بھانڈ پن اور میڈیا - پروفیسر سجاد حیدر

سنا اور پڑھا ہے کہ گئے وقتوں میں شرفا اپنے بچوں کو تہذیب سکھانے کےلیے بالا خانوں میں بھیجا کرتے تھے، جہاں نوجوان زبان کی درستی، اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ اور آداب محفل سیکھا کرتے تھے. پھر دور بدلا اور میڈیا چہار سو پھیل گیا، اب رقص و موسیقی سے لطف اندوز ہونے کے لیےکوٹھے پر جانا ضروری نہ رہا بلکہ ہر گھر میں ایک ڈبے کے اندر سب کچھ سمٹ آیا. ٹی وی نے ہر غریب امیر کو اس کی چاردیواری کے اندر سب کچھ مہیا کر دیا. فنون لطیفہ سے لے کر حالات حاضرہ تک ہر موضوع سے آگاہی حاصل کرنے کا نسخہ کیمیا سب کے ہاتھ آگیا. اب بات ٹی وی کے ڈبے سے بھی آگے نکل گئی اور ہر چیز ہتھیلی میں سمٹ آئی ہے. خلوت ہو یا جلوت، آنکھیں موبائل فون کی سکرین پر مرکوز ہیں. جو چاہیں دیکھیں اور جتنا مرضی چاہیں دیکھیں. پریشان ہوں یا محظوظ، یہ آپ پر منحصر ہے. ٹیکنالوجی کے اس سیلاب نے جہاں انسان کو بےتحاشا سہولیات باہم پہنچائی ہیں وہاں اخلاقی اقدار کے لیے بھی یہ سونامی بن چکا ہے.

پچھلے کچھ سالوں سے ایک نیا ٹرینڈ ہمارے کچھ مہربان ٹی وی میزبانوں نے متعارف کروایا ہے. اس کی ابتدا تو کسی ایک پروگرام سے ہوئی مگر پھر یہ وبا طاعون کی طرح ہر ٹی وی چینل پر پھیل گئی. میرا اشارہ بھانڈ پن، جگت بازی اور پھکڑ پن کا نیشنل میڈیا پر فروغ و ترویج ہے. شام ہوتے ہی کسی نہ کسی چینل پر چند سٹیج فنکاروں کو بٹھا دیا جاتا ہے اور پھر جو ان کے منہ میں آتا ہے، وہ بولے چلے جاتے ہیں. اس سے پہلے سٹیج اس معاملے میں بدنام تھا کہ وہاں پھکڑ پن اور بازاری لہجہ اپنایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ حضرات نہ تو خود اور نہ اپنی فیملیز کو سٹیج ڈرامہ کی طرف لے جانا پسند کرتے ہیں. بازاری پن ، ذومعنی فقرات و اشارات اور بےہودہ ڈانس یہ سب سٹیج کی پہچان بن گئے.

مڈل کلاس جو ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا گروہ ہے، اس کے لیے تفریح کا سب سے بڑا اور سستا ذریعہ ٹی وی ہے، اب آہستہ آہستہ اس میڈیم کو بھی لچر پن، بے ہودہ گوئی اور ذومعنی فقرات و اشارات کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے. ماں، بہن، بہنوئی، سالے جیسے رشتے ایک گالی بن چکے ہیں. ٹی وی کی سکرین پر اداکار جب ایک دوسرے کی جوتوں کے ذریعے مرمت کر رہے ہوتے ہیں تو مجھے بتائیے کہ نئی نسل کیا سیکھ رہی ہوتی ہے. آپ ایک چینیل بدل کر دوسرا لگاتے ہیں تو وہاں بھی یہی سب کچھ چل رہا ہوتا ہے. اگر اس کے اثرات کا جائزہ لینا ہے تو آپ کسی بھی سکول یا کالج میں طالب علموں کی یا نوجوانوں کی کسی بھی ٹولی کی آپس میں گفتگو کا مشاہدہ کر لیں. بچے جو کچھ سیکھتے ہیں، وہی سب کچھ دوسروں پر آزماتے ہیں، بازاروں میں چلے جائیں جہاں بھی تین چار نوجوان اکٹھے ہوتے ہیں وہاں صرف اور صرف جگت بازی آپ کو ملے گی. بہت کم کوئی سنجیدہ گفتگو آپ کو سننے میں ملے گی، اساتذہ حضرات بھی اس مشق میں کسی سے پیچھے نہیں بلکہ چار قدم آگے نظر آئیں گے.

کہتے ہیں بچے گنبد کی آواز ہوتے ہیں، جو آپ گنبد کے اندر کھڑے ہو کر کہیں گے، وہی الفاظ لوٹ کر آپ کی طرف آتے ہیں. نوجوان نسل ویسے بھی نقال ہوتی ہے، جب روزانہ کی بنیاد پر گھٹیا مذاق اور جگتیں بچوں اور نوجوان نسل کے کانوں میں ڈالی جائیں گی تو آپ ان سے سنجیدہ اور شائستہ گفتگو کی توقع کیسے کر سکتے ہیں. آپ کہیں بھی نوجوانوں کی محافل میں بیٹھ کر دیکھیں، کہیں ادب پر گفتگو ہوتی ہے نہ فلسفہ پر، اور نہ سائنس اور نہ مذہب موضوع گفتگو ہے. اگر ہے تو پھکڑ پن اور گھٹیا پن، ایک دوسرے کے مقدس رشتوں کے حوالے سے ذومعنی گفتگو. آخر کیا سکھا رہے ہیں ہم اپنے بچوں کو. اور جب اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں تو ہمارے تلووں میں آگ لگ جاتی ہے. ہم اپنے بچپن اور جوانی کی محفلوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم بہت ہی اعلی اقدار کے پاسدار تھے. حضور والا آپ کے بزرگوں نے آپ کو تہذیب سکھائی اور اب آپ نئی نسل کو کیا سکھا رہے ہیں، پھکڑ پن.

میڈیا پرسنز اس طریقے سے اپنے بنک اکاونٹس کو تو بھاری بھرکم بنا رہے ہیں لیکن قوم کے اخلاق کا جو دیوالیہ نکال رہے ہیں اس کا احساس دانشور حضرات کو ہے نہ ہمارے قومی رہنماؤں کو. خدارا قوم کی حالت پر رحم کھائیے، کیا سکھا رہے ہیں آپ؟ کیا دے رہے ہیں آپ؟ جو زبان بچے بازاروں اور چوکوں میں سیکھتے تھے اور جس سے بچانے کے لیے مہذب لوگ اپنے بچوں کو چوک پر جانے اور بیٹھنے سے منع کرتے تھے، وہ زبان و بیان آپ نے گھر کے اندر مہیا کرنے کا سامان کر دیا ہے. دنیا جہاں میں ذرائع ابلاغ اپنی قوم کی تربیت کرتے ہیں اور ہمارا نابالغ میڈیا اپنی قوم کے افراد کے اندر موجود ہر اچھی بات اور روایت کو ملیامیٹ کرنے پر تلا ہے.

اس میں کوئی شک نہیں کہ طنز و مزاح ادب اور فنون لطیفہ کا ایک اہم حصہ ہے لیکن مزاح اور پھکڑ پن میں بہرحال ایک فرق ہوتا ہے. جگت بازی ہمیشہ سے ہمارے معاشرتی مزاج کا ایک حصہ ہے. لیکن اس کو جو فروغ ان دنوں مل رہا ہے، لگتا ہے بہت جلد دیگر تمام فنون لطیفہ کی جگہ صرف یہی فن رہ جائے گا. کچھ خاص خاندان اور افراد ہوتے تھے جن کو خاص مواقع پر بلا کر ان کی گفتگو سے حظ اٹھایا جاتا تھا. لیکن اب جس طرح اس بھانڈ پن کو ہر گھر کا حصہ بنانے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے، وہ صرف اور صرف ناعاقبت اندیشی اور جہالت کو فروغ دینے کے مترادف ہے، اور تو اور، اب پارلیمنٹ ممبران بھی ایک دوسرے کو ذومعنی الفاظ سے پکارتے اور جگت بازی کرتے ہیں. بلکہ پارلیمنٹ میں مرد تو مرد اب تو خواتین بھی اس پھکڑ پن اور جگت بازی کا نشانہ بن رہی ہیں.

اس ضمن میں ہم میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور دیگر ذمہ داران سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ازخود اپنے لیے کوئی ضابطہ اخلاق متعین کر کے اس کی پاسداری کریں گے. ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنی روش بدل سکتے ہیں. والدین کا بھی فرض ہے کہ ایسے چینلز اور پروگرامز کا بائیکاٹ کریں اور اس کے خلاف باقاعدہ ایک تحریک چلائیں اور ان پروگرامز کے کرتا دھرتاؤں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے پروگرامز کے فارمیٹس کو تبدیل کریں.

Comments

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر

پروفیسر سجاد حیدر پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں. اپنےاپ کو لیفٹ کے نظریات سے زیادہ قریب پاتے ہیں. اپنے لوگوں کے درد کو محسوس کرتے ہیں. ایمان کی حد تک یقین کامل کہ ان تمام دکهوں کا مداوا، تمام مسائل کا حل بامقصد علم کے حصول میں مضمر ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.