سائنس اور آج کا نوجوان - محمد نعمان کاکاخیل

ریاضیات و طبیعات سے وابستہ اہل علم و قلم کے نزدیک اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اس کائنات کے اندر کثیر جہتی (Multi Dimensional) اجسام کی موجودگی ایک حقیقت ہے۔ لیکن انسان اپنی محدود بینائی کے سبب ابعادی اجسام کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ انسان کی اہلیتوں کے اوپر یہ قدغن فطری ہے۔

روز مرہ مشاہدات اور سائنسی تجربات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوئی کہ اس کائنات کے اندر اجسام کا نظر آنا یا تو ان اجسام سے نکلنے والی شعاؤں کی بدولت ہے اور یا پھر سورج اور دوسرے ذرائع سے آنے والی روشنی کے اجسام سے ٹکرانے کے بعد منعکس ہونے کے سبب ہے۔ عجیب بات یہ بھی ہے کہ انسان کی بصارت کے حوالے سے یہ استعداد صرف اجسام کے طول و عرض (Dimensions) تک ہی محدود نہیں بلکہ اجسام کی موجودگی سے متعلق معلومات سے پردہ اٹھانے کے اندر کردار ادا کرنے والی برقی مقناطیسی موجوں کے حوالے سے بھی ہے۔ X-rays اور زیریں سرخ اشعاع کے انسان کے اردگرد ہوتے ہوئے بھی انسان اس کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ جبکہ ان شعاعوں کا عملی مشاہدہ خود کار طریقے سے کھلنے والے دروازوں کے بیچ گزرنے سے کیا جا سکتا ہے جو زیریں سرخ شعاع سے متعلق ڈیٹکٹرز کے بنیادی اصولوں پر کام کر رہے ہوتے ہیں جبکہ x-rays کے استعمال سے بھی ہر بندہ واقف ہے۔

تحقیق سے ثابت ہوا کہ عام نظر آنے والا مادہ (یعنی آرڈنری میٹر) بشمول چاند، ستارے، تمام اجرام فلکی اور کہکشائیں کل کائنات کا 4 فی صد ہے اور 26 فیصد نظر نہ آنے والا مادہ (ڈارک مَیٹر) ہے جو روشنی جذب کرتا ہے نہ خارج کرتا ہے۔ جبکہ بقیہ 70 فیصد حصہ نظر نہ آنے والی توانائی (Dark energy) پر مشتمل ہے۔

میٹرک تک سائنس اور خصوصاً طبیعات پڑھنے والے طلبہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انسان کی سماعت کے حوالے سے بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔ انفرا سانک اور الٹرا سانک کی اصطلاحات اس بات کی دلیل ہیں کہ اشرف المخلوقات 20 ہرٹز سے کم اور 20000 ہرٹز سے زیادہ کی آواز نہیں سن سکتے۔ جبکہ جانوروں میں سے بعض کو اس صلاحیت سے نوازا گیا ہے کہ وہ زیادہ فریکوئنسی والی آوازوں کو بھی سن سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہورہےگا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا - قدسیہ ملک

کشش ثقل انسان کے چار سو موجود ہے جس کو دیکھا تو نہیں جا سکتا لیکن اس تصور کو استعمال کرتے ہوئے انسان خلاء میں سیٹلائٹ بھیجنے اور معلومات اکھٹی کرنے کے قابل ہوا۔ الیکٹران اور باقی بنیادی ذرے بھی انسانی بصارت کے حدود سے باہر ہیں لیکن بجلی اور باقی برقی ایجادات کی بدولت انسان اس کی موجودگی کا پوری طرح قائل ہے اور بھر پور یقین رکھنے والا ہے۔

ماضی قریب میں ایک سے زیادہ کائناتوں کا نظریہ سائنس دانوں کی دلچسپی اور فکری اڑان کو اونچا کرنے میں مدد گار ثابت ہوا جس کی بدولت محقیقین کئی کائناتوں کی تھیوری سے متعلق شواہد اکھٹے کرنے میں سرگرم عمل ہیں ۔

ڈارک مَیٹر کیا ہے؟ ڈارک اِنرجی کسے کہتے ہیں؟ اور اس کو مستقبل میں کیسے انسان کی فلاح کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اَلٹرا سانک اور اِنفراسانک آوازوں کو کیسے سنا جائے؟ ایک سے زیادہ کائناتوں (ملٹی ورس) کا تصور کیا بتاتا ہے؟ اور مزید بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات ہماری توجہ کے منتظر ہیں۔ جبکہ مذکورہ تمام دلائل اور سائنسی حقائق اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کائنات کی اوجھل چیزوں کو سامنے لانے کا اہل سائنس ہی بدولت ہوا۔

نوجوان نسل کو نظرانداز کرنے اور باقاعدہ ذہن سازی نا کرنے کی بدولت آج کا نوجوان میدان کا انتخاب کسی تجسسی مادے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مخصوص مضمون کے دائرہ کار (scope) کو دیکھ کر کرتا نظر آتا ہے۔ سائنس کے اندر دلچسپی لینے کے بجائے وہ سائنس کو خشک مضمون قرار دے کر خوف محسوس کرتا ہے۔ انتخاب کے یہ پیمانے پہلے ہی بگاڑ پیدا کر چکے ہیں لہٰذا مزید بگاڑ کا متحمل نہیں ہوا جا سکتا۔

نئی نسل کو یہ بات سمجھائی جائے کہ سائنس ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک لمبے سفر کی طرف انسانی توجہ مبذول کرانے کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔ ابھی بہت کام کرنے کو رہتا ہے۔ بہت سی منازل ہماری منتظر ہیں اور مزید پیش رفت ابھی باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میگاپکسلز کسی کیمرے کی تصاویر کی کوالٹی میں اہم کردار ادا نہیں کرتے: ماہرین

حالات کا تقاضا ہے کہ نئی نسل کو مثبت سوچ دینے کے ساتھ ساتھ ان کی سائنسی اور معاشرتی حوالے سے تربیت کو زیر بحث لایا جائے اور تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایسے پروگرام وضع کرنے کی سفارش کی جائے تاکہ اس کے معاشرے کے اوپر براہ راست اثرات مرتب ہوں۔ نوجوان نسل کی توانائیوں اور اہلیتوں پر بھروسہ کر کے اور حقیقی معنوں میں مستقبل کا معمار سمجھ کر صحیح ڈگر پر چلایا جائے تا کہ ہم بھی سالوں کے اسفارِ ترقی مہینوں میں طے کرنے والی اقوام کی فہرست میں شامل ہو سکیں۔

Comments

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکاخیل

محمد نعمان کاکا خیل بنیادی طور پر شعبہ طبیعیات سے وابستہ ہیں۔ سنجیدہ قلم نگاری کے ذریعے نوجوان نسل کی تربیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس وقت کینگ پوک نیشنل یونیورسٹی ساؤتھ کوریا میں پی ایچ ڈی ریسرچ سکالر ہیں اور یونیورسٹی آف واہ میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.