بابا شمس کی دعا - محمد اقبال قریشی

دعا کی قبولیت کے یوں تو آپ نے بہت سے واقعات پڑھ اور سن رکھے ہوں گے لیکن جو واقعہ میں آپ کی نظروں سے گزارنے لگا ہوں، شاید آپ نے پہلے کبھی نہ سنا ہو۔

تب راقم ادارہ جہانگیر بک ڈپو کے ماہنامے شیف اسپیشل کا اسسٹنٹ ایڈیٹر تھا، ادارے کے ہی دوسرے میگزین جہانگیر ورلڈ ٹائمز کے ایڈیٹر نعمان صاحب تھے، وہ جزوقتی فرائض سرانجام دیتے تھے، دوپہر کے بعد دی نیوز تشریف لے جاتے۔ ہم اکثر ریواز گارڈن میں آفس کے سامنے واقع چھوٹی سی گراؤنڈ میں بیٹھ کر چائے پیتے اور گپ شپ لگایا کرتے۔ ایک دن بات چل نکلی کہ لوگ آج کل بابوں کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہیں، سڑک کنارے بیٹھے فقیر نما شخص سے پرائز بانڈ کے نمبر معلوم کرتے ہیں، میچوں کے رزلٹ پوچھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمارے ایک کولیگ کا مؤقف تھا کہ یہ سب ضعیف الاعتقادی کے سوا کچھ نہیں۔ بابے شابے کچھ نہیں ہوتے، یہ سب جہالت ہے وغیرہ وغیرہ۔ ابھی شاید وہ اور بھی کچھ کہتے کہ نعمان صاحب نے اپنا چایئے کا خالی کپ کرسی کے نیچے زمین پر سرکایا اور اپنی مخصوص بلغمی آواز میں گویا ہوئے:
بابے ہوتے ہیں تصدق صاحب، آپ کی آج تک کسی بابے سے ملاقات نہیں ہوئی تو یہ اور بات ہے۔
ہم دونوں ان کا منہ دیکھنے لگے۔

نعمان صاحب کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک حیرت انگیز واقعات تھے، لیکن سناتے وہ تب ہی جب ان کا موڈ ہوتا۔
یہ واقعہ میرے ایک عزیز کے ساتھ پیش آیا۔ نعمان صاحب بتانے لگے، ’’یہ ون یونٹ کے زمانے کی بات ہے جب سرکاری ملازم کی پوسٹنگ پاکستان میں کہیں بھی کی جاسکتی تھی، پورا پاکستان ایک یونٹ شمار ہوتا تھا اور کسی بھی صوبے سے دوسرے صوبے میں بھیجا جانا ایک معمولی بات تھی۔ لاہور میں ہمارے ایک عزیز اچھی خاصی سرکاری پوسٹ پر فائز تھے۔ ایک دن اپنے باس سے کسی بات پر اختلاف ہوگیا اور انھوں نے انتقاماً ان کی پوسٹنگ سندھ کے ایک دورافتادہ مقام پر کروا دی۔ وہ صاحب جن کا نام اس وقت رشید صاحب فرض کر لیتے ہیں، لاہور سے بےحد لگاؤ رکھتے تھے، سارے عزیز رشتہ دار بھی لاہور میں تھے، سب سے بڑھ کر یہ کہ اس پس ماندہ علاقے میں جا کر وہ ان تمام شہری سہولیات سے محروم ہو جاتے جو انھیں لاہور میں حاصل تھیں۔ وہ اپنی والدہ کے پاس گئے اور دعا کی درخواست کی۔ والدہ پرانے وقتوں کی خاتون تھیں، دعا مانگی اور بیٹے کو دلاسہ دیا، رشید صاحب بھی اپنی سی بھاگ دوڑ کرنے لگے لیکن ان کے باس نے پکی گولیاں کھیلی تھیں، وہ جہاں بھی جاتے انکار ہی ملتا، آخر روانگی کے دن قریب آگئے۔ بیگم اور بچوں نے بھی بادل نخواستہ تیاریاں شروع کر دیں، کوئی بھی اتنی دور جانے کو تیار نہ تھا لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ رشید صاحب کا جوائنٹ فیملی سسٹم تھا اور سب سے زیادہ دکھ انھیں اپنے بھائیوں اور سب سے بڑھ کر والدہ سے دور جانے کا تھا۔ بیوی بچوں کو سامان کی پیکنگ کرتے دیکھ کر ان کا دل بھر آیا اور بےاختیار والدہ کے کمرے میں جا پہنچے۔ کچھ اور نہ بن پڑا تو ان کے قدموں میں سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیے۔ بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر ماں کا دل بھی بھر آیا، زیادہ قلق اس بات کا تھا کہ اس نے دن رات دعا مانگی لیکن بیٹے کی مراد پھر بھی بر نہ آئی۔

یہ بھی پڑھیں:   خالق و مخلوق کے عارف - ابو یحییٰ

رشید صاحب اگلے روز دفتر گئے تو ان کے ایک کولیگ نے بتایا کہ باباشمس سے دعا کروا کے دیکھ لو، ان کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ وہ سیالکوٹ کی کسی فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔ آخری امید کے طور پر رشید صاحب پتا معلوم کر کے اسی وقت سیالکوٹ روانہ ہوئے اور مطلوبہ فیکٹری پہنچ گئے۔ وہاں جاکر باباشمس کا پوچھا تو کسی نے توجہ نہ دی، آخر ایک چوکیدار نے بتایا کہ بابا شمس نام کا ایک بابا پچھلے گودام میں صفائی کے کام پر مامور ہے۔ یہ سن کر رشید صاحب کچھ حیران ہوئے کہ خاکروب نما شخص سے اپنے حق میں دعا کیوں کر کروائی جائے۔ ضرور انھیں غلط فہمی ہوئی تھی، وہ کسی اور باباشمس کے پاس آئے تھے، وہ پلٹ کر جانے لگے کہ اچانک ان کے دل نے کہا کہ ایک بار دعا کروانے میں کیا حرج ہے ۔

پچھلے گودام ميں پہنچے تو ایک خمیدہ کمر والا بابا جھاڑو لگا رہا تھا، لباس اس قدر بوسیدہ تھا کہ سمجھ نہ آتا تھا کس کپڑے سے بنا ہے۔ رشید صاحب وہاں پہنچے تو بابا جی ان کی طرف متوجہ ہوئے، سلام کیا تو بابا جی نے توتلی زبان میں جواب دیا، اب تو رشید صاحب کو یقین ہوگیا کہ وہ غلط جگہ آئے ہیں، بھلا ایک ایسا شخص جس نے بوسیدہ لباس پہن رکھا ہے، ٹھیک طرح بات بھی نہیں کر سکتا، اس کی دعا کو ان کے حق میں کیوں کر قبولیت کا درجہ ملتا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی رشید صاحب نے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا تو بابا جی ایک لمحے کے لیے ٹھٹھکے اور پھر ایک کونے میں پڑی بوری سے گرد جھاڑ کر زمین پر بچھائی اور نیت باندھ لی، نماز پڑھی اور اپنی توتلی زبان میں بولے:
اے اللہ! میں اس شخص کو نہیں جانتا، لیکن تو سب کچھ اچھی طرح جانتا اور خوب سمجھتا ہے، اس کا مسئلہ حل فرما دے۔
اتنا کہہ کر باباجی نے بوری سمیٹی اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئے، رشید صاحب نے رسمی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے واپس گھر آگئے۔ ان کے دل پر ایک عجیب سا بوجھ تھا، کل ان کا دفتر میں آخری دن تھا۔ وہ بھاری دل کے ساتھ دفتر پہنچے، اپنی میز پر گئے تو ایک سربمہر لفافہ ان کا منتظر تھا، لفافہ کھولا تو حیرت سے اپنی جگہ گنگ کھڑے رہ گئے، اس میں ان کا تبادلہ رکوانے کے احکامات تھے۔ رشید صاحب کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیسے اس کی کوئی توجیہ تراشیں، اسی وقت گاڑی نکالی اور کل والی فیکٹری جا پہنچے، چوکیدار سے بابا شمس کا پوچھاتو وہ بولا:
صاحب جی! وہ تو کل آپ کے جانے کے بعد ہی اپنا سامان لے کر کہیں چلے گئے۔
وہ کب واپس آئیں گے؟ رشید صاحب نے بے چین لہجے میں پوچھا۔
صاحب! بابا جی ایک بار جہاں سے چلے جاتے ہیں، پھر پلٹ کر نہیں آتے، میں نے تو یہی سنا ہے، خدا جانے اب کہاں ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   مانگنا - خرم علی راؤ

رشید صاحب کو یقین ہو گیا کہ اب شاید بابا جی دوبارہ ان سے کبھی نہ ملیں، ان کا راز جو کھل گیا تھا، اور پھر ہوا بھی یہی۔
رشید صاحب کی دوبارہ کبھی پوسٹنگ نہ ہوئی، وہ لاہور سے ہی ریٹائرڈ ہوئے۔

Comments

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی

محمد اقبال قریشی: مدیر، مترجم، ادیب، اور کہانی کار۔ ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے نائب مدیر رہ چکے ہیں ۔ شکاریات، مہم جوئی اور کمپیوٹرسائنس پر مبنی ان کی تحریریں ایک عرصہ تک اردو ڈائجسٹ کے صفحات کی زینت بنتی رہیں۔ بچوں کے ادب اور درسی کتب کی تحریر و ترتیب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں