وزیراعظم صاحب! وہ 68 لاشیں یاد ہیں - احسان کوہاٹی

’’بس سیلانی بھائی! آج تو آپ سے ملنا ہی ملنا ہے، آپ بولو گے میں سرینگر میں ہوں تو قسم سے میں وہاں بھی اپنی جل پری پر پہنچ جاؤں گا‘‘
رکشہ ڈرائیور ممتاز نے یہ بات کہی تو ازراہ مذاق ہی تھی لیکن اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ آج مل کر ہی رہے گا، سیلانی نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
’’دیکھو دوست ۔۔۔‘‘سیلانی اتنا ہی کہہ سکا تھا کہ ممتاز نے بات کاٹ دی
’’دیکھنے کے لیے ہی تو آ رہا ہوں، بس آپ بتاؤ بریک کہاں لگانی ہے ‘‘
’’یار! میں ایک مزدور آدمی ہوں کوئی سیٹھ صاحب تو ہوں نہیں، کوئی لیڈر شیڈربھی نہیں ہوں کہ میرا کوئی دفتر ہو، مجھے خبروں کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے جیسے تم سواریوں کے پیچھے لپکتے ہو، میں تمہیں کہوں کہ ایک بجے پریس کلب آجاؤ اور اس وقت مجھے کہیں اچانک جانا پڑ جائے تو تم نے منہ بھر بھر کر مجھے کوسنا ہے‘‘۔
’’بھائی! آپ گورا قبرستان میں ہو یا لیاری میں یہودیوں کی قبروں کے پاس، جہاں بولو گے میں پہنچ جاؤں گا اور جب تک آپ سے مل نہیں لوں گا، پٹھان کا چائے پراٹھا حرام ہے، اپنی بھوک ہڑتال ہے بس‘‘
’’اچھا تم ابھی ہو کہاں؟‘‘سیلانی نے ہتھیار ڈال دیے
میں ادھر لائٹ ہاؤس پر سواری چھوڑ کر کھڑا ہوں‘‘
’’اوکے گھنٹے بعد پریس کلب آجاؤ‘‘

ایک گھنٹے بعد پتلا دبلا ممتاز ہاتھ میں خاکی لفافہ لیے سیلانی کے سامنے تھا، پرجوش معانقے اور مصافحے کے بعد سیلانی نے ممتاز کو سامنے بیٹھنے کے لیے کہا اور ٹھنڈے پانی کا گلاس بھر کر دیا
’’ابھی تو گنے کا جوس پیا ہے خیر ۔۔ یہ بتاؤ سیلانی بھائی یار! اتنے نخرے کیوں کرتے ہو؟‘‘
’’کیا مطلب ؟‘‘
’’ملتے ہی نہیں ہو‘‘
’’وجہ بتائی تو ہے اور جو کام آسانی سے ہو سکتا ہے، اس کے لیے خود کو مشکل میں کیوں ڈالا جائے، جو بات کہنی ہو آسانی سے فون پر ہوسکتی ہے‘‘
’’بارہ تیرا سال ہوگئے ہیں آپ کے دیکھتے چلے گئے کو پڑھتے ہوئے، دل چاہ رہاتھا ملنے کو، فون پر وہ بات کہاں جو آمنے سامنے کی بیٹھک میں ہوتی ہے‘‘
’’یہ بات تو ہے، مہربانی آپ کی آپ نے زحمت کی، اچھا یہ بتاؤ چائے پیوگے یا ٹھنڈا؟‘‘
’’چائے منگوا لو یہ آپ کے لیے اسپیشل بالو شاہی لایا ہوں، ملنگی تازہ تازہ بنا رہا تھا، میں نے آوازلگا دی پاؤ بھر نکال دے‘‘ممتاز نے خاکی لفافہ سامنے رکھ کر چاک کر دیا۔
’’ارے اس تکلف کی کیا ضرورت تھی ‘‘
’’تکلف کیسا سیلانی بھائی، یہ تو دل کی بات ہے، آپ سے اپنا دل ملتا ہے ‘‘
’’شکریہ جناب بڑی محبت ہے آپ کی، ویسے کوئی کام ہے؟‘‘
’’کام تو ہے، آپ ایک کالم لکھو اور اس میں میرا میسج لکھو‘‘
سیلانی نے رس بھری میٹھی بالو شاہی کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے بھنویں اچکائیں ’’ کیسا پیغام؟
’’پرائم منسٹر میاں محمد نوازشریف کے نام پیغام‘‘
’’یہ کہ یوبر اور کریم آن لائن سروس بند کر دی جائے، ہمارے پیٹ پر لات پڑ رہی ہے۔۔۔‘‘
’’دھت تیرے کی ۔۔۔ ارے بھائی کمانے دو، نوکریاں پہلے کہاں ہیں، لڑکے بیروزگار پھر رہے ہیں، سب نے اپنا اپنا نصیب کمانا ہے، میں ان کی مخالفت نہیں کرتا، جب کالی پیلی ٹیکسیاں تھیں تب بھی اپنا نصیب مل رہا تھا ناں، پھر یلو کیب آئیں اور اتنی آئیں کہ پورے شہر کو پیلیا ہو گیا، تب بھی اپنا نصیب اسی رکشے سے مل رہا تھا، اب بھی ملے گا، میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی ٹینشن نہیں لیتا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کہنے - زرین تارڑ

’’پھر ؟‘‘
’’سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکے یاد ہیں؟ اس نے سنجیدگی سے پوچھا اور سیلانی چونک پڑا
’’یاں یاد ہیں، اڑسٹھ پاکستانی مسافر مارے گئے تھے‘‘
’’اٹھارہ فروری 2007ء مجھے اچھی طرح یاد ہے، سالوں نے بےگناہ مسافروں کو بارود سے بھون ڈالا تھا قیامت تھی قیامت۔۔۔ خیر اس کا ملزم بھی باعزت بری ہوگیا، منحوس کا عجیب سا نام تھا سوامی کرکے، اس کے بعد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہو، لکھتے بھی رہتے ہو، پھرکل بھوشن پکڑا گیا ۔۔۔‘‘سیلانی الجھ گیا کہ ممتاز کہنا کیا چاہ رہا ہے اس نے بات ممتاز کی بات کاٹ ڈالی
’’کہنا کیا چاہ رہے ہو‘‘
’’بھائی آپ کہنے دو تو کہوں ناں ۔۔۔ میں آپ صحافیوں جیسے لفظ تو نہیں لا سکتا، نو جماعت ہی پاس ہوں‘‘۔
’’معذرت آپ پوری بات کرو‘‘

’’سیلانی بھائی! ابھی ادھر پی سی ہوٹل میں وزیراعظم آئے ہوئے تھے، ہندو برادری کی کوئی ہولی شولی تھ،ی میں نے ان کی تقریر کینٹ اسٹیشن کے ایک ہوٹل پر سنی تھی، انہیں وہاں محمد رفیع بڑا یاد آ رہا تھا، کہہ رہے تھے کہ میری آواز بھی محمد رفیع کی طرح ہے، میرا سوال یہ ہے کہ انہیں محمد رفیع کیوں یاد آیا اور انہوں نے اس کا ذکر کیوں کیا ‘‘
’’یار! یہ کیا بات ہوئی، فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی‘‘
’’نہیں ہوتی تو کیا آہوں کراہوں اور سسکیوں کی کوئی سرحد ہوتی ہے؟ انہیں بارڈر پر روک لیا جاتا ہے؟ ان اڑسٹھ لاشوں پر اٹھنے والا ماتم کیوں کوئی بھول گیا؟ ان زخمیوں کی آہیں کیسے کسی کو یاد نہیں؟ سوامی آسیم نے اعتراف کیا تھا کہ وہ اس دہشت گردی میں ملوث ہے، پھر بھی اسے چھوڑ دیا گیا، اس لیے کہ وہ راشٹریہ سیوک سنگھ کا کچھ بڑا ہے، وزیر اعظم نے اس پر کیوں کچھ نہیں کہا؟ میں تو ترس گیا ہوں کہ وہ کل بھوشن کا کبھی نام ہی لے دیں، انہوں نے کبھی کلبھوشن کا ذکر کیوں نہیں کیا کہ وہ یہاں کیا کرنے آیا تھا۔ انہیں یاد آیا تو بارڈر پار کا محمد رفیع اور آپ ہی کے امت میں آیا تھا ناں کہ غلام علی کو انہوں نے پروگرام نہیں کرنے دیا، ہمارے فنکاروں کو وہ وہاں ٹکنے نہیں دیتے اور آپ کہتے ہو کہ فن کی سرحد نہیں ہوتی‘ ‘ممتاز نے جذباتی انداز میں اپنی بات مکمل کی اور کرسی پر ایک ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا، سیلانی غور سے اس پتلے دبلے منحنی سے رکشہ ڈرائیور کو دیکھنے لگا جس کا اپناوزن بمشکل پچاس کلو ہوگا لیکن اس نے بات پچاس ٹن وزنی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   انااورفنا - محمد ناصر اقبال

سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزم سوامی آسیم کا آئی ایس آئی نے نہیں لیا تھا، بھارتی تفتیشی اداے تحقیقات کے بعد اس خونیں سوامی تک پہنچے تھے، تحقیقات کرنے والوں کو ملنے والے شواہد اور سارے کھرے خونخوار سوامی تک لے کر جارہے تھے، لیکن وہ باعزت بری ہوگیا، ٹھیک ہے ہم مان لیتے ہیں کہ وہ ملزم نہیں تھا، ہم بھارتی عدلیہ کا احترام کرتے ہیں بھروسہ کرتے ہیں، لیکن ہم سوال بھی تو کر سکتے ہیں ناں کہ اڑسٹھ پاکستانی مسافروں کو گوشت کے لوتھڑوں میں بدلنے والا کون تھا؟ سمجھوتہ ایکسپریس کو میت گاڑی کس نے بنایا؟ یہ جرم بھارت کی سرزمین پر ہوا تھا، تفتیش تحقیق بھارتیوں کی ذمہ داری ہے، وہ بتائیں کہ ان پاکستانیوں کا قاتل کون ہے؟ وزیر اعظم صاحب کو سرحد پار کے خوش گلو محمد رفیع یاد ہیں لیکن ان پاکستانیوں کی لاشیں کیوں یاد نہیں؟ ان زخمیوں کی کراہیں اور چیخیں ان کے حافظے سے کیسے نکل گئیں؟ وہ بھارت میں چوری چھپے داخل نہیں ہوئے تھے، انہوں نے بھارت حکومت کی باقاعدہ اجازت سے واہگہ پار کیا تھا، ان کی جان و مال کی ذمہ داری بھارتی حکومت پر تھی، وہ انہوں نے پوری نہیں کی تو اس پر سوال کون اٹھائے گا؟ نئی دہلی کا حال یہ ہے کہ حریت پسند ان کے فوجیوں کو گھیر کر مارتے ہیں اور وہ پاکستان پاکستان چیخنا شروع کر دیتے ہیں، واقعہ پٹھان کوٹ میں ہوتا ہے اور ان کی انگلیاں اسلام آباد کی جانب اٹھ رہی ہوتی ہیں، یہاں تو ان کے ملک میں مہمان پڑوسی مارے گئے تھے اور ان کی تفتیش مکمل ہو کر نہیں دے رہی جو پکڑے گئے وہ بھی چھٹ گئے، یعنی خون نہ تھا کٹورہ بھرا پانی تھا جو بس گر گیا ۔۔۔ وزیر اعظم صاحب! ممتاز کا سوال جائز ہے آپ بارڈر پار کے خوش گلو فنکاروں کو ضرور یاد رکھیں لیکن ان کراہوں، آہوں اور تابوتوں میں آنے والے گوشت کے لوتھڑے بھی تو یاد رکھیں، آپ ہولی منانے والوں کے ساتھ ساتھ عید منانے والوں کے بھی تو وزیر اعظم ہیں۔ سیلانی نے سر ہلا کر ممتاز کی مکمل تائید کی اور اسے حکومت کی نالائقیوں پر برستا دیکھتا، رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔
ـ

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.