پیغمبر اسلام کی بارگاہ میں مغربی اکابر کا خراج عقیدت - اعجاز الحق اعجاز

ممدوح رب العالمین، المخاطب بہ خطاب ’’وماارسلناک الارحمۃ للعالمین‘‘، خاتم النبیین، شفیع المذنبین، فخر موجودات، وجہ تخلیق کائنات، حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جن پر خدا اور فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں، کسی ایک مذہب کے رسول نہیں بلکہ سب مذاہب کے لیے ہادی مطلق اور نور الہدیٰ ہیں۔ ان کی نبوت لازمانی و لامکانی ہے۔ چناں چہ ہر دور میں بلا امتیاز مذہب و ملت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں گلہائے توصیف پیش کیے جاتے رہے ہیں ۔ آئیے دیکھیے مغرب کے اکابر دانشور، شعرا، ادبا اور مؤرخ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں کس عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں حب رسول کس درجہ موجزن ہے۔

گوئٹے جرمنی کا ایک مشہور و معروف شاعر اور فلسفی ہے۔ اس نے ایک شہرہ آفاق نظم لکھی جس کا نام ہے Mahomet's Gesang یعنی ’’نغمہ محمد‘‘۔ اس نظم میں مغرب کے اس عظیم شاعر نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ایک باصفا جوئے آب سے تشبیہہ دی ہے جو دنیا کے صحراؤں میں ہدایت کے نخلستاں اگاتی ہے، اور الوہیت کے سمندر سے جا ملتی ہے۔ وہ کہتا ہے ’’اس چشمے کو دیکھو جو ستاروں کی کرنوں کی طرح ہنستا ہوا صاف شفاف چٹانوں سے نکلا ہے، بچپن میں اسے قدسیوں نے اس دنیا میں پالا جو بادلوں سے پرے ہے، شباب کی تازگی اور ولولہ لیے ہوئے وہ خرام ناز کرتا ہوا بادلوں سے نکلتا ہوا مرمریں چٹانوں سے گزرتا سرمدی بحر سے جا ملتا ہے‘‘ یہی وہ نظم ہے جس کا ترجمہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے’’جوئے آب‘‘ کے نام سے کیا۔ یہی نہیں وہ ’’ہجرت کا نواں سال‘‘ اور دیگر نظموں میں پیغمبر انسانیت کو شان دار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ نظم ’’برگزیدہ اشخاص‘‘ میں وہ اپنے آپ کو جنگ بدر کے شہدا میں شمار کرتا ہے۔ یہ گوئٹے ہی تھا جس نے یہ کہا تھا کہ ’’ہم سب اسلام ہی میں جیتے اور مرتے ہیں‘‘ نپولین سے ایک ملاقات میں گوئٹے نے اسے اپنی ایک نظم ’’محمد‘‘ سنائی تو نپولین نے اس کی بہت تعریف کی۔ نپولین پیغمبر انسانیت کا بہت مداح تھا اور اس نے والٹیئر پر سخت تنقید کی کیونکہ اس نے اسلام کی تنقیص کی تھی۔ یہ نپولین ہی تھا جس نے یہ کہا تھا کہ ’’میں دنیا کے تمام ممالک کے تمام دانشوروں اور روشن خیالوں پر مشتمل ایک حکومت بنانا چاہتا ہوں جو دنیا کے امن کی ضمانت ہوگی اور یہ حکومت قرآنی اصولوں کے تحت بنے گی کیوں کہ قرآن ہی وہ کتاب ہے جو امن اور خوشحالی کی ضامن ہے۔‘‘ یہ اقتباس ایک فرانسیسی زبان میں لکھی جانے والی کتاب Bonaparte Et Islam سے لیا گیا ہے جو پیرس سے 1914ء میں شائع ہوئی۔

کارلائیل اپنی مشہورکتاب On Heroes, Hero Worship and the Heroic in History میں شان رسالت میں یوں گلہائے عقیدت پیش کرتا ہے:
"The lies ( Western slander) which well-meaning zeal has heaped round this man ( Muhammad ) are disgraceful to ourselves only...How one man single-handedly , could weld warring tribes and wandering Bedouines into a most powerful and civilzed nation in less than two decades...A silent great soul , one of that who cannot but earnest. He was to kindle the world ,the world's Maker had ordered so.

جارج برنارڈشا مغرب کا ایک بلند پایہ ڈرامہ نگار ہے۔ اس نے قرآن کا مطالعہ کر رکھا تھا۔ 1936ء میں ایک کتاب The Genuine Islam شائع ہوئی تھی جس کی جلد ہشتم میں جارج برنارڈشا کا یہ قول درج ہے:
I believe if a man like him were to assume the dictatorship of the modern world he would succeed in solving its problems in a way that would bring much needed peace and happiness. I have studied him. He must be called the saviour of humanity.
وہ مزید کہتا ہے:
The future religion of the educated, cultured and enlightened people will be Islam

مائیکل ہارٹ کی کتاب The Hundered نیو یارک سے 1978ء میں شائع ہوئی۔ اس میں اس نے دنیا کے سو عظیم آدمیوں کی درجہ بندی کی اور پیغمبر انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرفہرست رکھا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے:
My choice of Muhammad to lead the list of the world's most influential persons may surprise some readers and may be questioned by others , but he was the only man in history who was supremely successful on both the religious and secular level.

ایڈورڈ گبن ایک معروف مؤرخ ہے۔ اوہ اپنی کتاب History of the Saracen Empire میں جو 1870ء میں لندن سے شائع ہوئی حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یوں نذرانہ عقیدت پیش کرتا ہے:
It is not the propagation but the permanency of his religion that deserves our wonder, the same pure and perfect impression which he engraved at Mecca and Medina.

ایک اور مؤرخ لین پول اپنی کتاب The Speeches and Table Talk of Prophet Muhammad میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے تدبر، فہم و فراست اور خوش گفتاری کو موضوع بناتے ہوئے یوں خامہ فرسائی کرتا ہے:
He was the most faithful protector of those he protected, the sweetest and most agreeable in conversation. Those who saw him were suddenly filled with reverence; those who described him would say 'I have never seen his like either before or after.

اسی طرح کی متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خدائے بزرگ و برتر نے بلند کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ممدوح عالم ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ ناموس رسالت پر نہ کوئی حرف آسکتا ہے نہ آئے گا۔ شمع رسالت کے پروانے ہر دور میں رہے ہیں اور ہر دور میں رہیں گے۔ وہ ذکر و فکر و عمل کے ذریعے ناموس رسالت کا حق ادا کرتے رہیں گے۔

Comments

اعجاز الحق اعجاز

اعجاز الحق اعجاز

اعجازالحق اعجاز پی ایچ ڈی سکالر ہیں، اردو اور اقبالیات میں ایم فل اور انگلش اور اردو میں ماسٹر کیا ہے۔ دو کتب اقبال اور سائنسی تصورات، اقبال اور ولیم شیکسپئیر کے مصنف ہیں۔ اردو، انگریزی، فارسی ادبیات، فلسفہ اور سائنس دلچسپی کے شعبے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.