شامی مہاجرین اور ہماری ذمہ داریاں - صائمہ تسمیر

مہاجرت کی تکلیف کیا ہوتی ہے؟ ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنے کا دکھ کیا ہوتا ہے؟ یہ وہی بہتر جان سکتا ہے، جو ان حالات سے دوچار ہو چکا ہو۔ ہم روہنگیا مہاجرین کی اولاد، اپنے مظلوم شامی بھائیوں کا کرب بجا طور پر محسوس کرسکتے ہیں، جو ہماری طرح آج دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ امت مسلمہ کا ایک لہو رنگ خطہ، عرب اسپرنگ کی تباہ کاریوں کا شکار، سرزمین شام میں آج انسانیت سسک رہی ہے۔ سرزمین انبیاء کے باسیوں پر ان کی اپنی ہی زمین تنگ کردی گئی۔ ہنستے بستے شہر یکلخت کھنڈرات میں تبدیل کردیے گئے۔

حالیہ بربریت کے نتیجے میں 6 لاکھ سے زائد شامی مسلمان شہید کر دیے گئے اور 60لاکھ سے زائد افراد بےگھر ہیں۔ لاکھوں پیاروں کی شہادت کے بعد بچ جانے والے افراد کی زندگی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ جان بچانے کی خاطر مظلوم شامی مسلمان، مختلف ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ صورتحال کچھ یوں ہے کہ امریکہ و یورپ سمیت کئی ملکوں نے ان مہاجرین کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ان ظالموں سے کوئی یہ تو پوچھے کہ جب مہاجرین کو پناہ نہیں دے سکتے تو اپنی سازشیں بند کیوں نہیں کرتے؟

فی الوقت مہاجرین کو پناہ دینے والے ممالک میں ترکی سرفہرست ہے۔ 27 لاکھ سے زائد مہاجرین کا بوجھ ترکی پر ہے۔ ترکی اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے، انہیں اپنے آغوش میں سمیٹ رہا ہے۔ مگر بیک وقت لاکھوں افراد کی ضروریات زندگی کو پورا کرنا، ان کے مسائل کو حل کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کے لیے جہاں لانگ ٹرم منصوبہ بندی اور مالی وسائل کی ضرورت ہے، وہیں افرادی قوت بھی درکار ہے، جو خوف خدا اور احساس ذمہ داری کے ساتھ، مہاجرین کو خود کفیل بنانے کے منصوبوں پر کام کرے۔

یہ محض ترکی اور دیگر چند ممالک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک امت ہونے کے ناطے دنیا کے تمام مسلمان رشتہ اخوت میں بندھے ہیں ۔ نبی علیہ السلام نے امت مسلمہ کو ایک جسم کی مانند قرار دیا جس کے کسی عضو پر تکلیف ہو تو پورا جسم محسوس کرتا ہے۔ اسی تصور امت کو اقبال نے کچھ یوں بیان کیا...

چبھے جو کانٹا کابل میں
ہندوستان کا ہر پیر و جواں تڑپے

شامی مہاجرین کے دکھوں کا مداوا کرنا، بحیثیت مسلمان ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ کم سے کم درجے میں اتنا تو ضرورکرسکتے ہیں کہ ان کے لیے دعاؤں کا اہتمام اپنے اوپر لازم کرلیں۔ جب ایمان و یقین کے ساتھ، مسلسل شہنشاہ کا در کھٹکٹھایا جائے تو جواب ضرور ملا کرتا ہے۔ ہمارا یہ مانگنا کبھی رائیگاں نہ جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان مستند اداروں کے ساتھ حتی المقدور مالی تعاون کرنا، جو مہاجرین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔ حدیث کے مطابق جب کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے، اللہ پاک اس کی ضرورت پوری کر دیتے ہیں۔

مہاجرین کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ، ان کی اصل خدمت ان کے ایمان کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مختلف NGO's اور عیسائی مشنریاں ایسے حالات کو سنہری موقع سمجھتے ہوئے، اپنی محنت تیزتر کر دیتے ہیں۔ ان کا اولین مقصد مختلف حیلے بہانوں سے اہل ایمان کو ایمان سے تہی دامن کرنا ہے۔ اس کائنات میں ایمان سے بڑھ کر قیمتی شے کوئی نہیں۔ ہرقیمت پر اس کی حفاظت کو ممکن بنانا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہماری سستی و نااہلی کی وجہ سے خاکم بدہن، یہ ایمان کے لٹیرے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے تو یہ انتہائی ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ مخلصین کی جماعت یقیناً اس رخ پر بھی محنت کر رہی ہے لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ اس عمل کو تیزتر کیا جائے۔ اس کی بہترین صورت مہاجرین کی تعلیم و تربیت کا مؤثر انتظام کرنا ہے۔

اگر آج ترکی، انصار مدینہ کی یاد تازہ کرتے ہوئے، شامی مہاجرین کی آبادکاری اور ہر قسم کی خدمت کے لیے کوشاں ہے، تو اس مشکل وقت میں ہمیں بھی ترکی کو تنہا نہ چھوڑنا چاہیے۔ بلکہ وحدت امت کا ثبوت دیتے ہوئے دامے درمے سخنے ہر ممکن تعاون کرنا ہمارا فرض ہے۔ یہی دنیا و آخرت میں سرخروئی کا راستہ ہے ۔

Comments

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر

صائمہ تسمیر کا آبائی تعلق برما کے مسلم اکثریتی صوبے اراکان سے ہے۔ ان کے آبا و اجداد نے 70ء کی دہائی میں اراکان سے کراچی ہجرت کی، جہاں آپ پیدا ہوئیں اور تعلیم حاصل کی۔ آپ کا تعلق شعبہ تدریس و طب سے ہے۔ آجکل ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ ایک کالم نگار اور معلمہ ہیں اور اراکان کے موجودہ حالات کو دنیا تک پہنچانے کے لیے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com