ہجر و وصال کی داستان - سمیرا غزل

آشنائیوں کا موسم اتنا مختصر ہوتا ہے کہ زندگی جدائیوں کا ملال بن کر رہ جاتی ہے، نیلے آسمان پر تیرتی دودھیا لکیریں یا افق کے پار جھانکتی نارنجی کرنیں، سب پل دو پل کی کہانی ہی تو ہے.

بند آنکھیں، طویل زخم خوردہ سفر، کچھ ٹھنڈی آہیں، ان آہوں، بند آنکھوں اور زخمی سفر سے جھانکتے کچھ مناظر جو دل کے جھروکے میں ابدی قیام گاہ بنالیتے ہیں، پھر جب ہوائیں اپنا رخ بدلتی ہیں، تو یہ مناظر ٹیس دینے لگتے ہیں، اس مختصر وقفے میں سالوں کی یلغار چھک چھک کرتی ریل گاڑی کی طرح نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے.

قلب مضطرب کو کھنگالنے سے یہ عقدہ وا ہوتا ہے کہ وہ سرورآگیں لمحات سے خالی نہیں ہے، مگر آشنائیوں کے دکھ نے ان پر نگاہ بےنیاز ڈالنے سے زیادہ فرصت نہیں دی. یہ عدیم الفرصتی سرد موسم میں، کمبل میں دبک کر مونگ پھلی کا ذائقہ اور آتشدان سے اٹھنے اور مسحور کر دینے والی حرارت کو محسوس کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے اور صرف اتنا ہی نہیں ہوتا، بلکہ جس موسم میں سانسوں کی خوشگوار حرارت کا مزہ لینا چاہیے، اس میں تکیہ آنسوؤں سے گیلا ہوتا رہتا ہے.

تو کیا زندگی کے موجود انمول لمحوں کو ان گزرے ہوئے لمحوں کی خاطر بوجھل بنا لینا چاہیے، جن کی آشنائی کا دکھ ہمارے رگ و پے میں سرایت کرگیا ہے، کیا اس کمرے، گلی، محلے اور تکیے کی قید میں، میسر کو بھلا دینا چاہیے، اگر کل موتیا پاس تھا تو آج چنبیلی تو ہے نا؟ کل بارش دیکھی تو آج برف باری کے مزے لو، تکرار تو ویسے بھی زندگی کا لطف ختم کر دیتی ہے، پچھلی چیزیں یاد ہی تب آتی ہیں، جب ان کی جگہ نئی چیزیں لے لیں، یکسانیت اکتاہٹ پیدا کرتی ہے، تبدیلی زندگی کو دلچسپ اور متحرک بناتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   لبرل منافقت کی کیس اسٹڈی ، زندگی تماشہ بمقابلہ میرے پاس تم ہو - محمد عاصم حفیظ

پرانی آشنائیوں کو حال کی آشنائیوں سے یکجا کرکے دیکھیے، زندگی رواں ہوجائے گی، امریکہ والے بھی ان لمحات میں پاکستان کی خوشبو محسوس کرلیں گے، شہر والے گاؤں کی اور گاؤں والے شہر کی.

البتہ ہجر اور وصل کی داستان کشید کرتے اس سفر غم میں کوئی چیز نعم البدل نہیں ہے تو وہ ہے انسان! جس کا غم ہم سب سے پہلے ہلکا کرلیتے ہیں.