اٹھو نا! مجھے تمہاری ضرورت ہے (2) - اسری غوری

آپ کو معدے کا کینسر ہے مسز شازینہ! آپ کو بتانا اس لیے ضروری ہے کہ آپ کے ساتھ کبھی کوئی نہیں آتا، آپ ہمیشہ اکیلی ہی آئیں، اس لیے مجبورا آپ کو بتانا پڑ رہا ہے. آپ پڑھی لکھی سمجھدار ہیں ورنہ ہم ایسی نیوز مریض کو کم ہی بتاتے ہیں، ہم اسے معدے کی بیماری ہی سمجھتے رہے، وہ تو اچھا ہوا کہ اس دن ڈاکٹر زین موجود تھے اور آپ کی تمام رپورٹس دیکھ کر انہوں نے بائیاپسی کروانے پر زور دیا، یہ بہت اچھا ہوا کہ ابھی اس مرض کا پتا چل گیا، آپ کو فورا کیمو شروع کروانی پڑے گی، ورنہ آپ جانتی ہیں کہ یہ موذی مرض کس تیزی سے بڑھتا ہے اور پھر.... ڈاکٹر ثاقب نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی تھی.

مگر وہ کب سن رہی تھی اسے تو بس اک ہی جملہ سنائی دیا تھا، ’’آپ کو معدہ کا کینسر ہے.‘‘ اسے لگا تھا جیسے اس کی تکلیفوں کے دن ختم ہونے والے ہیں، جیسے اس کی اس دنیا کی تکلیفوں کے بس اب کچھ ہی دن بچے ہیں، اس کی خواہش بس پوری ہی ہونے کو ہے۔ اس کی جنت بس چند قدم کی دوری پر ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں آنے والے ہر دکھ اور غم کے بدلے اپنے رب سے بس جنت ہی تو مانگی تھی۔
مسز شازینہ آپ کو فوری کچھ ٹیسٹ کروانے ہوں گے، اور پھر کیمو کا شیڈول مل جائے گا، کچھ میڈیسن لکھی ہیں جو فوری شروع کرنی ہیں، آپ اس کو بالکل نظرانداز نہیں کریں گی، اور کوشش کیجیے گا کہ اپنے ساتھ کسی کو لے کر آئیں۔
ڈاکٹر ثاقب کی آواز پر وہ چونکی اور گردن ہلا کر اپنی فائل اٹھا کر باہر نکل آئی۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ کیمو کروائے گی نہ کوئی میڈیسن لے گی. وہ تو ڈاکٹر ثاقب کے پاس بھی سارہ کی ضد پر چیک اپ کروانے لگی تھی کیونکہ اس کی تکلیف ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی تھی، اب اس کی خوراک تقریبا ختم ہوچکی تھی، وزن جس تیزی سے گھٹ رہا تھا.

سارہ نے اسے دو دن پہلے ہی تشویش ناک لہجے میں کہا تھا کہ شانی کیا ہوتا جا رہا ہے تمھیں، اب تو کپڑوں میں تلاش کرنا پڑتا ہے۔
وہ سن کر اک دم ہنس دی. بھلا کپڑوں میں بھی کسی کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔
سارہ نے اس کو غصے سے دیکھا اور بولی: شانی! اب میں کچھ نہیں سنوں گی، تم شرافت سے تیار ہوجاؤ، میں آج ہی رافع سے بات کرتی ہوں، اس کے بہت اچھے دوست ہیں ڈاکٹر ثاقب، میں تمھیں ان کے پاس لے کر جانے والی ہوں۔
شانی نے بہت انکار کیا کہ اسے کسی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں، مگر سارہ اپنے نام کی ایک ہی تھی، آخر شانی نے اس شرط پر اس کے سامنے ہار مانی تھی کہ وہ ڈاکٹر ثاقب کے پاس اکیلی جائے گی، سارہ کے ساتھ نہیں۔ اس کی یہ شرط مان لی گئی تھی کہ سارہ جانتی تھی کہ شانی اسی صورت ڈاکٹر کے پاس جائے گی ورنہ نہیں.
سنو! یہ رضا بھائی کب واپس آ رہے ہیں؟ ان کا کوئی اتا پتا نہیں، تم جب تک ان کو احساس نہیں دلاؤ گی، وہ کبھی خود سے احساس نہیں کریں گے، کب تک تنہا جھیلتی رہوگی سب کچھ. تم نے انکل کا حال دیکھا وہ اندر ہی اندر گھل رہے ہیں، تمہاری زندگی میں آنے والے پے درپے غموں نے ان کی کمر توڑ ڈالی ہے، اوپر سے تمہاری یہ حالت۔ میرا تو دل کرتا ان کو خوب کھری کھری سناؤں، کیا سوچ کر انہوں نے محبت کا یہ ڈھونگ رچایا، کس لیے مرتے رہے تھے تم سے شادی کے لیے، انکل کا جینا حرام کر رکھا تھا، اک طوفان اٹھایا ہوا تھا اور اب دیکھو تو جیسے ان سے بڑا بےحس اور لاپرواہ دنیا میں کوئی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کانچ کی گڑیا - ماہا عابد

سارہ نے شانی کے ایک اور دکھ کو چھیڑ دیا تھا۔ تم کیا کھاؤگی؟ میں تمہارے لیے کچھ لے کر آتی ہوں، شازینہ سارہ کی باتوں کے جواب میں بس اتنا کہہ کر باہر نکل گئی۔ سارہ نے کچھ کہنے کے لیے سر اٹھایا مگر پھر خاموش ہوگئی، اس نے باہر نکلتی شانی کی آنکھوں میں تیرتے دکھ کو دیکھ لیا تھا. وہ جانتی تھی کہ شازینہ اب اس موضوع پر کوئی بات سننا نہیں چاہتی، اک عرصہ ہوا وہ رضا کو اپنی گفتگو سے نکال چکی تھی، سارہ کو اپنی یہ دوست بہت پیاری تھی، وہ اس کے بچپن سے لے کر جوانی تک کے ہر دکھ سکھ کی ساتھی اور اس کی ہمراز تھی.
شانی اپنے ماں باپ کی پہلوٹھی کی اولاد تھی، اس کی آمد پر گھر میں خوشیوں کا سماں اس وقت سوگ میں بدل گیا جب روزینہ اک ننھی سی پری کو سعادت حسین کے حوالے کرکے اسے تنہا چھوڑ گئی. سعادت حسین کو سمجھ نہ آتا تھا کہ وہ ننھی پری کے آنے کی خوشیاں منائیں یا اپنی زندگی کی سب بہاریں لٹ جانے کا سوگ. وہ سکتے میں تھے جب اماں بی نے پنک سوٹ میں پنک کمبل میں لپٹی روزینہ کی ہو بہو کاپی کو ان کی گود میں ڈالا، ہاتھ پیر مارتی بڑی بڑی آنکھوں کو اطراف میں گھماتی شہزادی جب بھوک سے چلائی تو ان کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے ، انہوں نے سینے سے بھینچا اور دھاڑیں مار مار کر رونے لگے. گھر کا ہر فرد اس جوان اور اچانک موت پر اشک بار تھا، شوخ چنچل سی روزینہ جب سے ان کی زندگی میں آئی تھی اس نے بہت کم وقت میں سب کے دل موہ لیے تھے، بچہ بڑا ہر اک اس کے گن گاتا، بچوں کے درمیان میں گھسی ہوئی شرارتیں کرتی وہ بالکل ان کی ہم عمر دکھائی دیتی۔ بڑوں میں بیٹھتی تو بڑوں کا ادب اور اس قدر سنجیدہ اور مدبرانہ گفتگو کہ سننے والے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے کہ اس قدر چھوٹی عمر میں ایسی سمجھداری کی باتیں۔ وہ جانتے تھے کہ اب اس خلا کو کبھی کوئی پر نہ کرسکے گا.

یہ بھی پڑھیں:   کانچ کی گڑیا - ماہا عابد

سعادت حسین کی کل کائنات شازینہ تھی، انہوں نے اپنی زندگی کی ہر خوشی شازینہ کے نام کر دی تھی، اب وہ اس کے علاوہ کچھ اور سونا بھی نہیں چاہتے تھے۔
اماں بی، آغا جان بھائی سب ہی اپنی سی کوشش کر کے تھک چکے تھے مگر سعادت حسین کا فیصلہ اٹل تھا۔ انہوں نے شازینہ میں روزینہ کے روپ کا ہر رنگ بھرنے کی کوشش کی تھی، وہ بھی ویسی ہی شوخ، ملنسار، شرارتی اور ہر اک کے کام آنے والی ہر اک کی فکر میں گھلی جانے والی چھوٹی چھوٹی باتوں پر موٹے موٹے موتی بھر لانے والی اور بڑے بڑے غموں پر آہ تک نہ کرنے والی۔
شازینہ کی زندگی میں آنے والے پے درپے دکھوں کے بعد وہ اکثر یہ سوچا کرتے تھے کہ قدرت نے ان سے تنہا زندگی گزارنے کا یہ فیصلہ اسی لیے کروایا تھا کہ شازینہ کو انھیں نجانے کب تک سنبھالنا تھا، اس کے نصیب میں لکھے دکھوں اور غموں کی رات کی سحر نجانے کب ہونی تھی؟
(جاری ہے)‌

افسانے کی پہلی قسط یہاں ملاحظہ کریں

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.