زبان کی درانتی - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

درانتی ایک آلہ ہے جس کا استعمال کھیتوں کی فصل کاٹنے کے لیے معروف ہے . کچھ عرصہ قبل تک، جب مشینوں کا استعمال عام نہیں ہوا تھا، گاؤں میں یہ ہر گھر میں پائی جاتی تھی. گیہوں کی فصل ہو، یا دھان کی، یا چنے، مکئی، باجرہ اور ارہر وغیرہ کی، ہر موقع پر درانتی کا خوب خوب استعمال ہوتا تھا. جب فصل پک جاتی تو گاؤں کے بڑے، چھوٹے، مرد، عورت، سب صبح اپنے کھیتوں میں نکلتے اور درانتی کی مدد سے تھوڑی دیر میں کاٹ کر پیداوار کا ڈھیر لگا دیتے.

ایک حدیث میں زبان کو درانتی سے تشبیہ دی گئی ہے. اگر آدمی کھیت میں آنکھ بند کر کے درانتی چلاتا رہے تو جو چیز بھی سامنے آئے گی، درانتی اسے کاٹ دے گی، اسی طرح اگر احتیاط ملحوظ نہ رہے اور زبان چلتی رہے تو لوگوں کی عزت و آبرو، رشتے ناتے، راز و نیاز کی باتیں، سب اس کی زد میں آئیں گے، جو لوگ سامنے نہ ہوں ان کی غیبت کی جائے گی، سفید پوشوں کی پگڑی اچھلے گی، دلوں کا بغض و کینہ باہر آئے گا، ایک دوسرے سے نفرت میں اضافہ ہوگا، لیکن اس کا سب سے بڑا وبال خود اس شخص کے سر ہوگا جو بغیر احتیاط کے زبان چلائےگا.

ایک بار حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلى اللہ عليہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے. دوران ِسفر ایک موقع پر انھوں نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور جہنم سے دور کردے.‘‘ آپ ص نے فرمایا : ’’تم نے بڑا اہم سوال کیا ہے، ایسا اللہ کی توفیق سے ہی ممکن ہے.‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید، عبادت الہی، نماز، زکوۃ، روزہ رمضان، حج، صدقہ، تہجد اور جہاد وغیرہ کی تلقین کی. پھر سوال کیا: ’’کیا میں تمھیں بتاؤں کہ تمام چیزوں کا دارومدار کس چیز پر ہے؟‘‘ انھوں نے عرض کیا: ’’ہاں، اے اللہ کے نبی! ارشاد فرمائیے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ’’اس کو قابو میں رکھو‘‘ حضرت معاذ نے عرض کیا: ’’اے اللہ کے نبی! کیا جو باتیں ہماری زبانوں سے نکلتی ہیں، ان پر ہماری گرفت ہوگی؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے معاذ! لوگ جہنم میں منہ کے بل گرائے جائیں گے ، اس کا سبب اس کے علاوہ اور کیا ہوگا کہ ان کی زبانوں نے اس کی کھیتی کاٹی ہوگی؟‘‘ (ترمذي2616 ، ابن ماجہ: 3973)

حدیث میں حَصَائِد کا لفظ آیا ہے، اس کا واحد 'حصید' ہے، اس کے معنی ہیں وہ چیز جو کاٹی جائے،گویا آدمی اپنی زبان سے جو باتیں نکالتا ہے وہ اس کی کاٹی ہوئی کھیتی ہے. اب یہ خود اس کے اوپر منحصر ہے کہ وہ اس سے ایسی چیزیں کاٹے جو اس کے لیے آخرت میں سرمایہ بنیں، یا ایسی چیزیں کاٹے جو اس کے لیے وبالِ جان بن جائیں اور اسے جہنم میں دھکیل دیں.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.