یہ بڑے نصیب کی بات ہے - بریرہ صدیقی

رب کے گھر پہ حاضری کا سفر بلاشبہ بیش بہا برکتوں، کامرانیوں اور معجزات کا سفر ہے۔ ہر منزل لذتوں کے خزانے برساتی ہے کہ اس کا مقصد اور مدعا سوائے رب کی رضا کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ سر زمین مکہ پہ ڈرتے دلوں اور پُر اشتیاق نظروں کے ساتھ صبح کاذب کے وقت قدم رکھے۔ دنیا کی سب بڑی سعادت میرے لیے مقدر کر دی گئی ہے، کوئی بے یقینی کا سا یقین ہے، کوئی مسرت سی مسرت، یقیناً ’’یہ بڑے نصیب کی بات ہے‘‘، سوئے حرم روانہ ہوئے تو قدم رکھتے کہیں اور پڑتے کہیں تھے، گویا اختیار سے باہر ہوں۔ صحنِ حرم سے گزر کر نمازِ فجر اور نوافل ادا کیے۔ سپیدہِ سحر میں چمکدار زرد رنگ کی پٹی کا چھوٹا سا حصہ سیاہ کپڑے پر جگمگاتا نظر آتا اور چھپ جاتا ہے۔ نگاہ اٹھتی اور تاب نہ لا کر جھک جاتی ہے۔ گناہوں کا بوجھ، احساس ندامت اور اپنی کم مائیگی کا احساس ہے جس نے دیکھنے کی ساری صلاحیت جیسے سلب کرلی ہو۔ سیڑھیوں پر رک کر دعا کی۔ ہمارے عین سامنے بیت اللہ شریف، ہمارے گناہوں کو دھونے اور توبہ کی مقبولیت کا مثردہ سنانے اور ہماری دعاؤں کے مستجاب ہونے کی بشارت لیے ہمارا منتظر تھا۔ ہر لفظ، دعا، خیال نے ساتھ چھوڑ دیا، جسم لرزاں بصارت ٹھہر گئی اور منظر بدلنے لگتا ہے۔

ابد تک جاری رہنے والے انسانوں کا سمندر، طواف کی شکل میں، منظم، موجزن ہے۔ یہ ’’بیت العتیق‘‘ ہے۔ وہ ہر دم آبادگھر جس کی قسم کھا کر قیامت کے برپا ہونے کا یقین دلا گیا ہے۔ ’’والبیت المعمور‘‘ اور قسم ہے ا س آباد گھر کی۔ (الطور) اسی گھر کے عین اوپر ساتویں آسمان پہ ’’عرش معلیٰ‘‘ ہے جس پہ رب دوجہاں جلوہ افروز ہے اور جہاں ہر دم ستر ہزار فرشتوں کا طواف جاری و ساری ہے۔ بعینہ اسی مقام پر خانہ کعبہ کی تعمیر پہلے پہل فرشتوں، پھر آدم ؑ، طوفان نوح کے بعد شیثؑ اور پھر ابراہیم ؑ و اسمٰعیل ؑ کرتے نظر آتے ہیں۔ بیٹے کو صرف و عظ و نصیحت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ نیکی کے اس عظیم کام میں اس کی بھرپور معاونت لیتے ہیں۔ تعمیر مکمل ہوئی، بظاہر فنِ تعمیر کا کوئی اعلیٰ نمونہ پیش کیا نہ جمالیاتی فن کا غیر معمولی عکس، ایک سادہ چار کونوں والی عمارت، لیکن اس کی بنیادوں میں ایسی کشش رکھ دی گئی ہے۔ کہ اس کی زیارت کرنے والے کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے۔ ’’دوبارہ آنا کب نصیب ہو گا‘‘۔

میری چشم تصور میں سارے پیش رو ہیں۔ جماعت در جماعت، گروہ در گروہ، حجر اسود کے آس پاس بے پناہ بھیڑ ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کی سہیلی نے حجر اسود کو بوسہ دینے کے لیے ساتھ چلنے کو کہا تو بے پناہ ہجوم کو دیکھتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ ’’نہیں، تم اکیلی ہی چلی جاؤ‘‘، اور خود کنارے پر رہ کر طواف کرنے کو ترجیح دی۔ استلام کے بعد، سنت ابراہیم ؑ کی پیروی میں دعاؤں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ رب ارحمھما کماربَیٰنی صغیراً، نیک عمل کی مقبولیت کی دعا، دنیا و آخرت کی بھلائی اور عافیت کی التجا، ایمان جو ہر دم بدلتی کیفیت کا نام ہے، اس پر استقامت کی دعا، عبادت کی توفیق عطا فرمائی ہے تو اس کے طریقے بھی سکھا دے، ربنا ارنا منا سکنا، تیرے پاک ناموں کے واسطے، تیری وسعت کو سامنے رکھ کر، اسی حساب سے بے حساب مانگتے ہیں، انفرادی اور اجتماعی گناہوں سے توبہ کی درخواست ہے۔ میرے ساتھ میرے عزیز و اقارب کی ڈھیروں دعاؤں کی امانت بھی ہے۔ جن کی درخواست بڑے یقین اور بڑے مان سے کی گئی ہے۔ اس یقین کی لاج رکھ لے اے مالک! اور سب کی جائز حاجات قبول فرما۔ ہماری اولاد اور اس کی اولاد اور آئندہ کی تمام نسلوں کو نیکی پر قائم رکھ۔ ہم سراپا دعاہیں، مجسم دعا، ایسی دعا جو در سے لپٹ لپٹ جاتی ہے۔ مجھے یقین ہے۔ ولم اکن بد عا ئک رب شقیا۔ میرے رب! میں تجھ سے دعا مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا (القرآن)۔ طواف سے فارغ ہو کر، دنیا کی تاریخ میں ’’امید‘‘ کے سب سے طاقتور اور مؤثر ترین پیغام ’آبِ زم زم‘‘ سے سیراب ہو کر صفا مروہ کی طرف قدم بڑھائے۔ کوہِ صفا مروہ، مساواتِ مرد و زن کا انمول مظہر ہے جہاں ایک طرف والدکی اولاد کی قربانی کے مقام کو تا دمِ حیات طواف کے لیے وقف کر دیا، وہیں ایک خاتون کی ادا بارگاہ الٰہی میں یوں مقبول ہوتی ہے کہ اسی رفتار، اور اسی انداز میں اسی مقام پر ، دوڑنا، حج و عمرہ کا لازمی منسلک ٹھہرتا ہے۔ کتنے ہی پیغام پنہاں ہیں طواف و سعی کے اس منسک میں، زندگی ساری کی ساری اسی سے عبارت ہے۔ اجتماعیت اورحرکت، سارعوا کا پیغام بھی یہی ہے، دوڑو، اپنے رب کی مغفرت کی طرف، زندگی کی دلیل ’’سعی‘‘ ہے۔ یہی حرکت مطلوب ہے بلا تخصیص مرد و زن۔

کبھی جو تھک کے بیٹھ جائیں تو زائرین کے انہماک کا مشاہدہ، بجائے خود کس قدر عملِ دلفریب ہے، یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں۔ کسی سچے عاشق کا سا حلیہ اپنائے ہوئے، عالمِ بے خودی میں، احرام باندھا ہے تو ایک نیا انسان بننے کا عزم بھی ہے۔ یہ جو محبوب کی محبت میں اپنی پسند کے بال قربان کیے ہیں تو ساتھ ہی ہر پسندیدہ چیز کو راہِ خدا میں قربان کر دینے کا ارادہ بھی پختہ ہے۔ سب کی فکر ایک سی ہے۔ رب کو پا لینے کی جستجو اور اس کو منا کر ہی جانے کی ضد۔ کوئی جو زندگی میں تنہا ہے، اس کی تنہائی دور کرنے کو سبھی یہاں موجود ہیں کہ سب ایک کشتی کے مسافر ہیں۔ سب کی منزل ایک ہے۔ اشکوں کا سیلِ رواں ہے جو کسی طور تھمتا نہیں۔ کبھی رب سے اکیلے میں مانگنے کا جی ہے تو کبھی کسی کو بہت شدت سے مانگتے دیکھ کر ڈھارس بندھتی ہے کہ شاید اس کی گریہ و زاری کے طفیل نظرِکرم مجھ پہ بھی ہو جائے۔

انسانوں کے اس جم غفیر میں بچوں کی طمانیت قابل دید ہے۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیڑھیوں میں، سرتا پاگلابی میچنگ میں چلتی پھرتی گڑیا نظر آئی، بمشکل ڈیڑھ برس کی۔ ہاتھوں میں کھجور کی گٹھلیاں دبائے، وقتاً فوقتاًان گٹھلیوں سے رہا سہا ذائقہ کشید کرنے کی کاوشوں میں مگن، اور سیڑھیاں خود سے چڑھتے اترنے جیسا معرکہ سر کرنے پر نہال کچھ دیر گزر جانے کے بعد اندازہ ہوا کہ غالباً آس پاس کوئی رشتے دار موجود نہیں، اور بالآخر عادت سے مجبور ہم نے لپک کر اٹھا لیا۔ اس نے بھی جواباً بھرپور گہری شناسائی کا مظاہرہ کیا۔ آس پاس کے لوگ مع لیڈی پولیس اہلکار اس کے لیے پریشان ہیں اور وہ سب کی پریشانی پہ شاداں و فرحاں۔ عزہ جو اکثر اپنے اکلوتے پن سے تنگ پڑتی ہےنے یکایک دیگر تمام فرمائشوں سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے اسے پاکستان ساتھ لے جانے کی ضد کی۔ خواہش تو اپنی بھی یہی تھی۔ لیکن مجبوراً بچی کو خاتون اہلکار کے حوالے کیا جو اسے ’’چلڈرن لاسٹ کارنر‘‘ میں جمع کروانے چل دی۔ میٹھی سی یاد ہے اس بچی کی دیگر بہت سی یادوں کے ساتھ۔

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہدیہ سلام پیش کرتے ہوئے لاتعداد ملائکہ اور فرشتوں کی موجودگی کس قدر نمایاں ہے۔ یکبارگی چند سال پہلے کا خواب یاد آتا ہے۔ بارش کے قطرے زمین پہ گرنے سے پہلے موتیے کے پھول جن کا سائز معمول سے بڑا ہےمیں تبدیل ہو کر مجھے معطر کر رہے ہیں۔ موتیوں کی بارش ہو جیسے، یقیناً یہی تعبیر ہو گی اس کی روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کا شرف!
وہ رنگ میرا، وہ میری خوشبو
میں اسکی مٹھی کا ایک جگنو، وہ میرے اندر کی روشنی ہے
میرا تو سب کچھ میرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے

آج سے پہلے نعت کا ایسا لطف پہلے کبھی آیا نہ اس طرح مفہوم آشکار ہوا۔ ربیع الاول کا ماہ مبارک ہے۔ سڑک کنارے فٹ پاتھ پہ بیٹھے تھے جب ایک عربی شخص کو گاڑی سے برہنہ پا نکلتے دیکھا۔ تحقیق پر پتہ چلا کہ آج بھی امام مالکؒ کی تقلید میں کچھ لوگ مدینہ منورہ میں ننگے پاؤں چلنے کو ترجیح دیتے ہیں کہ کیا معلوم کہاں کہاں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پڑے ہوں۔ حضرت عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد آگیا، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو گرنے کے بجائے ہاتھوں میں لے کر چہرے پہ ملتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، ’’تمہارے اس عمل کا محرک کیا ہے‘‘، صحابہ نے جواب دیا، آپ کی محبت کے سوا کچھ نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب میں فرماتے ہیں ’’اچھا! محبت کا دعویٰ ہے تو سچ بولو، جس کے امین بنائے گئے ہو اس کی حفاظت کرو، اور پڑوسی سے نیک سلوک کرو‘‘۔ محبت کی روح کو سمجھنے کے لیے کس قدر خوبصورت مثال ہے۔ محبت کا دعویٰ ہے تو اس کا ثبوت ’’عمل‘‘ کی شکل میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی ہے۔

زیارتوں کے دوران جبلِ احد اور جبل الرمادی کو دیکھا۔ یہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے جسد اطہر کو خوشبو رچی بسی ہے۔ کھجوروں کے باغات دیکھ کر خیال آیا کیسا شاندار ہوگا ابوالدحداح رضی اللہ عنہ کا چھ سو درختوں اور کنویں اور محل پر مشتمل باغ جسے محض ایک کھجور کے درخت کے بدلے اس لیے فروخت کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بدلے جنت میں ایسے طویل ترین باغ کی بشارت دی جس میں چلنے والا کئی سو سال تک چلتا رہے تو اس کی مسافت ختم نہ ہوگی اور یہ مسجدِ قبا ہے جس کی پیشانی پہ جلی حروف میں حدیثِ مبارکہ درج ہے، جس کا مفہوم ہےکہ جو گھر سے نیت کر کے، تیا رہو کر مسجدِ قبا میں نفل ادا کرے اس کے لیے ہر بار عمرے کا اجر ہے۔

مقاماتِ مقدسہ کی تصاویر نہ لینے کا پختہ عہد تھا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ کمزور پڑتا گیا۔ کیسے ممکن ہے کہ واپس جاؤں اور ساتھ کوئی یادگار محفوظ نہ ہو۔ حرمین کی اذانیں، جماعت، اسی ارادے کے ساتھ گنبد خضریٰ کی تصویر لینے ہی کو تھی جب کسی نے للکارا ’’حاجۃ‘‘ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ڈیوٹی پہ مامور پولیس اہلکار تھا۔ ’’لافائدۃ من العکس ھنا، وھنا‘‘۔ اس نے بالترتیب آنکھوں اور دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خلاف معمول منطق کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی کہ تصاویر کو موبائل کی زینت بنانے کی بجائے، آنکھوں کے ذریعے دل میں بسا لو۔ ترغیب بے شک شاعرانہ بھی تھی اور مؤثر بھی، لیکن پاکستانیوں کی غیر معمولی جذباتی وابستگی سے مانوس، منتظر رہا کہ کب اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے تصویر اتاری جاتی ہے۔ سارے عرصے میں چند ایک تصاویر اور ویڈیو کلپ بنا سکی لیکن واپس آکر خو دہی’’فارمیٹ‘‘ کرتے ہوئے سارے ذخیرے سے ہاتھ دھونا پڑے۔

مکہ مکرمہ میں قیام کی آخری راتیں ہیں جب نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ ہوٹل کی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھتی ہوں۔ عکاظ کے میلوں کا رنگ، آج کے جدید پر ہجوم بازاروں کی صورت میں خوب جما ہے۔ پوری دنیا سے آئے مسلمانوں کی آمدروفت جاری ہے۔ بازار بند ہونے کے بعد صفائی کا عملہ مستعد ہو کر ڈیوٹی سر انجام دینے پہنچ چکا ہے۔ تاہم صفائی کے انتظامات خاصے توجہ طلب ہیں، ایک طرف رضا کار انہ یا ڈیوٹی پہ مامور عملہ ہے جو ہر دم مستعد ہے، دوسری طرف بھی اتنی ہی مستعدی ہے۔ رضا کار انہ گندگی پھیلانے کے عمل میں اپنا حصہ ڈالنا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ’’طھر بیتی للطائفین‘‘ کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لیے پاک و صاف رکھنا، بہر حال پوری امتِ مسلمہ کے لیے ہے اور ہر فرد ذاتی طور پر اس کو ماننے کا پابند اور ذمہ دار ہے۔

حرم پاک سے تہجد کی اذ انیں بلند ہوتی ہیں ۔ واپسی کی گھڑیاں قریب آ پہنچی ہیں۔ ساری سنہری یادوں کو دل میں بسائے قافلہ جدہ کی طرف رواں دوان ہوتا ہے۔

Comments

Avatar

بریرہ صدیقی

بریرہ صدیقی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مختلف قومی جرائد اور دلیل کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کے بعد چار سال جرمنی میں قیام بھی کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com