کیا امام ابوحنیفہ، امام جعفرالصادق رحمہما اللہ کے شاگرد تھے؟‌ حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ کیا امام ابوحنیفہ، امام جعفر الصادق رحمہما اللہ کے شاگرد تھے، اس کا کہنا ہے کہ بعض اہل تشیع کا یہ دعوی ہے کہ امام ابوحنیفہ اور امام مالک دونوں امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، اور امام شافعی، امام مالک کے شاگرد تھے اور امام احمد، امام شافعی رحمہم اللہ کے شاگرد تھے، تو سب ائمہ اہل سنت، اہل تشیع سے نکلے ہیں؟ کیا یہ دعوی درست ہے؟

یہ بات بہت عام ہے کہ امام ابوحنیفہ، امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے لیکن یہ ثابت نہیں ہے، بلکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسے جھوٹ اور بہتان کہا ہے۔ اور وہ روایت جھوٹی روایت ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ پر کذب اور بہتان ہے کہ جس میں ہے کہ امام صاحب نے کہا کہ لولا السنتان لھلک النعمان کہ اگر وہ دو سال نہ ہوتے تو ابو حنیفہ ہلاک ہو جاتا۔ اور دو سالوں سے ان کی مراد امام جعفر الصادق رحمہ اللہ کی شاگردی کے دو سال ہیں۔

امام ابوحنیفہ کی پیدائش 80ھ میں ہوئی جبکہ امام جعفر، ان سے تین سال بعد 83ھ میں پیدا ہوئے تو امام حنیفہ تو ان سے عمر میں بڑے ہیں بلکہ امام ابوحنیفہ، امام جعفر الصادق کے والد محمد الباقر رحمہ اللہ کی زندگی میں فتوی دیتے تھے تو جو والد کی زندگی میں مفتی بن چکا ہو، وہ بیٹے کا شاگرد کیسے ہو سکتا ہے؟ امام ابوحنیفہ، ساری عمر کوفہ میں رہے اور امام جعفر الصادق، مدینہ میں تھے تو کیسے استادی شاگردی ہوگئی؟ چلیں، بالفرض ہم مان لیتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ نے دو سال امام جعفر الصادق کی شاگردی اختیار کی ہے؟ تو اب دو صورتیں ہیں؛

ایک صورت تو یہ ہے کہ دونوں کی فقہ ایک تھی، کچھ انیس بیس کا فرق تھا لہذا امام ابوحنیفہ کی فقہ وہی ہے جو ان کے استاذ کی تھی اور اہل تشیع نے امام جعفر الصادق پر جھوٹ بولا ہے کہ ایک نئی فقہ وضع کر لی، فقہ جعفری کے نام سے۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ ایک طرف تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر میں امام جعفر کا شاگرد نہ ہوتا تو ہلاک ہو جاتا اور دوسری طرف امام جعفر کے مقابلے میں ایک فقہ وضع کر رہے ہیں یعنی خود اپنے ہلاک ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں؟ امام ابوحنیفہ کی طرف دوسری بات کی نسبت تو ناممکن ہے، البتہ پہلی کی نسبت ہو سکتی ہے لیکن اہل تشیع اس پر راضی نہ ہوں گے لہذا شاگردی کا قول ہی باطل ہے۔

بعض اہل تشیع قراء کے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ امام ابوحنفیہ نے امام جعفر سے قرآن مجید پڑھا حالانکہ امام ابوحنیفہ نے جن سے قرآن مجید پڑھا، وہ امام عاصم ہیں، علامہ ابن الجزری سے بڑھ کر قرات کی اسناد کا احاطہ کس نے کیا ہے؟ انہوں نے النشر میں امام ابوحنیفہ کے قرآن کے استاذ کے طور امام عاصم وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ اور رہی فقہ کی بات تو اس میں امام ابوحنیفہ، حماد کے شاگرد ہیں۔ اور حماد، علقمہ کے، اور علقمہ، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے۔

البتہ بعض محدثین نے یہ بات کہی ہے کہ امام ابوحنیفہ نے امام جعفر سے روایت لی ہے اور روایت لینے کا لفظ کسی ایک روایت کو نقل کر دینے پر بھی بولا جاتا ہے۔ اسے اصول حدیث کی اصطلاح میں ’’روایۃ الاقران‘‘ کہتے ہیں یعنی ساتھیوں کا ایک دوسرے سے حدیث روایت کر لینا بلکہ بعض اوقات تو بڑے، اپنے چھوٹوں سے حدیث نقل کر لیتے تھے لیکن اس سے وہ شاگرد نہیں بن جاتے تھے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ، کعب الاحبار سے روایت نقل کر لیتے تھے جبکہ کعب تابعی تھے اور عمر صحابی تھے۔ اسی طرح تابعین، اپنے چھوٹوں یعنی تبع تابعین سے روایت نقل کر لیتے تھے جیسا کہ اور عبد اللہ بن عون یحی بن سعید، امام مالک سے روایت کرتے ہیں جبکہ وہ دونوں تابعی ہیں اور امام مالک تبع تابعی

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */