر کے چہرے کے تاثرات میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا، اس نے پینٹ کی جیب میں سے چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا.
دروازہ کھلتے ہی ایک عجیب سی بو کا بھبکا میری ناک سے ٹکرایا۔
لائٹ جلاؤ، سکندر نے اندر گھس کر لائٹ جلائی تو وہ وسیع و عریض ہال نما کمرہ روشن ہوگیا۔ لیکن میرے کان باہر کی آوازوں پر لگے تھے، جہاں اب خاموشی کا راج تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   مجرم ماں، اندھا قانون اور سنگدل بچے - محمد عاصم حفیظ

میرا خیال ہے کہ وہ آگے چلے گئے ہیں. سکندر نے کہا۔
ہاں شاید۔ میں لمبی سانس لیتا ہوا لیب میں داخل ہوا. دونوں دیواروں کے ساتھ میز نما طویل شلفیں سی بنی تھیں، جس کے اوپر ماربل کے ٹکڑے پڑے تھے۔ ان سے ذرا سا اوپر سفید رنگ کی کیبنٹس تھیں جن کی کھڑکیوں میں شفاف شیشہ لگا تھا، پوری لیب میں عجیب و غریب چیزیں پڑی تھیں۔
یہ بو کیسی ہے؟ میں نے آگے بڑھتے ہوئے کہا. ابھی الفاظ میرے منہ میں ہی تھے کہ میری نظر اس چیز پر پڑی جس نے ایک لمحے کے لیے مجھے ساکن کر دیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میں سکندر سے مکمل طور پر غافل ہو گیا تھا، اگر وہ چاہتا تو مجھ پر حملہ کر سکتا تھا لیکن وہ چپ چاپ ہاتھ باندھے ماربل کی میز کے ساتھ ٹیک لگائے مجھے دیکھتا رہا۔ میں نے ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر اس چیز کو دیکھا. یہ آٹھ فٹ بائی چھ فٹ شیشے کا باکس تھا جس کے دو حصے تھے، اوپر والے حصے میں ایک انسانی ڈھانچہ پڑا تھا، اس کے نیچے والے خانے میں پیلے رنگ کی بڑی بڑی مکھیاں تھیں جن کے بھنبھنانے سے ہال میں عجیب سی آواز پیدا ہو رہی تھی۔
یہ بھی ایک پولیس والا ہے۔ میں بھی تمھاری طرح پولیس والوں سے نفرت کرتا ہوں۔ سکندر نے میرے پاس سے گزر کر فریج تک جاتے ہوئے کہا۔ اور اس میں سے پانی کی ایک بوتل نکال کر مجھے دی۔ حبس، گرمی اور بھاگ دوڑ سے میرا پیاس سے برا حال تھا، مجھے واقعی سخت پیاس لگی تھی۔ میں نے ایک گھونٹ میں ہی آدھی بوتل ختم کر دی۔ پانی کا ذائقہ کچھ کڑوا تھا۔
سکندر اب مکھیوں والے شیشے کے باکس کے پاس کھڑا تھا، ایک عجیب سی پراسراریت نے اس کے چہرے کا احاطہ کر رکھا تھا۔
کب سے کر رہے ہو یہ سب۔؟ میں نے بوتل کا ڈھکن بند کرتے ہوئے پوچھا۔
کافی سال ہو گئے ہیں۔
کتنے پولیس والوں کو مار چکے ہو۔۔؟
مجھے سو سے زیادہ گنتی نہیں آتی۔سکندر نے شیطانی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ اور مرنے والے سارے پولیس والے نہیں ہوتے، دھرتی کا جو بوجھ بھی ملے، میں اسے اس باکس میں ڈال دیتا ہوں۔
پولیس والوں سے محبت کی کوئی خاص وجہ ہے۔؟ میں نے سکندر سے اپنا فاصلہ مزید بڑھا دیا۔ یہ شخص میری توقع سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو رہا تھا۔
میرے دونوں بچوں کو دردناک موت مار کے میری زندگی کو برباد کرنے والا ایک پولیس والا ہی تھا، اس کو مارنے کے بعد بھی میرا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا، پھر میں نے اس جیسوں کو مارنا شروع کر دیا جو انسان کے روپ میں درندے ہیں، جو دوسروں کے بچوں کی جان کے لیے خطرہ ہیں۔ سکندر کی آنکھوں میں ایک آتشیں چمک لہرا رہی تھی۔
اسی وقت مجھے ایسے لگا کہ میں زمین پر گر جاؤں گا۔ مجھے ایک زور کا چکر آیا تھا، میں نے سر کو جھٹکا اور پانی کا ایک مزید گھونٹ لیا، مجھے اپنی ٹانگیں بےجان ہوتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔
اس ڈھانچے کا کیا کرتے ہو تم؟
سکندر کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی۔ اس نے نکڑ پر پڑے ایک بڑے قطر کے ڈرم کی طرف اشارہ کیا۔
یہ ہائیڈرو سیلفورک ایسڈ سے بھرا ہوا ہے جس میں، میں نے اپنا ایک کسٹم فارمولا مکس کر رکھا ہے، 12 سے 14 گھنٹے میں ہڈیوں کا نام و نشان بھی مٹ جاتا ہے۔
اور یہ مکھیاں۔؟؟ میں نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے کہا، کیونکہ ٹانگوں نے مزید میرا بوجھ اُٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔
سکندر کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی. اس نے بڑی محبت سے شیشے کے باکس کو باہر سے سہلایا۔ یہ ساؤتھ امریکہ میں پائی جانے والی ٹرائپو ہائپوگیا ہے۔ یہ بڑی ظالم مکھی ہے، نارتھ امریکہ میں پائی جانی والی واسپس سے دگنی خطرناک۔ اس کی خوبی اس کے پانچ دانت ہیں۔ تم نے یہ باکس دیکھا ہے، یہ بہت سپیشل باکس ہے، اس میں مکھیوں کو اوپر نیچے شفٹ کرنے کے لیے ہوا کے دباؤ کا سہارا لیا جاتا ہے، لاش ڈالتے اور نکالتے ہوئے مکھیوں کو نیچے دھکیل دیا جاتا اور باکس میں مکمل پارٹیشن کر دی جاتی ہے۔ یہ نیچے اس حصے میں تم ان کا چھتا دیکھ رہے ہو؟
میں نے بمشکل آنکھیں کھولتے ہوئے چھتے کو دیکھنے کی کوشش کی۔
یہیں پر ان کا زہر اکھٹا کیا جاتا ہے، میں نے اس کو نکالنے کے لیے بھی ایک محفوظ طریقہ اختیار کر رکھا ہے، زہر خود بخود شیشے کے اس چھوٹے سے گلاس میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ یہ ایسی رطوبت ہوتی ہے جو انسانی اعضا کو فوراً اندر سے گھلانا شروع کر دیتی ہے۔ میں اسے بے رنگ اور بےذائقہ بنانے کے لیے اس میں مزید کیمکل بھی استعمال کرتا ہوں، پھر اسے پانی یا جوس میں ڈال کر اپنے شکار کو پلا دیتا ہوں، سب سے پہلے شکار کا نیچے والا دھڑ مفلوج اور رگوں میں خون جمنا شروع ہو جاتا ہے، پھر دھڑ نکارہ ہو جاتا ہے اور زبان کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔
تم ٹھیک ہو۔۔؟
اس نے اکڑوں بیٹھ کر میرے گال تھپتپھائے۔
میں نے بمشکل اپنی آنکھیں پوری طرح کھول کر اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ میری آنکھوں دھندلا رہں تھیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ پیٹ کے اندر اعضا کو کوئی آری سے کاٹ رہا ہے۔ میں نے گن پر اپنی گرفت کو مضبوط کر کے چاہا کہ اس شیطان پر میگزین خالی کر دوں لیکن میرا ہاتھ بے حس ہو چکا تھا، میرے ہاتھ سے گن گر گئی جسے اس نے اٹھا کے اپنی بیلٹ کے ساتھ لگا لیا۔
صیح کہتے ہیں قطرے قطرے پر پینے والے کا نام ہوتا ہے، اب دیکھو نا، یہ خاص مشروب میں نے عظمیٰ کے بوائے فرینڈ کے لیے بنایا تھا۔ وہ کمبخت بھی اپنا کام نکلنے پر عظمیٰ سے شادی پر آمادہ نہیں ہے، بہانے بنا رہا ہے۔ میں نے عظمیٰ کو کہا تھا آج اس کو ساتھ لے آنا، اسے اس کے کیے کی سزا دیتے ہیں مگر اس سے پہلے ہی تم آ گئے۔ چلو اس کو زندہ ہی ڈال دیں گے اس باکس میں۔ پھر تمھاری باری ہے۔ تم فکر نہ کرو، میرے پاس کولڈ باکس بھی ہے، تمھاری لاش خراب نہیں ہوگی۔ آج میری بچیاں پیٹ بھر کر کھائیں گی۔ سکندر نے مڑ کر باکس میں مکھیوں کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا، اس لمحے مجھے وہ بالکل جنونی اور پاگل لگا۔
تھوڑی دیر میں باہر آہٹ ہوئی اور باتوں کی آواز آنے لگی۔ لگتا ہے عظمیٰ آ گئی ہے، اس کے پاس دروازوں کی چابیاں ہیں، یہ کہتا ہوا سکندر باہر کی طرف لپکا، جب اس نے دروازہ کھولا تو مجھے اس بائک والے نوجوان کے چہرے کی جھلک نظر آئی جسے میں نے کچھ گھنٹے پہلے پولیس سے بچایا تھا۔ اور اس کے ساتھ وہی دبلی پتلی لڑکی کھڑی مسکرا رہی تھی۔ اس کے بعد میرے دماغ میں موت کی تاریکی چھا گئی.