جوائنٹ فیملی سسٹم - عابد محمود عزام

ایک جگہ بیٹھے جوائنٹ فیملی سسٹم پر بات چل نکلی۔ میں سامع تھا، مگر احباب دو فریق بن کر بحث میں حصہ لے رہے تھے۔ ایک فریق مداح، جس نے جوائنٹ فیملی سسٹم کو اسلامی نظام قرار دیا اور دوسرے نے ہندوانہ نظام کہہ ڈالا۔ دونوں فریق اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک دلیل لا رہے تھے۔

جب دونوں فریق اپنا موقف بیان کرچکے تو میری رائے جاننے کی کوشش کی گئی۔ میرا موقف مگر جدا تھا کہ مشترکہ فیملی سسٹم ایک معاشرتی روایت ہے، جسے اسلامک یا ہندوانہ قرار دینا راہ اعتدال سے انحراف ہے۔ اس ضمن میں پائی جانے والی دونوں آراءجذباتی اور معاشرتی تناﺅ کا نتیجہ ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ مشترکہ خاندانی نظام پر برصغیر کے ہندوانہ ماحول کے اثرات ضرور ہیں، کیونکہ یہاں بسنے والوں کی اکثریت ہندوستان سے آئی ہے اور آتے ہوئے وہاں کی بہت سی روایات کو بھی ساتھ لے آئی، جو بعد میں پاکستانی معاشرے میں اسی طرح سرایت کر گئیں، جس طرح دیگر بہت سی ہندوانہ رسوم یہاں اپنے پنجے گاڑھ چکی ہیں، اس کے باوجود جوائنٹ فیملی سسٹم کو ہندوانہ نظام قرار نہیں دیا جاسکتا۔اسلام نے کوئی خاص خاندانی نظام متعین نہیں کیا، بلکہ کچھ بنیادی اصول و ضوابط ضرور متعین کیے ہیں، جو جس بھی سسٹم میں پائے جائیں، وہ بہترین قرار پاتا ہے۔ کسی بھی تعلق و رشتہ داری کو نبھانے اور اس کے حقوق ادا کرنے میں اللہ کا ڈر اور خوف اہم کردار ادا کرتا ہے، جہاں یہ خوف نہ پایا جائے، وہاں یقینا چپقلش جنم لیتی ہے۔ آج مشترکہ خاندانی نظام میں چپقلش شاید اسی وجہ سے بڑھ گئی ہے کہ شریعت کے اصولوں کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔ کہیں ساس، بہو میں نہیں بنتی تو کہیں نند اور بھاوج دشمن بنی ہوئی ہیں .

اور کسی گھر میں جٹھانی اپنی دیورانی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اور پھر ساس و سسر کی خدمت کا مسئلہ، ساس وبہو کے تنازعات، شرعی پردے کا اہتمام نہ ہونا، فیملی ممبرز اور رشتہ داروں کے درمیان ناچاقی اور ان جیسے متعدد مسائل نے معاشرتی زندگی کو متاثر کیا ہے، جو صرف جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے ہی ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام میں سسرالیوں کی بہوؤں سے توقعات بہت زیادہ قائم ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات تو شوہروں کی طرف سے بھی یہ دباﺅ ہوتا ہے کہ وہ گزشتہ زندگی کو بھول کر فوری طور پر ان کے گھر کے طور طریقے اپنا لیں، حالانکہ بہو بن کر آنے والی لڑکی کی اپنی بھی کوئی سوچ ہوتی ہے، جس میں برسوں پلی بڑھی ہے، اس کو زبردستی بدلا نہیں جاسکتا۔ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں اپنے کچھ خواب رکھتے ہیں جن کو وہ مستقبل میں پورا کرنا چاہتے ہیں۔ عورت اپنے والدین کے گھر سے شوہر کے گھر ایسے گھر کا تصور لے کر آتی ہے جو صرف اس کا ہوگا، جس کی وہ تزئین و آرائش کرے گی، مگر شوہر کے گھر آکر پتہ چلتا ہے کہ یہ گھر اس کا اپنا نہیں، بلکہ یہاں دیگر بہت سے افراد کی حکمرانی ہے تو سب خواب چکنا چور اور سب تصوراتی محل منہدم ہوتے نظر آتے ہیں۔ اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ نئے گھر میں صرف روٹی کپڑے کی ملازم ہے، کیونکہ اس سے سب سے زیادہ مطالبہ گھریلو کاموں کا ہی کیا جاتا ہے،

جبکہ شوہر بھی سمجھتا ہے کہ والدین کی خدمت کرنا بیوی کے ذمے ہے اور ان کی خدمت سے انکار کرنے کو ماں باپ کی نافرمانی اور اسلام کے خلاف سمجھا جاتا ہے، حالانکہ شوہر کے بوڑھے والدین کی خدمت کرنا بیوی کی اخلاقی ذمہ داری تو ہے، لیکن اسے بیوی پر لازم بالکل نہیں کیا جاسکتا اور ایسے حالات میں تو بیوی کے لیے اور بھی مشکل ہوجاتا ہے، جب شوہر کے والدین بڑھاپے کو پہنچ چکے ہوں، جن کا مزاج، سوچ اور خواہشات جوان اولاد کی سوچ، مزاج اور خواہشات سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بات پر والدین اولاد اور اس کے بیوی بچوں کو ڈانٹنے لگتے ہیں اور اسی کشمکش میں خاندان کے چھوٹوں کو بڑوں کے بے جا جبر اور بڑوں کو چھوٹوں سے عدم تعاون کی شکایات شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ سب جوائنٹ فیملی سسٹم کی وجہ سے ہوتا ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام میں اگرچہ بہت سی خامیاں موجود ہیں، لیکن پاکستان کے عوام کے موجودہ حالات کے لحاظ سے نہ صرف کافی موزوں ہے، بلکہ ہماری معاشرتی اور سماجی نظام زندگی سے کافی ہم آہنگ ہے۔ اگر کوئی شخص مشترکہ خاندانی نظام کو نہیں اپنانا چاہتا تو اس کی مرضی، لیکن جو خوشی سے اس نظام کو اپنانا چاہتا ہے یا جن کے لیے اسے اپنانا مجبوری ہے، ان پر تنقید نہیں کی جاسکتی، کیونکہ پاکستانی معاشرے میں لوگ مختلف قسم کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ کہیں اسے اپنانا مجبوری ہے،

کہیں یہ خیر کا باعث ہے اور کہیں یہ ٹوٹ پھوٹ اور ناکامی کا شکار ہے۔ بیشتر جگہوں پر یہ مجبوری کے طور پر نافذ ہے، کیونکہ پاکستان میں ایک بڑی تعداد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جن کے لیے کسی قسم کی جائیداد اور اس کی تقسیم کا معاملہ نہیں ہے۔ تمام تر مسائل اور مشکلات کے باوجود مشترکہ خاندانی نظام کو اپنائے رکھنا ان کی مجبوری ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم اشرافیہ اور اپر مڈل کلاس کا مسئلہ ہے ہی نہیں، کیونکہ وہ جب اور جہاں چاہیں نیا گھر خرید سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کا ہے، مشترکہ خاندانی نظام جن کے لیے وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی، محدود آمدنی، کم وسائل، مہنگے پلاٹ، بے پناہ تعمیری لاگت اور کرایہ کے گھر کی وجہ سے مشترکہ خاندانی نظام سے چاہ کر بھی چھٹکارا پانا اس طبقے کے لیے آسان نہیں ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں پائی جانے والی خامیوں سے انکار نہیں، لیکن اس کی افادیت اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام اپنے اندر بہت سی خوبیوں کو سموئے ہوئے ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کی صورت میں ہم اپنے بزرگوں کے سائے میں رہتے ہیں، جو ہمیں زمانے کے مختلف قسم کے حالات سے بچاتے ہیں۔ بچوں کی پرورش اور تربیت کے لیے مشترکہ خاندانی نظام سے بہتر کوئی ادارہ نہیں۔ والدین کی عدم موجودگی میں بھی انہیں بھرپور توجہ ملتی ہے۔

دادی اماں کی کہانیاں بچوں کی اخلاقی تربیت کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ بزرگ ہی ہوتے ہیں، جو بچوں کو اچھے برے میں تمیز سکھانے کے ساتھ ساتھ مذہب کے بارے میں معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔ گھر میں موجود دیگر بچوں کی وجہ سے ان میں تنہائی کا احساس نہیں ہوتا۔ مشترکہ خاندانی نظام کی وجہ سے گھر کے افراد میں آپس میں تعلق اور محبت کا رشتہ پھلتا پھولتا ہے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، اس کے علاوہ خوشیوں کے مواقع پر بھی بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ معاشرتی سہولیات کے ساتھ اس مہنگائی کے دور میں گھر کا بوجھ کسی ایک شخص کے کندھے پر نہیں ہوتا، بلکہ سب مل جل کر بار اٹھا لیتے ہیں۔ جب کسی بھی فرد پر کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو سارے گھر والے اس کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا انسانوں کا بنایا ہوا کوئی بھی سسٹم خامیوں سے مکمل طور پر پاک نہیں ہوتا، اسی طرح جوائنٹ فیملی سسٹم کی خوبیوں اور خامیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس کو اسلامی یا ہندوانہ نظام بھی قرار نہیں دیا جاسکتا، بلکہ اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی خوبیوں کو اپنانے اور خامیوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اگر استطاعت کو تو جوائنٹ فیملی سسٹم کو چھوڑ کر سنگل فیملی سسٹم کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com