روح کی صحت کا بھی خیال رکھیں - بینِش خان

انسان جسم اور روح کا مرکب ہے۔ جتنا جسم اہم ہے اتنی ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ روح اہم ہے۔ جسم کو صحت مند رہنے کے لیے متوازن خوراک اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کی متوازن خوراک مین پروٹین، وٹامن، معدنیات اور چکنائی وغیرہ کا شامل ھونا صروری ہے۔ اگر کسی ایک چیز کی بھی کمی ہو جائے تو جسم میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور انسان بیمار ہو جاتا ہے۔

ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہماری اکثریت اپنی ذات کے ایک حصے یعنی جسم اور جسمانی صحت کا تو بہت خیال رکھتی ہے لیکن دوسرے حصے کو بالکل نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ ہم جسم کی صحت اور ظاہری حسن پر وقت بھی لگاتے ہیں اور پیسہ بھی۔ اگر بیمار ہوجائیں تو ہزاروں، لاکھوں ڈاکٹر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ظاہری خوبصورتی اور زیبائش پر بھی بےتحاشا پیسہ اور وقت لگایا جاتا ہے اور اس دوڑ میں خواتین مردوں سے کئی ہاتھ آگے ہیں۔ اسی وجہ سے اب ہمارے ہاں بھی اب جم کلچر عام ہوتا جا رہا ہے، خود کو فٹ رکھنے کےلیے اب اکثر لوگ باقاعدہ ورزش کے لیے جم جاتے ہیں، جس میں پیسہ بھی لگتا ہے اور وقت بھی، پھر ظاہری خوبصورتی کے لیے بھی بڑی تگ و دو کی جاتی ہے، اور لاکھوں روپے کاسمیٹکس مصنوعات پر لگا دیے جاتے ہیں۔ خواتین اپنےظاہری حسن کو بڑھانے کے لیے باقاعدہ پارلرز جاتی ہیں تاکہ ان کی خوبصورتی میں اضافہ ہو اور وہ حسین اور دلفریب دکھتی رہیں۔ خود جسم پر اتنی توجہ اس لیے دی جاتی ہے کہ اس پر لوگوں کی نظر ہوتی ہے، لوگوں کی نظر میں اچھا بننے اور جچنے کے لیے کتنے جتن کیے جاتے ہیں لیکن کیا اپنے رب کی نظرمیں اچھا بننے کی بھی کوشش کرتے ہیں ہم؟

اب روح کی طرف آئیے۔ یہ روح کیا ہے؟
قرآن میں اللہ تعالی روح کے بارے میں فرماتا ہے۔
اور یہ (کفّار) آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، فرما دیجیے: روح میرے رب کے اَمر سے ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا سا علم دیا گیا ہے.(17:85)

روح کی غذا کیا ہے؟
جس طرح جسم کو صحت مند اور توانا رہنے کےلیے اچھی خوراک اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح روح کو بھی صحت مند رہنے کے لیے غذا کی ضرورت ہوتی ہے لیکن روح کی غذا جسمانی غذا سے یکسر مختلف ہے۔ روح کی غذا عبادات، نماز، روزہ اور اذکار وغیرہ ہیں، یہی اعمال ہیں جو روح کو صحت مند اور پرسکون رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں موسیقی کو روح کی غذا سمجھا جاتا ہے۔ ایک مؤمن کی روح موسیقی سے کیسے سکون حاصل کر سکتی ہے جبکہ اسے پتہ ہو کہ موسیقی کواس کے رب نے حرام قرار دے دیا ہے۔ روح کو رب کا امر کہا گيا ہے تو یہ چين اور سکون بھی اسی کے احکامات پر عمل کر کے پائے گی۔

قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے: بیشک دل کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے. (13:28)

مگر روح کے سکون اور آرام کو وہاں تلاش کیاجاتا ہے جہاں رب نے اسے رکھا ہی نہیں، یہی وجہ ہے کہ آج مغربی دنیا جو کہ بہت ترقی یافتہ ہے، زندگی یہاں سہولتوں کی وجہ سےبہت آسان ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں ڈپریشن بہت عام ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں چار میں سے ایک بندہ ڈپریشن کا شکار ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ روح اور دل کے سکون کا تعلق مال و دولت اور دنیاوی آرام و آسائش سے نہیں۔

اگر جسم کا خیال نہ رکھاجائے، اس پر توجہ نہ دی جاۓ تو وہ بیمار ہوجاتا ہے، اسی طرح اگر روح کو بھی مسلسل نظرانداز کیا جاتا رہے تو وہ بھی بیمار ہو جاتی ہے۔ اکثر کام جو جسم کی لذت کے لیے کیے جاتے ہیں، وہ اگرگناہ کے کام ہوں، ان میں رب کی نافرمانی ہو تووہ لازما روح پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور روح کو پریشان اور بےچین کر دیتے ہیں، اور انسان روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ جب ہم اپنی روح کو بھی جسم کی طرح مناسب اور متوازن غذا فراہم کریں گے، اور جس طرح جسم کو سردی،گرمی سے بچاتے ہیں، بیمار ہو جائے تو علاج کراتے ہیں، اسی طرح روح کو بھی گناہوں سے آلودہ نہ کریں، اگرگناہ ہو بھی جائے تو فورا توبہ و استغفار سے اسے صاف کر لیں، اپنے جسم و روح کو رب کی مرضی کے تابع کر لیں تو پھر ایسے ہی نفوس کو کہا جاۓ گا۔
اے اطمینان والی جان اپنے رب کیطرف واپس ہویوں کہ وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی پھر میرے خاص بندوں میں شامل ہو اورمیری جنت میں آ۔ (89:27)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com