ہوس و عشق کی دو عبرت اثر کہانیاں - طاہر اسلام عسکری

آج یونیورسٹی کے ایک سینئر استاد جناب ڈاکٹر محمد زکریا صاحب سےگپ شپ ہو رہی تھی۔ برادرم ظفر اقبال بھی ساتھ تھے۔ باتوں باتوں میں گفتگو زندگی کی بےثباتی اور انسان کے حرص و ہوس کی جانب چل نکلی کہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں لیکن انسان کیسے کیسے منصوبے باندھتا ہے۔ ظفر صاحب نے اس ضمن میں ایک عجیب واقعہ سنایا کہ ایک ڈیڑھ ماہ پہلے ان کے علاقے میں ایک نوجوان کا گھر والوں سے رشتے کے مسئلے پر جھگڑا ہوگیا؛ وہ پسند کی شادی کرنا چاہتا تھا لیکن گھر والے بہ وجوہ راضی نہیں ہو رہے تھے۔ ایک دن اس نے طیش میں آ کر کلاشنکوف نکالی اور گھر کے پانچ چھ افراد کو قتل کر کے روپیا پیسا، سونا زیورات سمیٹے اور فرار ہوگیا؛ شام میں جب اس کے گھر والوں کی تدفین ہو رہی تھی تو خبر آئی کہ فیصل آباد کے قریب اس کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا ہے جس میں وہ خود بھی موت کے گھاٹ اتر گیا ہے، اسلحہ اور رقم گاڑی ہی میں رہ گئی!

اس پر ڈاکٹر زکریا صاحب نے اس سے بھی عجیب اور عبرت انگیز قصہ سنایا۔ ان کے علاقے میں ایک ڈاکٹر تھا جو اپنے والدین، بیوی اور دو بچوں سمیت رہائش پذیر تھا۔ اس کے والد وفات پا گئے۔ لوگ تعزیت کے لیے گئے اور تسلی دی؛ پندرہ دن بعد اس کی والدہ کی وفات ہوگئی۔ لوگوں نے پھر اظہارِ افسوس کیا کہ اتنی جلدی دوبارہ صدمہ اٹھانا پڑا۔ ابھی دو ہفتے ہی گزرے تھے کہ بیوی کی موت واقع ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں، اس پر میں تھوڑا چونکا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ خیر بات آئی گئی ہوگئی۔ ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ اس کے گھر سے پڑوسیوں کو بدبو محسوس ہوئی؛ گھر پر تالا لگا ہوا تھا، دروازہ توڑ کر اندر گئے تو ایک کمرے میں اس کے دو جوان بیٹوں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں؛ ان کے گلے کٹے ہوئے تھے اور خون فرش پر پھیلا ہوا تھا؛ ڈاکٹر صاحب کے بہ قول ان کی آنکھوں میں آج بھی وہ منظر گھوم رہا ہے کہ کمرے میں پنکھا چل رہا ہے اور معصوم نوجوانوں کی لاشیں چارپائیوں پر پڑی ہوئی ہیں، جو نویں اور دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔ پولیس کو اطلاع دی گئی پولیس نے فوراً گھر میں کام کرنے والی ملازمہ کو جا پکڑا اور اسے دھمکا کر اصل حقیقت اگلنے پر مجبور کر دیا۔ ملازمہ نے بیان دیا کہ اصل میں ہم دونوں بیاہ رچانا چاہتے ہیں جس میں یہ لوگ رکاوٹ تھے، اس لیے ان بہ تدریج انھیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اس نے بتلایا کہ آج آٹھ بجے فلاں درگاہ پر ہماری ملاقات طے ہے جس کے بعد ہم نے یہاں سے فرار ہو جانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ پولیس نے سادہ کپڑوں میں اپنے اہل کار وہاں تعینات کر دیے اور اسے بھی وہیں پہنچا دیا۔ ٹھیک آٹھ بجے وہ وہاں پہنچ گیا اور پولیس والوں نے اسے گرفتار کر لیا۔ اسے بھی شاید اندازہ تھا، اس نے فورا جیب میں سے زہریلی گولیاں نکال کر پھانک لیں اور چند ہی لمحوں میں جان کی بازی ہار گیا! گویا : خدا ہی ملا نہ وصال صنم ! ملک میں اس طرح کے خدا جانے کتنے واقعات روزانہ ہوتے ہیں؟ ہمارا معاشرہ کس رخ پہ جا رہا ہے ؟ ذرا سوچیے !

Comments

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری اسلام کے علمی و فکری اور تحریکی موضوعات سے شغف رکھتے ہیں؛ اتحاد ملت اور امت کی نشاَۃ ثانیہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا مقصدِ زیست ہے۔ شعر و ادب کو اہل مذہب کے لیے لازمی گرادانتے ہیں تاکہ فکر و خیال کی لطافتوں کا ابلاغ شائستہ تر اسلوب میں ممکن ہو سکے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.