اٹھو نا! مجھے تمہاری ضرورت ہے (3) – اسری غوری

رات کے تیسرے پہر جب ہر اک نیند کی وادیوں میں غرق تھا، رات خود بھی تھک کر نڈھال ہوکر اک نیند لینے کو دنیا و مافیا سے بےخبر ہو رہی تھی، عین اسی وقت آسمان کے آخرے کونے پر صدائیں لگاتی رب کی ذات
’’کوئی ہے جو مجھ سے مانگے، اور میں اسے عطا کروں‘‘
آسمان پر رب کی صداؤں کا جواب کوئی فیملی وارڈ کے کمرہ نمبر تین میں سجدے میں سسکیوں کے ساتھ دے رہا تھا، اس رب کو اپنی داستاں سنا رہا تھا جو پہلے سے سب جانتا ہے، پھر بھی چاہتا ہے کہ اسے تنہائیوں میں پکارا جائے، جب پکارا جائے تو بس پھر ہر اک سے کٹ کر اسی کا ہو کر مانگا جائے ۔ وہ بھی تو اپنے ہر راز اور ہر دکھ اسی کو سنایا کرتی، آج بھی اس کی سسکیاں، اٹھے ہوئے ہاتھ اور خاموش فریاد رب کے اور بس اسی کے درمیان تھیں، نجانے کتنے ہی پہر یونہی گزر چکے تھے۔۔

بابا کہتے اس رب کی ادائیں وہی جانے کہ خود سے ملنے کے لیے تنہائیوں اور یکسوئی کی شرط لگا کر پھر مانگنے والے کو اس بات کی آزادی سونپ دی کہ اب جو مانگنا ہے وہ مانگ لو، وہ تو کبھی یہ بھی نہیں کہتا کہ میرے پاس آکر اب خبردار جو کسی اور کی بات کی، بس جتنی دیر رہو میری ہی باتیں کرتے رہو۔ ٹھیک ہی تو کہتے بابا، جو معراج پانے والے ہیں وہ تو اس رب سے بس اسی کو مانگتے اور اسے پا لیتے ہیں، ہاں! کچھ ایسے بھی جو محبوب تواسی کو مانتے مگر پھر بھی رب کی شان کہ اس کے بندے اسی سے رو رو کر کسی اور کو مانگتے ہیں، اور وہ رب خفا نہیں ہوتا، سنتا چلا جاتا نوازتا چلا جاتا ہے ۔۔ جبکہ انسان ۔؟؟

رضا ایک بار میری بات سن لو! میں نہیں رہ پاؤنگی تمہارے اس رویے کے ساتھ، مجھے یوں روشنیوں کی امید دلا کر ہمیشہ کے لیے اندھیروں کے حوالے مت کرو، میرا قصور بتا دو، میں نے تم پر اعتبار کیا، تمہارے ہر کہے کو سچ مانا، تمہاری ذات تمہاری پسند کو ہر چیز پر مقدم رکھا، خود کو سراپا تمہاری پسند میں ڈھالنے کی ہر ممکن سعی کی۔
ہاہا ۔۔۔۔ سعی کی اور تم نے، وہ اس کی محبت کا تمسخر اڑا رہا تھا۔ تم نے کس دن میری بات مانی تم تو ہمیشہ اپنی کرتی رہیں تمہیں ضرورت ہی کیا ہے، میری پرواہ کرنے کی تمہارے کالج کے فینز بہت ہیں، تم ان کی فیورٹ میم ہو، تمہیں کس چیز کی کمی؟ محبتیں تمہارے قدموں میں پڑی رہتی ہیں، ایک جہاں ہے تم پر فدا، اسی لیے تو تمہیں میری محبت وقتی لگتی ہے، سب کچھ فریب لگتا ہے ۔۔۔ الفاظ تھے کہ روح کوگھاؤ لگاتے زخم ۔۔۔۔ اور وہ آہ بھی نہ کرسکتی تھی ۔۔۔
ابھی دو دن پہلے ہی تو سارا دن بھوکا رہنے کے بعد جب رضا کے گھر آنے پر اس نے کھانا لگانے کا پوچھا تو رضا کے جواب نے ( نہیں یار میں کھا کر آیا ہوں، ڈیلیگیشن آیا ہوا ہے نا ایک ویک سےم بس اسی کے ساتھم آج بھی تم نے آج بھی نہیں کھایا) اسے اک دم دکھی اور مشتعل کردیام اس نے پچھلے پورے ہفتے میں اپنے لیے بالکل وقت نہ نکالنے پر غصے میں رضا سے شکایت کی تھی کہ آپ کی ساری محبت وہ دیوانہ پن بس وقتی تھا، اب آپ کی بلا سے میں سارا دن گھر پر اکیلی رہوں، کچھ کھاؤں یا نہ کھاؤں، آپ کو کیا پرواہ ہے، بس آفس اور آفس ہی سب کچھ ہے ۔۔۔ اور وہ غصے میں سو گئی تھی. رضا نے بھی اس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا مگر اب جس طرح وہ پھٹا تھا بجائے اس کے کہ وہ اس کو اور اس کی محبت کو سمجھتا، اس نے تو الٹا اس پر اتنے سارے الزامات دھر دیے تھے۔
اس نے اپنی ہتھیلیوں سے اپنے بہتے آنسؤوں کو صاف کیا اور پھر اس کے قریب آکر بولی ، رضا میں تم سے تمہارے کسی الزام کے جواب میں کچھ نہیں کہوں گی، میرا مقصد کبھی تمہاری محبت پر شک کرنا نہیں تھا، میں تمہاری محبتوں کی، تمہاری عادی ہوگئی تھی، مجھے بہت مشکل لگتا تھا سار سارا دن تنہا رہنا، تمہاری آواز تک سننے کو نہیں ملتی تھی۔ میں سمجھی تھی میری شکایت میرے غصے کے جواب میں تم میری زیادہ فکر کرنے لگوگے، مجھے فون کر کے کھانے کا کہوگے، خود باہر کھا کر بھی آؤگے تو میرے ساتھ ٹیبل پر بیٹھ کر مجھے کھانے کا کہوگے، مگر میں محبتوں کے کھونے کا دکھ جانتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ رضا مجھ سے غلطی ہوئی، میں اب کبھی تم سے کوئی شکایت نہیں کروں گی، میں خود کو ایڈجسٹ کرلوں گی ۔۔ تمہیں میری کسی بات سے دکھ پہنچا ہے، میرے کسی رویے سے تکلیف پہنچی ہے، میں تم سے معافی مانگتی ہوں، مجھے معاف کردو۔ شدت کرب سے اس کی آنکھیں بند تھیں، لرزتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ رضا کے سامنے بندھے تھے.
اس کے آنسو اس کے اٹھے ہوئے ہاتھوں میں بھر رہے تھے، وہ آگے کچھ نہیں سوچ پائی تھی، رات اپنے تمام تر اندھیروں کے ساتھ دھیرے دھیرے سرک کر اب سحر کی چوکھٹ پر سر ٹیک دینے کو تیار تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شانی شانی تمہاری سی وی اور پیپرز دو جلدی ۔ سارا آنافانا شور مچاتی گھر میں داخل ہوئی تھی۔
کیوں بھئی کیا ہوا ہے، مجھے نہیں کرنی کوئی جاب واب ۔۔شانی نے اس کا مقصد بھانپ کر کچن سے ہی جواب دیا ۔۔
لڑکی تم سے جتنا کہا جائے بس اتنا ہی کیا کرو، جلدی دو واپسی پر تفصیل بتاتی ہوں، سارا بھی سدا کی ضدی ۔۔
شانی کو اس کے سامنے ہمیشہ ہی ہتھیار ڈالنے پڑتے تھے.
اس نے وہیں سے آواز لگائی، جاؤ میری سٹڈی ٹیبل کی سب سے نیچے والی دراز میں رکھی ہیں ساری فائلز، چیک کر کے نکال لو خود، مجھے کام کرنا ہے۔
سارا دوڑتی ہوئی اوپر گئی اور ساری دراز اس کے سامنے تھی۔۔ ترتیب وار رکھی ہر فائل پر لکھا نام سارا کو اپنی مطلوبہ فائل تلاش کرنے میں ذرا بھی مشکل نہیں پیش آئی۔۔ ساری فائلز واپس رکھتے، اس کی نگاہ ایک دم نیچے دبی فائل پر پڑی جس پر لکھا تھا ’’Shazina's Medical File‘‘ ایک دم ہی اس نے اس کو کھول لیا اور پہلا ہی ڈاکٹر ثاقب کا لیٹر ہیڈ اور اس پر جو لکھا تھا، وہ اسے ہلا دینےکے لیے کافی تھا
اففف میرے خدایا! یہ کیا؟ وہ ایک ایک کر کے ساری رپورٹس دیکھتی گئی، دواؤں کے نسخے ۔۔۔ اس کو کینسر تھا اور اس لڑکی نے سب سے یوں چھپا دیا تھا، کیسے کیسے دکھ وہ تنہا جھیل رہی تھی، سارا کی آنکھوں میں آنسو تھے. ’’یا اللہ بس اب اس پر رحم کردے‘‘ اس کے دل سے دعا نکلی۔ اس نے اس کی سی وی والی فائل کے ساتھ وہ فائل بھی نکال لی اور واپس سب ویسے ہی رکھ دیا. نیچے آئی اور جاتے ہوئے لاؤنج سے ہی آواز لگائی، شانی میں جانے لگی ہوں، جلدی میں ہوں، شام میں بات ہوگی.
ارے رکو تو! کچھ کھا تو لو، پانی ہی پی لو ۔۔ مگر سارا وہاں تھی کب، وہ ایسی ہی تھی، شانی کی اور اس کی دوستی بچپن سے ان کے ساتھ ساتھ بڑی ہوئی تھی.
۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر ثاقب! اس لڑکی نے تو اپنی فائل تک چھپا دی تھی، مگریہ بتائیں اب کیا اس کا آخری حل کیمو ہی ہے؟ سارا رافع کے ساتھ ڈاکٹر ثاقب کے آفس میں یٹھی تھی.
میں نے شازینہ صاحبہ سے کہا تھا کچھ ٹیسٹ فوری کروانے ہیں، اس کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے، بعض اوقات ہم دواؤں سے بھی اسے کنٹرول کر لینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں مگر یہ بہت کم کیسز میں ہوتا ہے، اور اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ مریض ہمارے ساتھ تعاون کرے. آپ کی سہیلی تو اس دن سے غائب ہیں اور ان کا یوں غائب ہونا میری سمجھ سے بلکل باہر ہے۔ اس مرض میں دیر کا مطلب خود دوڑ کر موت کی جانب جانے کے مترادف ہے۔ آپ کل ہی لائیں ان کو تاکہ کچھ ٹیسٹ ہوسکیں اور دوائیں شروع کی جاسکیں۔
سارا اور رافع نے شازینہ کی مختصر ہسٹری ڈاکٹر کو بتائی تاکہ آنے والے دنوں میں وہ اس کو ایسے ہی ہینڈل کرسکیں۔ مگر اب ایک بڑا مرحلہ شازینہ کو تیار کرنا تھا جو آسان نہیں تھا، مگر سارا نے سوچ لیا تھا کہ اسے شازینہ کی کون سی کمزوری کو پکڑنا ہے۔

شازینہ تم نے کل میرے ساتھ چلنا ہے، تیار ہوجانا، دس بجے پک کروں گی. سارا نے رات سونے سے پہلے اسے کال کی تھی۔
بھئی مجھے نہیں کرنی نوکری، میں پہلے ہی ایک لمبا عرصہ کالج کی نوکری کر کے اب تھک چکی ہوں، اب نہیں، ویسے بھی اب میری اتنی ہمت نہیں۔ شازینہ نے اس دن سی وی لے جانے کی وجہ سمجھا۔
اچھا جو کہا ہے وہ کرو، اس پر بعد میں بات ہوگی کہ کیا کرنا کیا نہیں، تیار رہنا بس ۔ سارا نے کال بند کر دی تھی۔
شازینہ نے مایوسی سے سیل دیکھا۔ سارا بھی کچھ سنتی ہے نہ سمجھتی ہے ۔۔۔ شازینہ اب بہت جلدی تھکنے لگی تھی، اسے اب ہر کچھ دیر بعد چکر آنے لگتے، بہت دیر کھڑے رہنا مشکل لگتا، ابھی انہی سوچوں میں گم نجانے کب سوگئی ۔۔

سارا کیساتھ گاڑی میں بیٹھے اس نے اچانک دیکھا کہ گاڑی جانے پہچانے راستے پر دوڑ رہی تھی، اس نے اک دم سارا کو دیکھا، سارا بھی اسی کو دیکھ رہی تھی.
شازینہ کیوں کیا تم نے یہ سب؟ تم جانتی ہو اگر انکل کو یہ سب پتا چل گیا تو وہ اک دن نہیں جی پائیں گے۔۔
شازینہ سمجھ گئی تھی کہ اس کی فائل سارا نے دیکھ لی ہے۔
اسی لیے تو یہ سب چھپا دیا کہ میں انہیں مزید کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی شازینہ نے شکست خوردہ لہجے میں کہا۔
خاموشی سے مر جانا چاہتی ہو، یہ کم دکھ ہوگا ان کے لیے، تمہارے جیسی پڑھی لکھی لڑکی سے مجھے یہ امید ہرگز نہیں تھی۔۔ اب سنو شرافت سے، جیسا جیسا ڈاکٹر کہتے ویسا کرو، میں انکل کو تمہیں اپنے گھر لے جانے کا کہہ دونگی ورنہ دوسری صورت میں یہ ساری فائل میں انکل کے ہاتھ میں دے دوں گی ۔۔
شازینہ نے سارا کو بے بسی سے دیکھا، اسے پتا تھا سارا جو کہہ رہی ہے، ویسا ہی کر بھی دے گی۔

ڈاکٹر ثاقب یہ آپ کی مریضہ، اس کو باندھ کر رکھنا پڑے تو بتائیے گا، میرے پاس اسپیشل زنجیریں ہیں. سارا نے ان کے آفس میں داخل ہوتے ہی ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
جی آپ ان کو آج ہی ایڈمٹ کروادیں، دو دن میں ہم سارے ٹیسٹ مکمل کرلیں گے، کچھ دوائیں شروع کرنی ہیں، آپ کی خوش قسمتی کہ یہ اتنی ارلی اسٹیج پر ہی ڈائگنوز ہوگیا ورنہ عموما مریض آخری مرحلے پر ہمارے پاس آتے ہیں، اب ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ہم دواؤں سے اس مرض کو کنٹرول کر لیں مگر اس میں ہمیں مریض کی فل سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ثاقب نے تفصیل سے آگاہی دی.
شازینہ سارا وقت خاموش ہی رہی ۔
رات نو بجے ڈاکٹرثاقب وارڈ میں راؤنڈ پر آئے تھے. شازینہ ابھی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تھی، اس کے کچھ ٹیسٹ ہوچکے تھے، کچھ کل صبح نہار منہ ہونے تھے، سو اسے آج ہاسپٹل ہی میں رہنا تھا. دوائیں شروع ہوچکی تھیں۔
کیسا محسوس کررہی ہیں مسز شازینہ؟
جی بہتر ہوں۔ اس نے جواب دیا.
مسز شازینہ! دیکھیے یہ زندگی اللہ کی دی ہوئی ہے، اسے ہم وقت سے پہلے لوٹا سکتے ہیں نہ اپنی مرضی سے مزید اک لمحے کا بھی اضافہ کرسکتے ہیں، اللہ نے جتنی دی اسے اسی طرح اسی کی مرضی پر راضی رہ کر گزارنا ہی اس کا حق ہے۔
جی! شازینہ نے گردن ہلائی۔
آپ جانتی ہیں کیمو ایک انتہائی تکلیف دہ علاج ہے، پہلے ہمارا یہی خیال تھا کہ کیمو ہی اس کا حل ہے مگر اب ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم اس طرف آخری حل کی صورت میں جائیں مگر مرض کو شکست مریض کی ول پاور ہی دیتی ہے۔ آپ میں جینے کی لگن اور خوش رہنا اس مرض سے لڑنے میں دوا سے بڑھ کر ضروری ہے۔
جینے کی لگن، شازینہ نے انجانے میں ان کا جملہ زیر لب دہرایا۔
جی مسز شازینہ! جیسے دعاؤں کی قبولیت کے لیے اس پر یقین ہونا شرط لازم ہوتا ہے نا، ویسے ہی دواؤں کے اثر کے لیے مریض میں ٹھیک ہونے کی لگن ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے، اور اگر یہ لگن نہ ہو تو دوائیں پیٹ میں چند ذروں کے اضافے کے کچھ نہیں کرتیں۔۔۔
شازینہ یہاں کب تھی وہ تو بہت دور کہیں جا چکی تھی۔۔
’’رضا تم یہ کیا حرکت کرتے ہو؟ واک کرتے ساتھ چلتے چلتے رضا جب اچانک اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے بازو کے نیچے دبا کر سینے پر باندھ لیتا، وہ جزبز ہو کراحتجاج کرتی.
کیا کرتا ہوں؟ پاگل! بتاؤں کیا کرتا ہوں۔۔ یہ جو میرا دل ہے نا، جب تم کسی طرح نہیں مان رہی تھیں نا، تو یہ جینے کی لگن چھوڑ چکا تھا، یہ اکثر مجھے ستاتا تھا اس لیے اب اس دل کو بتاتا ہوں، تمہارا ہاتھ اس پر رکھ کر دکھاتا ہوں اس کو، دیکھو یہ ہے میری میری جینے کی لگن.‘‘
پھر آپ جینے کی لگن پیدا کریں گی نا خود میں؟
شازینہ اک دم ہوش میں آئی، جی جی، اس نے اپنی آنکھوں میں آتی نمی کو اندر ہی گرا لیا تھا۔
میں آپ کے لیے دعا گو ہوں، اپنا خیال رکھیے گا، اور اب سوجائیے۔
نیند کب آنی تھی، نیندوں سے تو اس کی کب سے شناسائی ختم ہوچکی تھی۔ رات کچھ حصہ اپنے بیڈ پر ہی وہ اذکار کرتی رہی، اور اب تیسرے پہر رب کی صدا پر سجدے میں تھی۔
بابا کہتے ہیں اگر محبت سچی ہو تو جس کو مانگا جائے، وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی ہو مگر اسے اس کی خبر ہوجاتی ہے، وہ بے خبر نہیں رہ سکتا، محبت کی شعاعیں بہت پاور فل ہوتی ہیں۔ رضا کیا تمہیں خبر ہے کہ کوئی تمہیں اس طرح سجدوں میں مانگتا ہے؟ کیا تم بھی رات کے اس پہر جاگے ہوگے ؟ وہ پھر اک دم چہرہ ہاتھوں میں لیکر سسک پڑی۔
۔
ٹیسٹ سارے ہوچکے تھے، آج دو دن بعد سارا اسے واپس چھوڑنے آئی تھی، اس کے بلانے پر بھی وہ اندر نہیں آئی،
نہیں! بہت سارے کام ہیں، آج رافع کے کچھ آفس کولیگز کا ڈنر ہے گھر پر، پھر آؤں گی، تم نے دوائیں وقت پر لینی ہیں.
وہ ابھی اپنے روم میں آکر بیٹھی تھی، سوچ رہی تھی کہ زرینہ کو بلا کر پوچھے کہ بابا کہاں ہیں؟ اسی لمحے دورازہ بجا، وہ سمجھی زرینہ ہے.
آجاؤ زرینہ! اس نے آواز لگائی۔
ارے بابا، آپ! مجھے بلالیتے، وہ اک دم اپنی جگہ سے اٹھی اور پھر چکرا گئی۔
شازے کیا ہوا ہے؟ بابا بڑھ کر اسے پکڑ نہ لیتے تو وہ زمین پر گری ہوتی۔ اس نے خود کو مشکل سے سنبھالا۔
کچھ نہیں بابا! بس ایسے ہی چکر۔
بابا نے اسے سہارا دے کر بیڈ پر لٹایا اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر دکھ سے بولے۔
کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے بیٹا، اسی لیے کہتا ہوں نا کہ اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی ہو تم، ایسے کیسے گزرے گی زندگی؟
شازینہ کی ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتی حالت سے بابا بھی غافل تو نہ تھے، اس پر گزرے دکھ کا ہروار انہوں نے خود پر محسوس کیا، اس کی فکر میں وہ خود آدھے رہ گئے تھے۔۔
اپنی گود میں رکھے اس کے سر کو سہلاتے ہوئے آج بھی انہیں وہ وہی معصوم سی شانی لگ رہی تھی جو ہمیشہ دو پونیاں بابا سے ہی بنوانے کی ضد کیا کرتی. بابا آفس جانے سے پہلے اس کی پونیاں خود بناتے، اس کی ساری سہیلیاں جانتی تھیں کہ شانی کی پونیاں بابا ہی بناتے، وہ اسکول میں نجانے کتنی بار اپنے سر کو ہلا کر آنکھیں بند کرکے بابا کے لمس کو محسوس کرتی۔۔

وہ شروع سے ایسی ہی تھی، حساس، ہر چیز کوحد سے بڑھ کر محسوس کرنے والی، گھر میں بھی ہر اک ہی اس کا خیال رکھنے کی کوشش کرتا، بس اک شازل تھا جو کوئی موقع اسے تنگ کرنے کا ہاتھ سے جانے نہ دیتا تھا.
ابھی تو یہی ہوا تھا، وہ بابا کے سانے کھڑی شازل کی ہی شکایت لگا رہی تھی.
بابا دیکھیں نا! یہ شازل بھیا مجھے تنگ کرتے ہیں، میں جب بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی ہوتی ہوں، بھیا میری پونی کھینچ کر بھاگ جاتے، بابا میری ساری سہیلیاں مجھ پر ہنستی ہیں، آج تو سارا کے ساتھ اس کی سہیلی بھی تھی. بابا میں اب کبھی شازل بھیا سے نہیں بولوں گی. شانی منہ بسورے پھر آج بابا کی گود میں بیٹھی تھی.
بڑے ابا جو بظاہر اخبار میں مگن تھے مگر جب شانی کی شکایت سنی تو خفگی سے آواز لگائی، شازل! شازل میاں ادھر آئیے ذرا.
شازل کی تو بڑے ابا کی آواز سن کر ہی جان نکل گئی تھی، منہ بسورتی شانی کو اس نے ابھی لاؤنج کی جانب دوڑتے دیکھ لیا تھا، ہر بار کی طرح وہ اب بھی یہی سمجھا تھا کہ تایا ابا اس کی شکایت سن کر اسے سخت ڈانٹنے کا وعدہ کر کے اسے بہلا لیں گے۔۔ مگر آج اس کی قسمت خراب تھی، بڑے ابا بھی وہیں موجود تھے۔
جی بڑے ابا! شازل دونوں ہاتھ باندھے مجرموں کی طرح لاؤنج میں جا کھڑے ہوئے ۔۔
بھئی یہ تم نے ہماری شہزادی پری کو کیوں تنگ کیا؟ کیوں اس کی پونی کھینچتے ہو ؟؟
بڑے ابا نے اپنے مخصوص انداز میں عینک کے پیچھے سے جھانکا.
وہ بڑے ابا اس کی پونی ٹیڑھی تھی، وہ سیدھی کی تھی۔
نہیں بڑے ابا! شازل بھیا جھوٹ بول رہے ہیں، میری پونی بابا کبھی ٹیڑھی نہیں بناتے.
ابھی شازل اپنی صفائی بھی نہ دے پایا تھا کہ شانی نے بیچ میں ہی اس کی اس ناکام سی کوشش پر پانی پھیر دیا۔
شازل! آج کے بعد آپ نے شانی کی پونی سیدھی کرنے کی کوشش کی تو ہم آپ کی پونی باندھ دیں گے۔۔
شانی بڑے ابا کی اس سزا پر اتنا زور سے کھکھلا کر ہنسی تھی،
شازل بھیا آپ پونی باندھ کر کیسے لگیں گے؟
ہنستے ہنستے وہ بابا کی گود سے اتر اب صوفے پر دہری ہوئی جارہی تھی .
دوسری طرف شازل انتہائی بےعزتی محسوس کرکے شرمندہ ہوئے جارہا تھا
جی بڑے ابا : شازل نے شرمندگی سے جواب دیا.
بابا جو بہت دیر سے یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے، ان سے شازل کی شرمندگی مزید نہ دیکھی گئی تو انہوں نے کہا
جائیں شازل بیٹا! آپ کھیلیں۔
شازل نے بڑے ابا کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا، بڑے ابا نے بھی گردن ہلائی تو شازل دوڑ کر باہر یوں بھاگا جیسے پھر سے نہ بلا لیا جائے۔

صابر حسین کے پانچ بیٹوں پر مشتمل یہ خاندان ایسے ہی رشتوں کے ساتھ محبتوں میں بھی گندھا ہوا تھا. صابر حسین خود ایک اچھے بزنس مین تھے اور اپنے تین بڑے بیٹوں کو انہوں نے اپنے ساتھ بزنس میں ہی لگا لیا تھا، جبکہ دو چھوٹے باہر اپنی پڑھائی مکمل کر کے واپس آئے، اور پھرشادیوں کے بعد اپنی اپنی فیملی کے ساتھ وہیں سیٹل ہوگئے تھے. صابر حسین نے ایک ایک کر کے سب بیٹوں کے نام پلاٹ خریدے اور ساتھ ساتھ ان پر اچھی طرز کے گھر بنالیے. بڑے تین بیٹے جن میں سب سے بڑے راحت حسین جن کے تین بچے دو بیٹیاں حمنہ، یمنی، اور ایک بیٹے فاخر تھے. درمیان والے فرحت حسین کا ایک ہی بیٹا شازل تھا جبکہ تیسرے نمبر پر سعادت حسین اپنی اکلوتی شانی کے ہمراہ اماں بی کے ساتھ ہی رہتے تھے. باقی دونوں بھائی اپنے اپنے پورشن میں رہا کرتے تھے۔۔ خود صابر حسین نے اپنا اور راشدہ بیگم کےلیے درمیان والا گھر چنا تھا جس میں ہر شام چائے کے وقت لیکر رات کھانے تک سب وہیں موجود ہوتے اور یوں سب ساتھ بھی رہتے تھے اور الگ الگ بھی چھوٹی موٹی شکایتوں کا سلسلہ بھی چلتا رہتا تھا، جسے صابر حسین اور راشدہ بیگم بہت ہی خوبصورتی سے حل کرلیتے، اور اس پر دونوں ہی اپنے رب کے ہمیشہ شکر گزار رہتے کہ اس رب نے ان کے بچوں کے دلوں میں کوئی دراڑ نہیں پڑنے دی تھی۔

دن مہینوں میں اور سالوں میں بدلتے رہے، اور پونیاں کھینچتے، لڑتے جھگڑتے، شکایتیں لگاتے، کبھی میتھس میں ہیلپ کراتے، کبھی کسی سہیلی کے گھر چھوڑ کر آنے پر نخرے دکھاتے، پتا بھی نہ چلا کہ کب یہ ساری کی ساری ٹیم جوان ہوگئی. شازل ہائیر اسٹڈیز کے لیے باہر جانا چاہتا تھا جبکہ اماں بی اپنے چھوٹے دونوں بیٹوں کی وجہ سے اسے باہر بھیجنے پر راضی نہیں تھیں. حمنہ نے گریجویشن مکمل کر لی تھی، راحت حسین کے ایک دوست کے بیٹے کا رشتہ آیا، اچھے شریف لوگ تھے، لڑکا بھی پڑھائی مکمل کرکے اپنے والد کا بزنس سنبھال رہا تھا، بات تقریبا طے ہی تھی، حمنہ کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا، اماں بی منگنی کے حق میں نہیں تھیں. ان کا کہنا تھا،
’’بھئی یہ آج کل منگنیاں ویسی نہیں ہوا کرتی کہ بس نام بندھ گیا، اب شادی تک لڑکیاں سپنوں میں اور لڑکے عید بقرعید کسی حیلے بہانے سے ہی اک نگاہ ڈالنے پر صابر شاکر ہوجائیں، اب تو منگنی کو حق سمجھ لیا جاتا ہے، شرعا اس کی کوئی گنجائش نہیں، ہاں آپ نکاح کیجیے سیدھا سیدھا تاکہ اک حقیقی رشتہ ہو جو اک دوسرے سے محبت کا بھی باعث بنے اور عزت کا بھی.‘‘
سبھی اس بات پر متفق تھے۔ گیارہ فروری حمنہ کا نکاح تھا، خاندان کی پہلی شادی تھی، گھر میں ہر طرف تیاریاں ہی تیاریاں تھیں، شانی کے ابھی کالج شروع ہوئے تھے مگر پھر بھی وہ پورا حصہ لے رہی تھی، حمنہ یمنی دونوں ہی اس کی بہت اچھی سہیلیاں تھیں۔
تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہے شانے؟ شازل اس سے پوچھ رہا تھا۔
نہیں، شازل بھیا! اماں بی نے میری ساری تیاری کر لی ہے.
کیا اماں بی نے؟ تم کون سی دنیا کی مخلوق ہو بھئی؟ شازل اک دم چیخا. آج کل لڑکیاں شاپ پر جا کر ایک ہفتے پرانی چیز نہیں لیتیں اور تم ہو کہ انیس سو چالیس کی اماں بی کی پسند کا پہنوگی. چلو میرے ساتھ کوئی نئے فیشن کا لے آؤ۔ شازل نے ہمیشہ کی طرح اس کی اس عادت پر چوٹ کی.
اس نے غصہ سے شازل کو دیکھا اور کہا آپ کو شرم آنی چاہیے، آپ اماں بی کے لیے کیا کہہ رہے ہیں؟
شازل اک دم بولا، بس بھئی! اب تمہارا لیکچر شروع، بڑوں کا ادب ان کی عزت وغیرہ وغیرہ۔۔ محترمہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا، میں نے خود اپنی ان گنہگار آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اماں بی کے شناختی کارڈ میں ان کی تاریخ آمد انیس سو چالیس ہی لکھی ہے۔
شانی نے اسے گھور کر دیکھا، وہ ایسے ہی اسے ہمیشہ لاجواب کر دیا کرتا تھا۔
پھر بھی میں انیس سو چالیس ہی کی پسند کا پہنوں گی۔ وہ پیر پٹختی وہاں سے اٹھ گئی۔
اچھا ہے لوگ ایک بار پھر سے انیس سو سترہ کی بلیک اینڈ وائٹ ہیروئین کو دو ہزار سترہ میں دیکھیں گے ۔ شازل نے پیچھے سے ہنستے ہوئے جملہ کسا۔
شانی نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا مگر یہ جملہ اس کے دماغ میں واقعی رہ گیا تھا. اسے پتا تھا کہ اماں بی تو عید بقرہ عید ہی اس کے لیے گوٹے کناریوں والے سوٹ تیار کروایا کرتی تھیں،
اور شازل ہمیشہ اسے یہی کہتا کہ جاؤ، جاکر اک بار طارق روڈ اور گلف کا چکر لگا آؤ تاکہ تمہیں بھی پتہ چلے کہ یہ ان غراروں کا دور نہیں ہے۔
وہ اپنا غرارہ سنبھالتی، غصے سے کہتی کہ مجھے پتا ہے کس کا فیشن ہے؟ میں کل ہی گئی تھی حمنہ کے ساتھ طارق روڈ۔
تو کیا کارنامہ کیا آپ نے جاکر، بنی ہوئی تو آپ انیس سو تیرہ کی۔ آگے وہ جملہ چھوڑ دیتا۔
اور شانی کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آجاتے جن کو چھپانے کی خاطر وہ وہاں سے دوڑ جاتی۔
وہ عشاء کی نماز پڑھ کر جب بیڈ پر لیٹی تو اک دم اسے شازل کی بات ستانے لگی، انیس سو تیرہ کی ہیروئن لگنا۔ کیا کل بھی ایسا ہی ہوگا؟ میں نے اماں بی سے کیوں نہ کہا کہ مجھے دکھا دیں، کیا بنوایا؟ بس نئے نئے کالج کے چکر میں اور حمنہ کے کپڑوں کی تیاریوں کے لیے بازار کے لگتے چکر. اماں بی نے بھی تو اسے ہمیشہ ان چکروں سے آزاد رکھا تھا، وہ اس کی ضرورت کی ہر چیز پہلے سے اس کے وارڈروب میں پہنچا دیا کرتی تھیں، اس نے کبھی اس میں اضافے یا ترمیم کا سوچا بھی نہیں، ہر کپڑا ہی اچھا اور خوبصورت، اور نفیس سلائی، سب ہی کچھ تو اچھا تھا، پھر وہ کیسے ناشکری کرتی، وہ تو ہر مرتبہ کہتی اماں بی! اتنے اچھے اچھے کپڑے ہیں نا، آپ نے اور کیوں بنوائے؟ یہ پچھلے والے چار سوٹ پھر آپ رشیدہ کو دے دیں. اماں بی کہا کرتی تھیں کہ یہ جو تمہاری الماری ہر وقت خو بصورت اور نفیس کپڑوں سے بھری ہوتی، یہ سب تمہاری شکر گزاری کی وجہ سے ہے، ورنہ آجکل کی لڑکیوں کو تو الماری کھولیں تو اک دن کے پہننے کو بھی کپڑے نہیں ملتے ۔ انہی سوچوں میں گم نجانے کب وہ سوگئی۔

فجر میں بابا کی پہلی دستک پر وہ جاگ جایا کرتی.
جی بابا جاگ گئی، وہ جواب دیتی۔ بابا مسجد جاتے ہوئے اسے جگا کر جاتے، اس پر اماں بی اور بابا کی تربیت کا بہت گہرا اثر تھا، فجر کے بعد بابا کے ساتھ قرآن کی تفسیر پر ڈسکشن اس کا معمول تھا، بابا آچکے تھے، وہ پہلے سے لان میں موجود تھی، کچھ دیر واک کرتے ہوئے باپ بیٹی کسی نا کسی ایک آیت یا موضوع پر ڈسکشن کرتے، اس طرح سعادت حسین اسے اب تک تقریبا مکمل قرآن کی تشریع سمجھا چکے تھے.

آج نکاح تھا حمنہ کا، اس نے بھی کالج سے چھٹی لی تھی، حمنہ کے ساتھ پارلر جانا تھا اسے.
اپنے کپڑے بھی ساتھ ہی لے لو نا، وہیں تیار ہوجانا تم بھی.
صبح ہی اماں بی نے اسے اس کا نفیس گوٹے سے تیار کروایا ہوا لہنگا اور کرتی، بڑا سا دوپٹہ چوڑیاں، سب کچھ اس کے حوالے کیا.
فیروزی لہنگے کے ساتھ پنک کرتی اور پنک دوپٹہ، دلہن کی تیاری کے ساتھ دوسرے روم میں شانی بھی تیار ہوچکی تھی. ہمیشہ میک اپ سے عاری شانی پر پہلی بار ہلکا سا میک اپ بھی بہت اچھا لگ رہا تھا. ٹیکہ لگواتے ہوئے وہ کچھ سٹپٹا رہی تھی، ساتھ بیٹھی یمنی نے جب اسے ایسے دیکھا تو بولی،
شانی آپی! لگوالیں بہت اچھا لگ رہا ہے، میں بھی لگواؤں گی، اور سب لگواتے آج کل، دیکھیے گا ساری باراتی لڑکیاں لگا کر آئیں گی۔ اور آپ تو بہت ہی پیاری لگ رہی ہیں، سچی والی دلہن۔
وہ ہنس دی، پاگل اصلی والی تو اندر ہے، جب آئے گی تو دیکھنا۔
ان کا اپنا لان ہی سجایا گیا تھا، دو الگ الگ لان مردوں اور خواتین کے لیے انتظامات کیے گئے تھے، سارے انتطامات سعادت حسین خود دیکھ رہے تھے۔
جب جاکر سب سے پہلے اماں کو اس نے سلام کیا، اماں بی نے نگاہوں ہی نگاہوں میں اس کی نظر اتاری اور جلدی سے پڑھ کر دعا دم کی اس پر ۔
ماشاءاللہ ولاقوۃ الا باللہ، اللہ میری بچی کو ہر نظر بد سے بچائے۔ آمین
اماں بی نے اسے کچھ کام سمجھائے اور دلہا کی انگوٹھی لانے کو کہا، وہ ابھی اندر جانے کے لیے مڑی ہی تھی کہ سامنے شازل بھیا آ گئے. وہ کتنا چاہ رہی تھی کہ اس کا شازل بھیا سے سامنا نہ ہو مگر ۔
اففف خدایا! یہ تم ہو، انیس سو سترہ کی ہیروئن ۔ شازل اس کو اک دم مبہوت دیکھے چلا گیا.
تمہیں تو اسٹیج پر ہونا چاہیے تھا، یہاں کیا کر رہی ہو؟ بہت شوق ہے دلہن بننے کا؟ انہوں نے اس کے سر پر سلیقے سے جمے دوپٹے اور ماتھے پر سجے ٹیکے پر چوٹ کی۔
اس نے اک دم جھینپ کر نگاہیں جھکا لیں، اسے پتا تھا کہ شازل بھیا ایسے ہی اس پر جملے کسیں گے، مگر اس نے سوچ لیا تھا کہ آج وہ انہیں کوئی جواب نہیں دے گی، اسے ان جھگڑا کر کے اپنی تقریب خراب نہیں کرنا تھی۔
اچھا بیٹا! بٹھاتا ہوں تمہیں بھی اسٹیج پر، صبر کرو۔ وہ اسے مصنوعی غصے سے گھورتے ہوئے اماں بی کی جانب مڑے.
وہ اک لمحے کو ان کی اس دھمکی پر ڈری، اسے پتا تھا کہ وہ ایسے ہی دھمکیاں نہیں دیتے بلکہ اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ ان کی پلاننگ ہوتی ہے۔ وہ انھی سوچوں میں گم انگوٹھی لے آئی، اور اماں بی کو دینے کے لیے تلاش کرنے لگی. زرینہ سے اسے بتایا کہ سب لوگ بڑے ابا کے ڈرائنگ روم میں ہیں اور اماں بی اپنے کمرے میں۔ وہ اماں بی کے کمرے میں تھی. سامنے شازل بھیا اماں بی کے پیروں میں سر جھکائے بیٹھے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آئی، اس نے اماں بی کو انگوٹھی دی اور جانے کے لیے پلٹی. شازل نے اسے واپس پلٹتے ہوئے دیکھا تھا. اماں بی نے اسے کہا: شازینہ تم بڑے ابا کے ڈرائنگ روم میں چلو، ہم وہیں آ رہے ہیں۔ شازینہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اماں بی کو دیکھا، اس کے اندر خطرے کی گھنٹی پھر بجنے لگی تھی، شازل بھیا کی دھمکی۔
یہ مجھے کیوں گھر سے نکالنے کے پیچھے پڑے ہیں؟ میں نے کیا بگاڑا ہے ان کا؟ کون ہے جس کے ساتھ یہ مجھے نکالنے کے چکر میں ہیں؟ اس نے بے بسی اور دکھ سے شازل بھیا کو دیکھا جو اس سے بالکل بے پرواہ دکھائی دے رہے تھے۔ وہ بڑے ابا کے ڈرائنگ روم میں پہنچی تو وہاں بھی اک عجیب سا سرگوشانہ ماحول، وہ جا کرسلام کر کے خوفزدہ سی خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی، اماں بی اور شازل بھیا بھی اس کے پیچھے آچکے تھے۔
( جاری ہے )

پہلی قسط یہاں پڑہیے
دوسری قسط یہاں پڑہیے

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں