جو بات بچے سمجھ جاتے ہیں - ساجد ناموس

والدین کا اپنے بچوں سے تعلق الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا. وہ جس طرح سے بچوں کی نگہداشت کرتے ہیں، پالتے پوستے ہیں، توجہ، محبت، پیار، ضروریات اور جتنا بس چلتا ہے، خوشیاں ڈھیر کرتے چلے جاتے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ بچہ کسی بھی تکلیف کا شکار ہو، اس کی اذیت بچے سے زیادہ والدین محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔

میری ڈیڑھ سال کی بیٹی کھیل رہی ہوتی ہے تو معمول میں اسے کسی دقت کا سامنا کرنا پڑے تو فورا بابا، بابا کی آواز دینا شروع کر دیتی ہے لیکن اس آواز میں جھنجھلاہٹ یا کوفت کا سائن ہوتا ہے، لیکن عجیب اتفاق نوٹ کیا کہ جب وہ کسی ایسی مشکل میں پھنس جائے جہاں اسے لگے کہ گر جاؤں گی یا خطرہ ہے تو اس وقت بابا، بابا کی آواز معمول سے ہٹ کر ہوتی ہے، وہ پوری قوت سے آواز دیتی ہے، اس میں کپکپاہٹ اور خوف کی آمیزش ہوتی ہے، اسے سنتے ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ بچی مشکل میں ہے، ایسی آواز کو والدین کسی صورت نظرانداز نہیں کرتے، انہیں پتہ ہوتا ہے کہ ان کا بچہ کسی مشکل میں ہے، اور ایسی مشکل میں والدین کا ردعمل بھی فوری اور معمول سے ہٹ کر ہوتا ہے۔

سمجھنے کے لیے ایک چھوٹا سا واقعہ شئیر کرتا ہوں، گھر بیٹھے کھانا کھا رہا تھا کہ بیٹی کی معمول سے اونچی بابا بابا کی آواز آئی، فورا سے پہلے کمرے سے ننگے پاؤں باہر کی جانب دوڑا تو دیکھا وہ اپنے بڑے بھائی کی سائیکل پر بیٹھ تو گئی تھی لیکن اب اس سے سنبھلا نہیں جا رہا تھا، اسے لگ رہا تھا کہ ابھی گر جاؤں گی، اور اسے فوری ریسکیو کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔

کتنی عام سی بات ہے کہ جو بات چھوٹے سے بچے کو بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جس طرح کی صورتحال ہو، اس انداز میں ہی اپنے والدین کو پکارنا ہے، مدد مانگنی ہے، مشکل سے نکلنا ہے۔ اور ہم پتہ نہیں کیوں اس بات کو بھول جاتے ہیں اور شکووں پر اتر آتے ہیں، اللہ ہماری نہیں سنتا، اللہ سے بہت مانگا لیکن بس کیا بتاؤں۔ وغیرہ وغیرہ

مانگتے ضرور ہیں لیکن کبھی ان بچوں کی طرح مانگیں تو سہی۔ ہمیں اتنا نہیں پتہ، مشکل میں مانگنا ذرا معمول سے ہٹ کر ہے۔
مشکل میں تو اس بچے کی کیفیت اور انداز میں مانگنا ہوگا، جیسے بچے مشکل میں والدین کو پکارتے ہیں، بلاتے ہیں۔
بچے ہم سے پہلے سمجھ جاتے ہیں، ہم کیوں نہیں سمجھتے آخر۔

Comments

ساجد ناموس

ساجد ناموس

ساجد ناموس دشتِ صحافت کے سیاح ہیں۔ دنیا نیوز سے بطور اسائنمنٹ ایڈیٹر وابستہ ہیں۔ جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغ عامہ کے گریجویٹ سیاسی میدان کی خاک بھی چھانتے رہے۔ کاٹ دار جملے اور نوک دار الفاظ تحریر کا خاصہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */