وہ لمحے جو شکایتیں کرتے گزرے تھے – نیر تاباں

وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ دور پہاڑیوں کے پیچھے ڈوبتا سورج۔ شام کا ملگجا اندھیرا ہمیشہ اسے اداس کر دیتا تھا اور اب تو پہلے سے بھی زیادہ۔ خاموشی اتنی کہ سہی نہ جائے۔ مغرب کی نماز پڑھتے یونہی ذہن پیچھے کسی منظر میں جا الجھا۔ وہ سجدے میں تھی اور اس کا بیٹا اس کی کمر پر چڑھ رہا تھا۔ اسے خیال آیا تھا کہ سجدہ طویل کر دوں لیکن بچے کو نہ اتاروں تو سنت زندہ کرنے کا ثواب مل جائے گا۔ بیٹے نے اپنے ننھے بازو اس کے گلے میں حائل کر دیے تھے اور وہ اسے کمر پر اٹھائے ہی باقی کی نماز ادا کرنے لگی تھی۔ اف۔۔ ذہن کو جھٹک کر وہ نماز میں دھیان لگانے لگی۔ نماز پوری ہو چکی تھی۔ ذہن ماضی کی ڈوری میں ہی الجھا تھا۔ ننھا بیٹا جائے نماز پر ساتھ ہی بیٹھا تھا۔ اس نے غیر ارادی طور پر اپنے بائیں جانب دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔

مردہ قدموں سے چلتی وہ آتشدان کے سامنے رکھی آرام کرسی پر بیٹھ گئی۔ جھولا جھولتے جھولتے ڈائننگ روم سے اسے اپنی آواز آئی، تو اس نے آنکھیں کھول کر ڈائننگ روم کی طرف نگاہ ڈالی۔ کھانے کی ٹیبل پر وہ اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھی تھی۔ سامنے کوئی کتاب رکھی تھی۔ وہ دونوں کھانا کھا رہے تھے، ساتھ ساتھ کتاب بھی پڑھ رہے تھے۔ بیٹے کو حسبِ معمول کھانا آہستہ کھانے پر ڈانٹ‌ بھی پڑی تھی۔ اس کا جی چاہا فوراً جا کر اسے سرزنش کرے، اسے سمجھائے کہ بچے پل بھر میں بڑے ہو جاتے ہیں. وہ زیرِ لب بولی، اسے ڈانٹو نہیں، دھیمے قدموں سے چلتی چلتی اب ڈائننگ روم تک آ گئی تھی۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ خالی کرسیاں اور خاموشی۔ وہ بغور ڈائننگ ٹیبل کو دیکھنے لگی۔ اب وہاں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کے نشان نہیں تھے۔گھر کتنا صاف ستھرا رہتا تھا اب۔ قالین پر ہفتہ پہلے کی گئی ویکیووم کی سیدھی لائینیں ابھی تک موجود تھیں۔ اپنے خیالوں میں یونہی گم تھی کہ ماضی سے اس کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ ’’ابھی گھر صاف کرو، ابھی گندہ ہو جاتا ہے۔‘‘ وہ بچے پر چلا رہی تھی۔ بیٹے نے شاید جوس کارپٹ پر گرا دیا تھا۔ بیٹے کے رونے کی آواز آئی تو دل تھاما اور صاف ستھرے گھر پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی۔ اب گھر کو گندہ کرنے کے لیے تھا کون؟ پنچھی ایک ایک کر کے اڑان بھر گئے تھے۔

رات کے کھانے کا وقت ہونے کو تھا۔ پچھلے دن کا کھانا کھا کر سنک میں رکھی دو پلیٹوں پر نگاہ پڑی۔ شام کی چائے کی دو خالی پیالیاں بھی رکھی تھیں۔ جھریوں والے ہاتھوں نے آہستہ آہستہ برتن دھونے شروع کیے۔ آخر تھے ہی کتنے؟ ذہن اب بھی ماضی کی ڈور میں الجھا تھا۔ ’’سارا دن برتن ہی دھوتے رہو یہاں، مجال ہے جو دو گھنٹے بھی سنک خالی مل جائے؟!‘‘ پیالی کھنگالتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ اس کی نم آنکھوں میں منظر دھندلا رہا ہے۔ فرمائشیں کر کے رنگا رنگ کھانے بنوانے والا گھر میں کوئی تھا ہی نہیں، برتن دھونے کے کئی گھنٹے بعد تک اب سنک خالی ہی رہتا تھا۔

دن تو جیسے تیسے گزر جاتا تھا، شام اب گزر کر نہیں دیتی تھی۔ بوجھل دل لیے کھڑکی کے پاس چلی آئی۔ آوازیں پھر سے آنے لگی تھیں۔ وہ بیٹے کو ہوم ورک کرواتے ڈانٹ رہی تھی۔ ’’ابھی سیپارہ بھی پڑھانا ہے اور آپ کا ہوم ورک ہی ختم نہیں ہو رہا۔ ابھی نہلانا بھی ہے آپ کو۔ اف شام تو ایسے پر لگا کر گزر جاتی ہے کہ بس۔‘‘ اس نے ایک اداس نظر گھڑی پر ڈالی۔ سوئیاں رینگ رہی تھیں۔ ساڑھے سات بجے تھے۔ کتنی ہی ساعتیں پہلے وقت دیکھا تو سات بیس تھے۔ بچوں کے ساتھ وقت کیسے آسانی سے گزر جاتا تھا، اب تو لمحہ لحہ بوجھ تھا جیسے۔

دل آج بےطرح اداس تھا۔ بیٹا دوسرے شہر یونیورسٹی چلا گیا تھا۔ دن میں ذرا سی دیر حال احوال جتنی بات ہوتی تھی۔ وہی اس کی کل کائنات تھا۔۔ وہ دیوار پر لگی اس کی تصویروں کی طرف دیکھنے لگی۔ ایک تصویر میں وہ بمشکل چند ماہ کا تھا۔ بےاختیار جی چاہا ہاتھ بڑھا کر ان گول گول گالوں کو چھو لے۔ آنسو اب ایک تواتر سے آنکھوں سے گر رہے تھے۔ اسے بچے کے ساتھ کیے رتجگے یاد آ رہے تھے۔ ’’کب یہ بڑا ہو اور میں سکون کی نیند سو سکوں۔ آٹھ گھنٹے کی نیند تو اب خواب ہوئی۔‘‘ وہ جھنجھلائی ہوئی آواز اس کی اپنی ہی تھی۔ پتہ نہیں فون پر کس سے بات کر رہی تھی۔

سامنے الماری میں اس کی پسند کی کتابیں ترتیب سے رکھی تھیں۔ زیرِ مطالعہ کتاب انگیٹھی کے اوپر مینٹل پر اوندھی رکھی تھی۔ بوجھل دل اور بہتے آنسوؤں کے ساتھ وہ پھر سے آرام کرسی پر بیٹھ گئی۔ کتاب کھول تو لی لیکن آوازیں پڑھنے بھی کہاں دے رہی تھیں۔ ’’اب کہاں کوئی کتاب پڑھی جاتی ہے بھئی۔ بیٹا بار بار بیچ میں کوئی بات کر دیتا ہے، تسلسل ہی ٹوٹ جاتا ہے۔ میں نے تو پڑھنا ہی چھوڑ دیا۔‘‘ ہاتھ میں پکڑی کتاب پر ایک آنسو گرا تھا۔ اب وقت بھی تھا، کتابیں بھی تھیں، خاموشی بھی، کوئی ٹوکنے والا بھی نہیں۔ تسلسل پھر بھی نہیں بن پا رہا تھا۔۔ منظر ابھر رہے تھے، تحلیل ہو رہے تھے۔۔۔ وہ لمحے جو شکایتیں کرتے گزرے تھے، اب وہی یاد بن کر دامن بھگو رہے تھے۔

Comments

FB Login Required

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

Protected by WP Anti Spam