اپریل فول کا بیانیہ - ام الہدیٰ

نہایت بے یقینی کی سی کیفیت تھی جب یہ خبر سوشل میڈیا پر نظر سے گزری۔ تصدیق کے لیے مختلف ویب سائٹس کا رخ کیا تو ہر جگہ یہ خبر نظر آئی۔ خواب کا گمان گزرا تو اردگرد سے پوچھا اور بتایا گیا کہ سچ میں آئی ہے یہ خبر۔

لمحے بھرکے لیے تمام زخم بھرتے محسوس ہوئے۔ خوشی کی انتہا تھی کہ ہر ایک کو چیخ چیخ کر بتانے کو دل کیا کہ دیکھو، یہاں اس دیس میں بھی کسی کو خیال آگیا ہے، اقدار کی خوبصورتی کو نئی نسل تک پہنچانے کا۔ فیس بک پر اپنی خوشی کا اظہار کیا تو ایک کمنٹ ملا کہ کہیں یہ اپریل فول کی تیاری ہی نہ ہو۔!

وزیر ہائیر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے اعلان کی خبر تھی کہ پنجاب بھر کے سرکاری اداروں میں حجاب والی طالبات کو 5 اضافی نمبر دیے جائیں گے۔ اس اعلان کا دوسرا قابلِ ذکر حصہ یہ تھا کہ تمام اساتذہ اپنے لیکچر کا آغاز کرنے سے پہلے ایک حدیثِ نبوی سنائیں گے۔ آپ خود ہی بتائیے کہ کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہ جس کی آدھی سے زیادہ آبادی اس کو غیر اسلامی پاکستان کہنے پر اصرار کرتی نظر آتی ہے کہ یہاں سے اسلام کا سایہ اٹھتا جا رہا ہے، وہاں ایک ایسا حکومتی اعلان ہونا، کیا کوئی معمولی بات تھی؟ یہی نتیجہ نکلا تھا اس خبر کا کہ ہر طرف ایک ارتعاش برپا ہوتا گیا۔

خبر ’’حجاب پالیسی‘‘ سے متعلق تھی اور کئی چہرے ایک ہی آن میں بےحجاب ہونے لگے۔ جہاں حجاب سے محبت رکھنے والے خوشی سے سرشار نظر آنے لگے، وہیں سیکولر طبقے میں ایک آگ تھی جو پھیلتی جا رہی تھی۔ الحمدللہ اور انا للہ کی صدائیں ساتھ ساتھ بلند ہونے لگیں۔ چیخیں واقعتاََ سنائی دینے لگیں۔ کہیں شور تھا کہ اللہ اس حکم کا نفاذ بھی جلدی ممکن بنا دے، اور کہیں ہنگامہ ہونے لگا کہ یہ زیادتی ہے، امتیازی سلوک ہے، لبرلزم کا جنازہ ہے، زبردستی ہے، ہم لبرلزم کا کفن نہیں پہنیں گے 5 نمبروں کی خاطر۔۔! وغیرہ وغیرہ

یہ بھی پڑھیں:   حجاب.....عورت کا آہنی حصار.!! ثمینہ اقبال

اور ابھی ہنگامہ درمیان میں ہی تھا، دونوں طرف بے یقینی عروج پر تھی، تکلیف اور خوشی کے درمیان سہی سے تصادم بھی نہ ہو پایا تھا، دونوں طبقات کے درمیان کی لکیر ابھی مکمل بھی نہ ہو پائی تھی کہ ہماری محب وطن اور امن پسند حکومت کی جانب سے اس اعلان کی تردید کی خبر آگئی۔ اور خوشی اور تکلیف یقین میں تبدیل ہو کر اپنا رنگ دکھانے سے پہلے ہی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔

یہ مذاق ایک غلطی کم اور ایک پلان زیادہ نظر آتا ہے۔ اس حکم نامے کی افادیت اور حجاب کی روایت پر اس کے اثرات ایک الگ بحث ہے۔ مگر ہمیں اس بات کو ماننا پڑے گا کہ یہ مذاق پوری قوم کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس حکم کے حق میں جھومنے والوں کے جذبات کے ساتھ جہاں کھیلا گیا، وہیں حجاب سے نفرت کرنے والوں کو بھی پریشانی میں مبتلا کیا گیا کہ جس سے حجاب سے نفرت میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

کیسے مانا جائے کہ یہ ایک غلطی تھی جبکہ وزیر ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے کوئی معذرتی یا وضاحتی بیان تک نہ آیا اور محض بےدردی سے تردید کر دی گئی؟ ذرا تصور کیجیے کہ ایسا ہی ایک مذاق اگر پارلیمنٹ کے ایوان میں کیا جاتا اور تمام سیاسی شخصیات کے لیے اعلان کیا جاتا کہ جو ممبر اسمبلی میں وقت پر آئے گا اور پابندی سے آئے گا، اس کو 5 فیصد زائد تنخواہ دی جائے گی۔ اور پھر کچھ دیر کے بعد اس حکم کو واپس لے لیا جاتا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے، تو اس وقت اسمبلی جو منظر پیش کرتی، اس کا اندازہ لگانا کسی بھی ذی شعور کے لیے مشکل نہیں ہے۔

اور اب اس سلگائی گئی آگ کو بھڑکنے کا موقع دے دیا ہے کپتان خان کی محبِ وطن جماعت نے۔ پہلے پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کی کہ تمام خواتین کو لازمی حجاب اوڑھایا جائے۔ پہلا گمان یہی گزرا تھا کہ شاید شریف صاحبان سے مخالفت کا بیان آ گیا مگر شاید فائدہ ہو ہی جائے، ان کے سیاست کے کھیل میں حجاب سے محبت کرنے والوں کا۔ مگر کیا کیجیے کہ حرام سے بھرے پیٹ پر نیند بھی ایسی طاری ہوا کرتی ہے کہ غیرت بھی سو جاتی ہے۔ اور مچی کچھ ایسی دہائی، کہ فورا سے پہلے ایک بار پھر تردید کر دی گئی کہ قرارداد میں ’نہ‘ لکھنا بھول گئے تھے!

یہ بھی پڑھیں:   حجاب.....عورت کا آہنی حصار.!! ثمینہ اقبال

کیسا کھیل ہے جو یہ سیاست کے نام پر قوم کے جذبات کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے؟ کیوں حجاب کو ہی متنازعہ بنانے پر تلے نظر آنے لگے ہیں، ہمارے تمام لیڈران؟ کیا مذاق کے لیے صرف ایک دینی قدر ہی باقی رہ گئی ہے؟ یقینا بہت سے جوابات ملنے والے ہیں یہ سوال کرنے والوں کو کہ ہمارے ملک میں حجاب کی بہت قدر کی جاتی ہے، یہاں سب آزاد ہیں.

Comments

ام الہدی

ام الہدی

ام الہدیٰ ایم فل لنگویسٹکس کی طالبہ ہیں۔ پبلک اسپیکر ہیں۔ لکھنا، اور سوشل میڈیا کے آلٹرنیٹ استعمال کو فروغ دینا مشغلہ ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے مسائل کی وجوہات کو اجاگر کرنا اور ان کے سدِباب کی کوشش کرنا ان کا عزم ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.