مجھے موت پسند ہے - جویریہ سعید

موت اک عجیب و غریب موضوع ہے. عموما یہ دہشت اور غم کا بیان ہے. مگر میں نے اس بارے میں ذرا مختلف طریقے سے سوچا ہے.

میں مانتی ہوں کہ دنیا، اس کی رونقیں، اپنی مانوس اشیا اور اپنے پیاروں کو چھوڑ کر جانا ایک بہت تکلیف دہ احساس ہوگا. مگر سفر اور جدائی میرے لیے کوئی انہونی شے نہیں ہے. کئی برس پہلے میں اپنے پیارے گھر سے اور اپنے بےحد عزیز لوگوں سے رخصت ہو کر ایک بالکل اجنبی ماحول میں منتقل ہو گئی تھی. میرا کمرہ، میرا بستر، میری بہنیں جن سے ہر رات لڑے بغیر سونا ناممکن تھا. میرے کمرے کی وہ کھڑکی جہاں میں نصف شب کو کھڑے ہو کر سوئے ہوئے شہر اور جھلملاتے ہوئے تاروں کو تکا کرتی تھی اور چاند سے باتیں کرتی تھی. ڈرائنگ روم کا وہ صوفہ جہاں میری مستقل رہائش تھی. وہیں پر پڑھنا، وہیں اوندھے لیٹ کر الٹے سیدھے بلکہ اپنی مرضی کے خواب دیکھنا اورکہانیاں لکھنا. ساحل کے ساتھ ساتھ چلتی وہ سڑک جس پر ابو فجر کے بعد ڈرائیونگ سکھانے لے جاتے تھے. وہ سب کچھ چھوڑنا پڑا.

میرا پیارا ایس ایم سی، جس کے کامن روم کو میں نخلستان کہا کرتی تھی، وہی جس میں ہماری ایک ساتھی صرف اس لیے آنے سے ڈرتی تھی کہ اس کا خیال تھا کہ اس کی چھت اپنی قدامت اور بوسیدگی کے سبب کبھی بھی گر سکتی ہے. جس کے کاریڈورز میں میں نے اپنی زندگی کے سب سے حسین دن گذارے. کچھ وہ چہرے کہ رشتۂ جاں تھا کبھی جن کا خیال. ان کی جدائی کے تصور سے سانسیں رکتی تھیں. اب تو یہ بات بھی حماقت لگتی ہے کہ سجدوں میں کس بےقراری سے ان کا ہمیشگی کا ساتھ مانگا کرتے تھے.

پھر اپنا وطن بھی چھوٹا. وہ گلیاں، وہ لوگ، وہ سمندر، وہ میرا صدر بازاراور اس کی الف لیلوی دنیا. ڈاؤ میڈیکل کالج یا ریگل جاتے ہوئے، گھوڑا گاڑیاں باعث تاخیر بن جاتی ہیں. مگر کتنی اچھی لگتی ہیں. سو سال پرانی عمارت میں گھٹنوں سے نیچی فراک پہنی اس لڑکی کو دلچسپی سے دیکھنا، اتوار کی صبح سڑکوں پر بکھری کتابوں میں ’’جینوئن‘‘ ابن صفی کی عمران سیریز ڈھونڈنا. وہ نارتھ ناظم آباد اور حیدری بازار جسے اپنی پشت پر کھڑی پہاڑی اور پودوں کی نرسریوں کی وجہ سے بالاخر اپنا تسلیم کر لیا. وہ اذانوں کی آوازیں، میٹھے پھل، سرخ چہرے والا جذباتی ڈرائور، ڈھیروں پودے اور پیارے پیارے رکشے جو ہر خاتوں کا سہارا تھے، سب چھوڑنے پڑے. ( اگر کینیڈا میں رکشے ہوتے تو شاید بہت سی خواتین ڈرائیونگ نہ سیکھتیں).

میرا وہ عزیز از جان بھائی، جس نے بالکل اچانک ہی چلتے چلتے ہمارا ہاتھ چھوڑ دیا، اور انجانے دیس کے سفر پر روانہ ہوا. میری وہ دوست جو کالج بس کی طرف دوڑتے ہوئے ریل گاڑی کی زد میں آگئی تھی. میرے نانا ابا، حکیم محمد سعید ، قاضی صاحب ... سب وہیں کو سدھارے. شاید اسی لیے جدائی کا خیال اب میری سانسیں نہیں روکتا.

موت مجھے کسی قدر انجانی اور کسی قدر مانوس دنیا کے انوکھے سفر کا دروازہ لگتی ہے. مجھے علم ہے کہ آپ بھی مجھے میرے صاحب کی طرح حساب کتاب، اور سزاؤں کے بارے میں یاد دلا کر ڈرانے اور اس سوچ کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کریں گے مگر..
مگر میرے لیے موت اس ہستی سے ملنے کا ’’فائنلی‘‘ ابتدائیہ ہو گی، جس سے میں نے محبت کی ہے، لڑائیاں کی ہیں، شکوے کیے ہیں. اور کئی مرتبہ مزے سے کہا ہے، ’’مجھے پتہ ہے کہ آپ مجھے گناہ نہیں دیں گے، کیونکہ یو نو واٹ آئی مین!‘‘ اور ’’سنیے! یہ کوئی بات نہیں ہوئی کہ ان کی تو اس بات کو آپ نے سپورٹ کر دیا، اور میری بات کو نہیں کیا.‘‘ ’’لیکن مجھے یقین ہے کہ دنیا کچھ بھی سمجھے، آپ مجھے سمجھتے ہیں، اور میرا فیصلہ تو آپ ہی کریں گے‘‘. وغیرہ وغیرہ

یہ بھی پڑھیں:   زندگی کی بے ثباتی - مناحل عمر

میں نے تصور بھی کیا ہے اور خوابوں میں بھی کبھی کبھی دیکھا ہے کہ میں ان سے کہاں ملوں گی؟
ایک ایسا بڑا سا میدان جس کی تاریکی میں نارنجی اور سرخ سا رنگ ملا ہوگا. یا پھر سیاہ لامتناہی فضاؤں میں معلق فانوسوں پر جلتی شمعوں کے پرے آپ کہیں ہوں گے. یا پھر سنگ مر مر کے جن سفید ایوانوں میں، میں سفید لبادہ اوڑھے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں گی، انہی کے اردگرد باغوں میں آپ کی موجودگی کا احساس ہوگا. یا پھر کسی تاریک سرنگ میں سے گزرتی ہوئی آپ کی آواز میرے وجود پر سرسرائے گی.اور میں یکطرفہ گفتگو کی اذیت سے نجات حاصل کرکے ’’ون ٹو ون‘‘ مکالمے کی عیاشی کے مزے اڑا سکوں گی.

آپ سے گفتگو کے لیے مجھے ایسا لگا ہے کہ اردگرد اشیاء اور مناظر کی بھرمار نہیں ہونی چاہیے. کوئی ایسی جگہ جہاں میں صرف آپ کی موجودگی محسوس کر سکوں. وہ ایک انوکھی دنیا، جیسے انسانوں کے ’’امیجینیریم‘‘ ہوتے ہیں، ٹولکین کے روینڈل جیسی یا پھر DR. parnasas کے imaginarium کے کچھ خدو خال اس سے ملتے ہوں گے، ایسی ان دیکھی رہداریاں جہاں فرشتوں کے نفیس پروں کی سرسراہٹ سنائی دیتی ہو گی.

وہ دفاتر جہاں اس قلم کے چلنے کی آوازیں سنائی دیتی ہوں گی جس کی قسم کھائی گئی ہے. وہ بلند و بالا عالم جہاں سے ہماری یہ دنیا کس قدر حقیر، کس قدر ننھی منی اور کس قدر مختصر نظر آتی ہوگی. وہاں سے بیٹھ کر اس دنیا کا نظارہ کیسا لگتا ہوگا؟ وہاں بیٹھ کر شاید ہمارے زمانوں کو کسی لاکھوں سال پرانی کتاب کے وزنی اوراق کی طرح چند لمحوں میں پڑھ کر پلٹ دیا جاتا ہوگا. حقیر انسانوں کو خدائی کے دعوے اور خالق حقیقی کا انکار کرتا دیکھ کر وہاں کے رہنے والے کھلکھلا کر ہنستے ہوں گے یا پھر بے نیازی سے نظر انداز کر کے کچھ دوسرے زیادہ اہم کاموں لیے آگے بڑھ جاتے ہوں گے. وہ عالم برزخ جہاں انسان اپنے مادی وجود کے لباس کو اتار کر عدم میں اپنا روحانی وجود محسوس کرتا ہوگا تو اپنی گزشتہ زندگی کے بارے میں کیا سوچتا ہوگا.

پھر وہیں کہیں وہ بھی ہوں گے، وہ کہ جن سے ملنے کے تصور سے ہی سانسیں رکتی ہیں. وہ بلائیں گے، میں دائیں بائیں ہو جاؤں گی. کسی کی اوٹ میں چھپ جاؤں گی. وہ کچھ پوچھیں گے، میری آنکھوں کی بارش جواب دے گی. میں بس دور دور سے ان کو دیکھا کروں گی. وہ باغ میں ہیں، وہ بالا خانے میں نقرئی کاسے میں خوشبو دار شراب طہور سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہ کسی سے گفتگو کرتے ہوئے مسکرا رہے ہیں، وہ تکیوں سے سجے اونچے تخت پر محو استراحت ہیں، اور میں چھپ چھپ کر ان کو دیکھتی ہوں. میرے دل کو شک تو ہے کہ ان کو خبر ہو جائے گی، اور وہ بھی نظر بچا کر مجھے اسی طرح دیکھ کر مسکرایا کریں گے جیسے معافی کے منتظر کچھ بےقراروں کے معاملے میں کیا کرتے تھے.

یہ بھی پڑھیں:   سوال جواب - نورین تبسم

مجھے مقدس مریم، بی بی ہاجرہ، حضرت موسی کی والدہ اور فرعون کی بیوی سے ملاقات کا شوق ہے. میں ان سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ انھوں نے آزمائشوں کے وہ پل کیسے اتنی خوش اسلوبی سے طے کر لیے.

مجھے ان کے جانثاروں سے ملنا ہے. اور تحیر عشق کی داستان سننی ہے.
میں نے ان زبردست صلاحیتوں والے انسانوں کا آپ سے مکالمہ سننا ہے. وہ جو اپنی تخلیقی اور ذہنی بے قراریوں میں حقیقت کو کھوجتے یہاں وہاں پھرتے رہے. وہ سائنس دان، ادیب، فلسفی، شاعر اور فنکار.. مجھے سننا ہے کہ آپ منٹو اور ڈارون سے کیا گفتگو کریں گے؟

مجھے لگتا ہے کہ کوانٹم فزکس کے ماہرین ہر رات کے کھانے کے بعد گرم چائے کے کپ کے ساتھ آپ کے ساتھ گفتگو کی ضد کیا کریں گے. اپنی ان تھیوریوں کے بارے میں جاننا چاہیں گے، کہاں ان کا اندازہ بالکل ٹھیک تھا، کہاں ان سے کیا چوک ہوئی، اور کس تھیوری کی حقیقی شکل کس طرح ممکن تھی.

مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ کینسر پر تحقیق کرنے والے سائنس دان آپ سے جاننا چاہیں گے کہ اس موزی مرض کی بیخ کنی کے لئے زیادہ بہتر اور کامیاب اپروچ کیا ہو سکتی تھی؟ اور ماہرین نفسیات شکوہ کریں گے کہ انسانی ذہن کی دنیاؤں کو جانے والا کوئی واضح راستہ تو آپ کو چھوڑنا چاہیے تھا.

اور داستان گو اور شاعر بڑے شوق سے پوچھیں گے کہ سچ سچ بتائیے! ہمارے لفظوں کی جادوگری اور تخلیقی صلاحیتوں پر آپ کا کیا تبصرہ ہے؟

مجھے یہ بھی دیکھنا ہے کہ آپ غم کے ماروں سے کیسے ملیں گے. وہ جو اپنی تقدیر اور تخلیق کی سختیوں میں جکڑے اس دنیا میں اذیت ناک لمحے بسر کرتے تھے. آپ کی طرف سے ان سے گفتگو کرتے کرتے میں تھک گئی ہوں. اب آپ خود ان سے بات کریں گے. ان کو تسلی دیں گے.

مجھے نہ ڈرائیے کہ وہاں کیسی بھیانک سزائیں ہوں گی. آپ مجھ سے میرے خالق سے ملاقات کا شدید ترین شوق اور اس مانوس سی ان دیکھی دنیا کی سیر کی بے قرار خواہش نہیں چھین سکتے.

مجھے علم ہے کہ ٹولکیں کی مڈل ارتھ، اوراسلنگ کا نارنیہ، اور پیٹر پین کا نیور لینڈ اور ایلس کا وندر لینڈ، اور ڈاکٹر پرناسس کا امیجناریم شاید حقیقت میں کہیں موجود نہ ہوں، مگر وہ عالم تو یقیننا اپنا وجود رکھتا ہے، جس کی سچائی کے آگے ہماری یہ دنیا اور اس کی زندگی ایک دھوکہ ہے.

موت میرے لیے ایک ایسا ہی پراسرار اور دلچسپ خواب ہے، جس کی تعبیر سے میں خوفزدہ نہیں ہوں. 🙂
اور ہاں! کسی نے مجھ سے پوچھا:
’’اگر موت اس قدر حسین خیال ہے تو خودکشی سے گریز کیوں؟‘‘
میں نے مسکرا کر عرض کی:
’’ضبط کا عہد بھی ہے، شوق کا پیماں بھی ہے!‘‘

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!