اسلامی اور مغربی تہذیب میں فرق - عادل لطیف

تہذیب رہن سہن وغیرہ کی ظاہری روایات اور مظاہر کے معنی میں سمجھاجاتا ہے، لیکن اس کی جڑیں افکار اور عقائد کی زمین میں ہوتی ہیں، جیسے اسلام اور ایمان
کسی کو بگاڑنا ہو تو اصل وار جڑ پر ہوتا ہے، لیکن یہ زود اور دیر اثر ہے، لیکن یہاں مزاحمت کا خطرہ رہتا ہے.
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ظاہر کو بگاڑنا شروع ہو جاؤ. یہ طریقہ بہت سست رفتار ہے، مگر مزاحمت کا خطرہ نہیں ہے، پتہ ہی تب چلتا جب دم نکل جاتا ہے.
یہی طریقہ ہمارے بارے میں اپنایا جارہا ہے.
مجھ سمیت کئی مولویوں کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ اس کی سنگینی کیا ہے.

مغربی تہذیب تازہ دم اور طاقتور ترین تہذیب ہے. انسانی تاریخ میں اس سے زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر تہذیب دیکھنے میں نہیں آئی. ہمارے یہاں جب دجالی تہذیب کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے مغربی تہذیب مراد ہوتی ہے. دجال دجل سے مآخوذ ہے، دجل دھوکہ کو کہتے ہیں، دجال کا مفہوم دھوکہ دینے والا ہے اور دھوکہ کی سب سے بلند ترین سطح یہ ہے کہ کوئی فرد، کوئی گروہ یا کوئی قوم باطل پر کھڑی ہوئی ہو اور اپنے آپ کو حق باور کراتی ہو، تو جب ہم مغربی تہذیب کو دجالی تہذیب کہتے ہیں، تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ مغربی تہذیب کی تمام بنیاد باطل ہے، لیکن مغربی تہذیب نے اپنے باطل نظریات کو حق باور کرانے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور پوری دنیا ان کے باطل نظریات کو حق مان کر زندگی بسر کرنے میں لگی ہوئی ہے- مغربی تہذیب کو شیطانی تہذیب بھی کہتے ہیں، کیونکہ شیطان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خدا کی نقل کرتا ہے اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ انسانوں کے اذہان اور ان کے قلوب پر باطل خیالات کو القا کرتا ہے اور ان کو باور کراتا ہے کہ یہی حق ہے. یہی معاملہ جدید مغربی تہذیب کا بھی ہے. ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تہذیب کی اصطلاح کو بہت سطحی معنی میں استعمال کرنے لگ گئے ہیں، یعنی جب ہمارے سامنے مغربی تہذیب کا ذکر کیا جاتا ہے تو مغرب سے متعلق بعض تصورات ہمارے ذہن پر حاوی ہو جاتے ہیں. بعض لوگ مغربی تہذیب کی علامت مغربی لباس کو سمجھتے ہیں. ایسا آدمی جو پینٹ شرٹ پہنے ہوئے ہو، ٹائی لگائے ہو، کلین شیو ہو، ہم سمجھتے ہیں یہ مغربی تہذیب کا نمائندہ اور اس کا علمبردار ہے، یا فحاشی و عریانی کا پورا سلسلہ جو مغرب سے برآمد ہوا ہے، اس سے متشخص کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ مغربی تہذیب صرف یہ ہے، بلاشبہ ہم تہذیبوں کو لباس، وضع قطع، تراش خراش کو لے کر بھی تہذیبوں کی تعریف کرتے ہیں لیکن تہذیب کو جس سطح پر بیان ہونا چاہیے، وہ لباس اور وضع قطع نہیں بلکہ کسی بھی تہذیب کی تعریف کو متعین کرنے کی بنیاد چند باتیں ہیں.

(1) اس تہذیب کا تصور الہ اور تصور خدا کیا ہے؟ اسلام کا تصور خدا یہ ہے کہ خدا ایک صاحب شعور ہستی ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا. مسلمان ایک خالق و مالک کے ماننے والے ہیں، اسی نے انہیں اور ساری کائنات کو پیدا کیا ہے. اس کے برعکس مغربی تہذیب نے خدا اور مذہب کے انکار کے بعد مادہ کو اپنا خدا بنا لیا ہے. اس کے نزدیک مادہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا لیکن یہ شکل بدل لیتا ہے، کبھی برف بن جاتا ہے، کبھی لکڑی بن جاتا ہے وہ لوگ مادہ کو صاحب شعور مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مادہ اپنے شعور کی بنیاد پر اشیاء کو تخلیق کرتا ہے.

(2) اس تہذیب کا تصور علم کیا ہے؟ اسلامی تہذیب کا تصور علم وحی ہے. مسلمان وحی کے مقابلے میں انسان کے تخلیق کردہ کسی علم کو فوقیت نہیں دیتے جبکہ جدید مغربی تہذیب کا تصور علم عقل ہے. تین ساڑھے تین سو سال انہوں نے اس طرح گزارے اور اب اس کی جگہ سائنس نے لے لی ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ جو چیز ہمارے مشاہدے اور تجربے میں آتی ہے، ہم صرف اس کے قائل ہیں اور جو بھی اس نظریہ کا قائل ہو جائے، مذہب اس کے لیے بےمعنی ہو جاتا ہے، اس لیے کہ مذہب کو سائنس سے ثابت کیا ہی نہیں جا سکتا، کوئی شخص لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعہ خدا کے وجود کو ثابت نہیں کرسکتا، ممکن ہی نہیں ہے جنت جہنم کا وجود، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا اور پھر نیکوں کو ان کی نیکی کا اجر جنت کی صورت میں ملنا اور بروں کو ان کی برائی کی سزا جہنم کی صورت میں ملنا، یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کو محض عقل سے سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے، یہ باتیں صرف وحی کے علم کے ذریعے سے ہی سمجھ آسکتی ہیں.

(3) اس تہذیب کا تصور تخلیق کیا ہے. مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ پوری کائنات رب العلمین کی تخلیق کردہ ہے اور خدا تعالی کے لفظ کن کہنے سے یہ کائنات اپنی جملہ تفصیلات کے ساتھ وجود میں آگئی. جبکہ جدید مغربی تہذیب کا تصور تخلیق ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے، جس طرح کبڑا چاہتا ہے کہ ساری دنیا کبڑی ہو جائے، اس طرح اس یہودی دانش ور نے چاہا اور دیگر یہودیوں نے اس نظریے کو پھیلایا کہ ہمارے آباؤ اجداد بندر اور خنزیر بنائے گئے تھے اور اس کا ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے، تو کیوں نہ ساری دنیا کو اس مغالطہ میں ڈالا جائے کہ ان کے آباؤ اجداد بھی دراصل بوزنے تھے اور یہ اتنا مضحکہ خیز نظریہ ہے کہ مسلمان تو شروع دن سے ہی اس کے قائل نہیں تھے لیکن سیکولر لوگ محض مسلمانوں سے بغض اور عناد کی بنا پر اس نظریہ کے قائل تھے اور اب خود اس کے فکری پیروکاروں کے ہاں بھی یہ اس قابل نہیں رہا کہ اس کا تذکرہ کیا جائے.

(4) اس تہذیب کا تصور نجات کیا ہے؟ انسان کی تگ ودو کا حاصل کیا ہے؟ مسلمانوں کے لیے کامیابی کا تصور آخرت میں کامیابی اور جنت کا حصول ہے، خواہ دنیا میں اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو جبکہ مغربی تہذیب کا تصور کامیابی مادی ترقی ہے. جس نے دنیا میں جتنی زیادہ مادی ترقی کی وہی کامیاب ترین انسان ہے، اور یہ تصور اس قدر عام ہوچکا ہے کہ عام لوگوں کو تو چھوڑیے، خواص بھی صاحب توقیر اس شخص کو سمجھتے ہیں جو زیادہ مال و زر والا ہے.

(5)اس تہذیب کا تصور انسان کیا ہے؟ اسلامی تہذیب انسان کو زمین پر اللہ کا خلیفہ اور اس کا نائب مانتی ہے، انسان کو اشرف المخلوقات گردانتی ہے، انسان پوری کائنات کا خلاصہ ہے، ایک مؤمن مسلمان کی حرمت کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے جبکہ مغربی تہذیب انسان کو حیوان سے زیادہ پہچانتی ہی نہیں ہے. مغربی تہذیب کے علم سیاسیات میں انسان ایک سیاسی حیوان ہے، علم معاشیات میں ایک معاشی حیوان ہے، علم نفسیات میں انسان مخصوص جبلتوں کے مجموعہ کا نام ہے، علم حیاتیات میں انسان محض ایک حیاتیاتی وجود ہے، اس تہذیب نے انسان کو مادیت سے آگے پہچانا ہی نہیں. اسی نقطہ نظر کی خرابی نے پوری انسانیت کو مادیت پرستی کی آگ میں جھونک دیا ہے.

ہمارا تصور انسان حق پر مبنی ہے اور انسان کو ایک ایسی فضیلت حاصل ہے جس کے آگے فرشتے بھی کچھ نہیں ہیں. مغربی تہذیب کے بارے میں ہمارا رویہ عقل وشعور پر مبنی ہونا چاہیے. اگر ہم مسلم ممالک میں اسلامی مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں تو ہمیں اس تہذیب سے کسی درجے میں سمجھوتہ کرتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا. ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمیں کس چیز کی مخالفت کرنی ہے اور کس چیز کو قبول کرنا ہے؟ محض اندھی مخالفت سے ہم انتہائی مطلوب چیزوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے اور بالکلیہ قبول کرنے سے ہم اس کے مضر اثرات سے بچ نہیں پائیں گے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */