جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف ریفرنس کی حقیقت - عمران زاہد

جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرِ سماعت ہے۔ یہ ریفرنس سابقہ حکومت کے ایک کرپٹ ٹولے کی طرف سے دائر کیا گیا تھا جن کی کرپشن کے کیسز جسٹس شوکت کی عدالت میں زیرِسماعت تھے۔ جس کا سرغنہ فیصل سخی بٹ تھا جو صدر زرداری کا امورِ اسلام آباد کا مشیر تھا۔ اس کا ایک ٹاؤٹ سی ڈی اے ڈائریکٹر انور گوپانگ جو اس ریفرنس کا مدعی ہے۔ اس ڈائریکٹر کے خلاف کرپشن کے کئی کیسز نیب اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں۔ اس ٹولے نے اسلام آباد میں جو جو گُل کھلائے ہیں وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔

کرپٹ ٹولے کا ہمیشہ سے یہ ہتھیار رہا ہے کہ فیصلہ اپنے خلاف ہوتے دیکھو تو جج کو متنازع کر دو۔ اس کے خلاف جانبداری کا شور مچا دو۔ اس سے کچھ اور ہوگا یا نہیں ہوگا، کیس کی نئے سرے سے سماعت ہوگی۔ ایسے ہی ہتکھنڈوں سے آٹھ دس سال گزار لیے تو پھر عدالتوں سے باعزت بریت کی درخواست کر دی جاتی ہے۔ عدالت بھی یہ سوچ کر بری کر دیتی ہے کہ بہت ہو گیا۔ (عدالتوں کی انھی ’’مجبوریوں‘‘ کے سبب سپیڈی کورٹس اور فوجی عدالتیں بنانی پڑتی ہیں) ۔۔۔ ۔پیپلیے ویسے بھی ان چیزوں کی گُھٹی لیکر پیدا ہوتے ہیں۔ سدا کے لٹیرے اور سدا کے ’’مظلوم‘‘۔

جسٹس صدیقی کے خلاف جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان کا نہ سر ہے نہ پیر ہے۔ کہا گیا کہ انہیں نے سرکاری بنگلے کو سی ڈی اے سے فرنش کروایا۔ پھر کہا گیا کہ اپنے ایک دوست شاہد سنگاہ جو کہ سی ڈی اے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں کو بطور جج غیر واجب فائدے پہنچائے۔ شاہد سنگاہ نے اپنا جواب جمع کروا دیا ہے جس میں یہ اقرار کیا ہے کہ وہ 1970 سے دوست ہیں۔ لیکن باقی تمام الزامات کو تفصیل سے رد کیا ہے۔ اخباری نمائندوں نے جب انور گوپانگ سے اس جواب کے بارے میں پوچھا تو موصوف نے فرمایا کہ شاہد سنگاہ نے اپنے جواب میں دوستی کا اقرار کر کے ثابت کر دیا ہے کہ جسٹس صدیقی پر تمام الزامات درست ہیں۔

جسٹس صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل سے درخواست کی ہے کہ اس کے کیس کی سماعت کھلے عام کی جائے تاکہ کسی کو کوئی ابہام نہ رہے۔ مجھے یقین ہے کہ جسٹس صدیقی کامیاب رہے گا، اس کے خلاف درخواست ردی کی ٹوکری دیکھے گی۔ ان شاءاللہ۔ اور کرپٹ ٹولہ اپنے انجام تک پہنچے گا۔