سلیمان ؑ کاجانوروں سے تکلّم، سائنس اور آدم ؑ کی کتاب علم - مجیب الحق حقی

قرآن میں درج جانوروں سے ایک پیغمبر کی گفتگو کے حوالے سے آیات کچھ دوستوں کو قصّہ کہانی لگتی ہیں۔ یعنی ان کے خیال میں یہ ناممکنات میں سے ہے، انسان جانوروں سے بات چیت نہیں کر سکتا کیونکہ جانور کی کوئی بولی نہیں ہوتی۔ یہاں ان ہی حضرات کے انسان اور کائنات کے حوالے سے نظریات کا ایک انتہائی مختصر جائزہ لیتے جانا بھی مناسب ہوگا جس کے بموجب انسان خود انہی جانوروں کی نسل ہے۔

جدید تحقیق کے مطابق کائنات اچانک ظاہر ہوئی، پھر کچھ سسٹم بنتے چلے گئے، یہاں تک کہ پانی میں زندگی بنی جس سے جاندار بنے اور ان میں سے ایک شاخ کے جانور پہلے بندر پھر ترقی کرتے کرتے انسان بن گئے۔ یہ سب کسی نظم یا قدرتی چناؤ natural-selection کے تحت ہوتا رہا ہے، یہاں تک کہ انسان عقل کا خوگر بھی حادثاتی طور پر بنا!

چلیے آپ ہی کی بات لیکر کر آگے بڑھتے ہیں۔ اب ذرا اس کی وضاحت بھی کر دیں کہ صفر سے شروع ہونے والے ایک نظام میں اچانک پیدا ہونے والے تمام جانداروں کے درمیان آپس کے رابطے کی ضرورت ہی کیوں پڑی؟ اس کا محرّک کیا ہوا ہوگا؟ پھر مزید یہ کہ پوری زمین پر ایک سے زیادہ زبان کی ضرورت کیوں پڑی؟ اگر ارتقاء سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھ رہا تھا تو ارتقاء میں یہ عقل کہاں سے وارد ہوئی یا اس میں یہ اہم موڑ کیوں آئے کہ درند، چرند، پرند، حشرات الارض اور انسان آٹومیٹک ہی الگ الگ زبان اور کمیونیکیشن سسٹم communication-system کے خوگر بنتے رہے! یہ تو ایسا ہی ہے کہ ایک بڑی کارگو ٹرین کے ڈبّے دوران سفر مختلف جگہوں پر خود بخود نکل کر دوسری راہ پکڑتے رہیں اور ٹرین بھی بنتے رہیں! اتنے مفروضات کے ساتھ یہ بات عقل میں تو نہیں آتی لیکن زبردستی کی منطق تو ہر انہونی کو جواز دے سکتی ہے۔

اب ہم آتے ہیں اس پیغام کی طرف جو کائنات کے باہر سے کائنات کے خالق نے ایک انتہائی معتبر انسان کے ذریعے انسانوں کو بھیجا اور جس کو انسانوں نے ایک کتاب میں محفوظ کیا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کا کوئی انسان مصنّف نہیں۔ اس کتاب کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ انسان نے لکھی جبکہ کسی بھی انسان نے کبھی بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا! جس انسان کے ذریعے یہ آئی، وہ تو خود کہہ رہا ہے کہ یہ میری تحریر نہیں لیکن منکرین کا اصرار ہے کہ اُنہوں نے ہی لکھی یا لکھوائی ہے۔ یہ عجیب بات نہیں؟

اب دیکھیں کہ جانوروں کی زبان کے ضمن میں اس کتاب میں کیا لکھا ہے۔
اور داؤد کا وارث سلیمان ہوا۔ اور اس نے کہا لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں، بے شک یہ اللہ کا نمایاں فضل ہے۔ (سورہ 27، آیات 16،15)
یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو! اپنے بلوں میں گھْس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمھیں کْچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔ سلیمان اس کی بات پر مْسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا اے میرے ربّ، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کرتا رہوں۔ (سورہ 27، آیات 19،18)
سلیمان نے پرندوں کا جائزہ لیااور کہا’’کیا بات ہے کہ میں فلاں ہْد ہْد کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ کیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے؟ میں اسے سخت سزا دوں گا، یا ذبح کر دوں گا، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہوگی۔‘‘ کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اْس نے آکر کہا’’ میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے عِلم میں نہیں ہیں۔ میں سَبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔ میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم کی حکمراں ہے۔ اْس کو ہر طرح کا سرو سامان بخشا گیا ہے اور اْس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے. (سورہ 27 ،آیات23،20)

انسان اور جانوروں میں گفتگو ایک انہونی اور کہانیوں والی بات لگتی ہے، قرآن میں اس کا تذکرہ ایک غیر معمولی بات ہے کیونکہ قرون ِاُولیٰ میں تو دور دور تک اس کا امکان نہیں تھا کہ کوئی عام انسان جانور کی بات سمجھ سکتا۔ لیکن ایک پیغمبر کے ذریعے اس کا مظاہرہ کرا کر خالق نے بتایا ہے کہ یہ ایک علم ہے۔ کیونکہ قرآن میں پیغمبر نے فرمایا کہ انہیں یہ علم سکھایا گیا۔

اب دیکھیے کہ آج کل کیا ہورہا ہے؟
موجودہ دور میں جس طرح ہر شعبے میں تحقیقات ہو رہی ہیں اسی طرح جانوروں کی زبان کو سمجھنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جانوروں میں بھی کوئی مواصلاتی نظام موجود ہے تب ہی تو وہ ایک مربوط نظم میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کے رابطوں کے پیچھے ضرور کوئی اچھوتی زبان یا سسٹم ہے جو انسان کو ابھی نہیں معلوم لیکن جدید تحقیق کا رجحان یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان ان کو جان لے گا۔ ذیل میں اس ضمن میں ہونے والی محض ایک تحقیق کی جھلک مستقبل کی ممکنہ کامیابیوں کی نوید ہے۔
حوالہ
https://www.theatlantic.com/technology/archive/2013/06/animal-behaviorist-well-soon-have-devices-that-let-us-talk-with-our-pets/276532/
ترجمہ:
جانوروں کے طرز ِعمل کے ماہر کا کہنا ہے کہ جلد ہی ایسے آلات دریافت ہو جائیں گے کہ ہم اپنے پالتو جانوروں سے بات کرسکیں گے: اس ماہر کا کہنا ہے کہ، ہم تیزی سے اُس طرف بڑھ رہے ہیں جہاں کمپیوٹر کے ذریعے جانوروں سے رابطہ ممکن ہوجائے گا۔ ہمارے پاس ایسی تکنیکی مہارت آچکی ہے کہ ایسے آلات بنائے جاسکتے ہیں جو سیل فون کی طرح ہوں اور کتّوں اور بلّیوں سے گفتگو کرائیں، یعنی کتا بھونکے تو آلہ بتائے کہ، مجھے آج مرغی کھانی ہے! یا بلّی میاؤں کرے تو پتہ چلے کہ، آپ نے میرے کوڑے دان کوصاف نہیں کیا! وہ کہتا ہے کہ اس تکنیک کے حصول کے لیے ریسرچ کرنی ہوگی جو عرصہ پانچ سے دس سال میں حاصل ہو سکتی ہے۔ ہم اس مقام تک ضرور پہنچ سکتے ہیں جہاں کون جانے کہ کتّے، بلّی، مویشی اور شاید شیر اور شیر ببر سے ان کی زبان میں دو طرفہ گفتگو ہو سکے!

لیکن سائنسدان تو یہی کہتے رہے ہیں کہ جانوروں کی کوئی بولی نہیں ہوتی بلکہ یہ آواز سے رابطہ کرتے ہیں۔ اس تضاد کی وجہ سائنسدانوں کی محدود نظری ہے کہ انہوں نے انسانی طرز گفتگو کو ہی حتمی سمجھا ہوا ہے۔ ان محققین کا مرکز ثقل ارتقاء ہی ہے جس کے گرد ان کی ہر تحقیق گردش کرتی ہے اور اسی نقطہ نظر سے ہر چیز کو دیکھتے ہیں۔ وہ زبان اور گفتگو کو ایک مخصوص تسلسل میں دیکھنے پر مجبور ہیں۔ زندگی کے ارتقاء میں وہ کسی اور زبان کو قبول نہیں کرسکتے۔ لیکن دوسری طرف یہ سائنسدان اور محقّق یہ بھی تو نہیں بتا پاتے کہ ارتقاء کے عمل میں انسان نے کب اور کیوں بولنا شروع کیا! سائنسدان جانور کو ہی انسان کے آباؤ اجداد قرار دیتے ہیں تو پھر یہ سوال تو جواب مانگے گا کہ ایک رابطے کا سسٹم یعنی رابطہ بذریعہ آواز sound-communication کے ہوتے ہوئے اس جانور (انسان) نے بولنا کیوں شروع کیا۔ آخر آج بھی تو جانور اپنی نارمل زندگی گزار رہی ہیں تو اس وقت ایسا کیا ہوا اور کیوں ہوا کہ صرف انسان کی شاخ میں آوازدانی، نرخرہ voice-box اور حنجرے کی جھلّی یا اوتار ِصوت یعنی vocal-cord مختلف روپ دھارتے گئے کہ ہزاروں طرح کی زبانیں ان میں سما گئیں؟
بی بی سی کا یہ تجزیہ بہت کچھ کہہ رہا ہے کہ
’’ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری گفتگو اور زبانیں کیسے پیدا ہوئیں۔‘‘
We don't yet know when our speech and language evolved.
http://www.bbc.com/earth/story/20150216-can-any-animals-talk-like-humans

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ارتقاء کے اس جاری عمل میں آج بھی انسان کے ساتھ منکرین کے مطابق انسانوں کے آباواجداد یعنی بن مانس وغیرہ بھی موجود ہیں لیکن اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ بیچ کی کڑیاں غائب کیوں ہیں۔ اصولاً ہونا تو یہ چاہیے کہ اس وقت یا تو بندر، چمپینزی اور بن مانس بالکل ناپید ہوتے یا اگر ہیں تو بیچ کی تمام کڑیاں بھی موجود ہوتیں، یعنی انسان اور بن مانس کے درمیان کی کڑیاں مختلف صوتی ارتقائی مراحل کے ساتھ۔ مختلف آواز کے زیر و بم کے ساتھ ان کا موجود ہونا تو ارتقاء کے حوالے سے بھی ضروری اور فطری ہے، مگر وہ تو نہیں ہیں! وہ نسلی کڑیاں کہاں گئیں اور کیوں معدوم ہوئیں اور ان سے قبل کی کیوں باقی رہیں؟ اس تشکیک کو ایک عام انسان کے لیے سائنسدان کیسے دور کریں گے؟ فوسل fossil کا علم تو بہت گہرا اور عام انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ بن مانس معدوم کیوں نہیں ہوئے۔ وہ بن مانس کہاں ہیں جنہوں نے ابھی بولنا ہی شروع کیا تھا۔

وہ آدھا انسان اور آدھا بن مانس جو نیم اہل ِ زبان بن رہا تھا کہاں ہے؟
یہ تو کامن سینس کے سوال ہیں کوئی علمی گتھّی نہیں۔ لیکن ہزار منطق اور علمی وضاحتی بھی اس تشکیک کو دور نہیں کر سکتیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس ضمن میں کہیں نہ کہیں کچھ اور علوم نئے اصول اور نئے ضوابط کے موجود ہ ہوں جو انسان سے ابھی اوجھل ہیں اور آئندہ کبھی عیاں ہوں۔

اسی ضمن میں اب ایک بہت اہم بنیادی نکتے کی طرف آتے ہیں کہ:
ٓانسان کی ترقی اور آسمان کی طرف عمودی پرواز اُن علوم کی بدولت ہے جن کی انسان چھان بین کرتا چلا آ رہا ہے۔ جانور سے رابطے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ارتقاء کے حوالے سے کیا یہ سوال فطری نہیں کہ:
علم knowledge کیا ہے؟ اس کا ذخیرہ کہاں ہے، کہاں سے آیا ہے؟
علوم کا منبع origin کیا ہے؟
کیا یہ بھی ایک پہیلی riddle ہے؟
کوئی فلسفہ یا کوئی علم ان سوالات کا حتمی جواب نہیں دے سکتا کیونکہ انسان تو صرف حصول ِعلم کے گرداب میں گھرا اسی کو منزل سمجھتا ہے۔ مثلاً ایک فلسفی پلاٹو کہتا ہے کہ علم روح میں مدفون آئیڈیاز کو سمجھنا ہے۔ مگر دوسری طرف روح کو سائنس نہیں مانتی نہ ہی فلسفی روح کی تشریح کر پائے ہیں۔

آئیں ہم اس معمّے کو ایک مفروضے hypothesis کے تحت حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک اُلوہی اشارے کی تشریح اہم ہوگی۔ وہ اشارہ قرآن میں درج ہے اور وہ ہے آدم کا ذخیرہ ٔ علم یا کتاب ِعلم۔ یہ بہت واضح اشارے کے ساتھ موجود ہے۔ آدم کی کتاب ِعلم book-of-knowledgeیا علم کا ڈیٹا ویئر ہاؤس کیا ہے؟ اس کے لیے ذرا پیچھے چلتے ہیں، یعنی عدم کا خیالی سفر۔

یاد کریں کہ خالق کائنات مٹّی کا ایک پتلا بنا کر اس میں ایک مخصوص روح ڈالتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ یہ زمین پر میرا نائب ہوگا۔ انسان کو فضیلت کی اس عظیم عطا پر باقی مخلوق کی حیرانی دور کرنے کے لیے پہلے خالق کائنات انسان کو کائنات کا سارا علم عطا کرتا ہے، پھر فرشتوں سے آسمان کی چیزوں کے نام پوچھتا ہے تو سب لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ آدم ؑ ودیعت کردہ علوم کے تئیں کائنات کی ہر چیز کا نام بتا دیتے ہیں۔
یہی ہے نہ ہماری ابتدا؟

اسی ابتدا میں ہمارے سوال کا جواب پنہاں ہو سکتا ہے کیونکہ یہی وہ لمحہ تھا جس میں کائنات کے تمام علوم انسان کو دیکر واپس نہیں لیے گئے بلکہ کہیں منجمد کردیے گئے یا پوشیدہ۔ یہ آدم کی کتاب ِعلم یا کُل علوم کا ڈیٹا بینک تھا۔ ہمارا تجسّس یہ ہے کہ آدم کی یہ کتاب ِعلم کہاں ہو سکتی ہے، کیا پیرائے اور روپ رکھ سکتی ہے اور کس طرح نسل در نسل منتقل ہوسکتی ہے، اس پر جدید حقائق کی روشنی میں غور کیا جانا ہی عین منطقی اور عقلی ہے۔

ذرا ایک لمحے کو جدید سائنس کی مرعوبیت سے باہر آکر اور ذہن کو وسعت دیکر غور کریں کہ وہ یکتا خالق ایک انتہائی عظیم الشّان سائنس کی پرتو کائنات کا خالق ہے جس کے اندر انسان کو نائب بنایا گیا۔ اسی برتر سائنس کے بموجب کائنات کے تمام علوم کا مجموعہ یعنی ان کا مکمل ڈیٹا بیس آدم کے ذہن میں منتقل ہوا تو اسی وقت وہ اندر کہیں محفوظ بھی ہوا۔ کائنات کے تمام علوم لیے آدم علیہ السّلام جب صاحب اولاد ہوئے تو یہی علم کا ڈیٹا اولاد میں بھی منتقل ہوا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ یہی کہ انسان کی ہر اولاد میں یہ ڈیٹا منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ہر انسان اپنے اندر دور کہیں یہ سب لیے ہوتا ہے یعنی ہر انسان کائناتی علوم کا کیرئیر ہے۔ ہر ہر شخص اور اپنی اپنی ذہنی اُپچ اور ٹرینڈ trend کے تئیں اس کے کسی صفحے کو کھول کر پڑھتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ان علوم کا انبار عظیم انسان کے دماغ میں کیسے اور کہاں محفوظ ہوا ہوگا؟
کیا ڈی این اے میں؟
موجودہ علمی پیش رفت اور دریافتوں کی روشنی میں انسانی جین ہی میں اس کا جمع ہونا بالکل منطقی اور عقلی ہے۔ لیکن کیا انسانی جین یا دماغ میں اتنی وسعت ہے کہ ان کائناتی علوم کے عظیم ڈیٹا کو سنبھال سکے؟ یہی سوال جواب مانگتا ہے کہ جس کو ہم تلاش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فواد چوہدری، خالی نقشے اور نیپال میں خودکشی - محمد عرفان ندیم

ہمیں یاد ہے کہ تیس سال قبل ایک بڑی ہارڈ ڈرائیو hard-drive صرف چند ایم بی کا ڈیٹا محفوظ کر پاتی تھی اور بالکل شروع میں تو ایک الماری کے برابر ڈرائیو بھی بنی تھیں۔ نتیجہ یہی نکلا کہ جوں جوں انسان اپنے اندر محفوظ عدم کے ڈیٹا سے استفادہ حاصل کر رہا ہے یعنی علم حاصل کر رہا ہے، ہمارا یہی بیرونی سوفٹ وئیر ڈیٹا اسٹوریج سکڑتا جا رہا ہے یہاں تک کہ مائیکرو چپِ کے علاوہ لائٹ یعنی روشنی سے چلنے والے ڈیٹا اسٹورج متعارف ہو رہے ہیں۔ لہذٰا ہماری جین میں کائنات کے علوم کا اسٹور ہونا ہی سائنسی، منطقی اور عقلی استدلال رکھتا ہے۔ لیکن کیا ہمارے پاس اس کی حمایت میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہے؟
کیا ایسا نہیں ہوسکتا؟
آئیں دیکھیں کہ جدید دریافتیں ہماری حمایت میں کیا کہتی ہیں۔
1)
انسانی جسم میں ایک سو ٹریلین سیل 100 trilion-cells ہوتے ہیں جبکہ ہر سیل میں ڈیڑھ گیگا بائٹ 1.5GB ڈیٹا اسٹور ہو سکتا ہے، اس طرح انسان کے جسم میں ایک سو ٹریلین ضرب 1.5 کے حاصل کے برابر ڈیٹا اسٹور ہوسکتا ہے جو کہ ایک سو پچاس زیٹابائٹ 150-zettabites بنتا ہے۔
حوالہ: http://bitesizebio.com/8378/how-much-information-is-stored-in-the-human-genome
2)
Harvard’s Wyss Institute میں حال ہی میں ایک گرام ڈی این اے میں 700 ٹیرا بائٹ ڈیٹا اسٹور کرنے سے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔
حوالہ:
https://www.extremetech.com/extreme/134672-har vard-cracks-dna-storage-crams-700-terabytes-of-data-into-a-single-gram
3)
اس سلسلے میں ایک بالکل حالیہ پیش رفت ہمارے استدلال کی مزید تصدیق اور گواہی ہے:
تحقیق اور تجربے کے مطابق ڈی این اے پر مشتمل نئی اسٹوریج ٹیکنالوجی سے پوری دنیا کا ڈیٹا ایک کمرے کے حجم کے ڈی این اے میں جمع ہو سکتا ہے۔ اس کا تجربہ ہوچکا ہے۔ اس کے مطابق آئندہ فیس بک اور امیزون کا عظیم انفارمیشن ڈیٹا صرف چند پک اپ حجم کے ڈی این اے میں سما جائے گا:
حوالہ:
DNA could store all of the world's data in one room.
A new method of storing data in the nucleotide bases of DNA is the highest-density storage scheme ever invented.
http://www.sciencemag.org/news/2017/03/dna-could-store-all-worlds-data-one-room

سو سال قبل انسان کو جین geneمیں اتنی معلومات کے محفوظ ہونے کا پتہ نہیں تھا اور سو سال بعد کیا ہوگا، اس کا ہم کو بھی نہیں پتہ۔ ان حوالوں سے ہمارے اس سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ علم اور معلومات کا منبع origin کیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا اس عظیم ڈیٹا بیس کی حفاظت کا سسٹم ایک بہت برتر سپر سائنس کا شاہکار نہیں؟

خالق کی عظیم تر سائنس نے کائنات کا تمام علم انسانی دماغ میں جین میں کہیں محفوظ کردیا اور بس! اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ کائنات کے علم کا ڈیٹا وئیر ہاؤس ہر انسان لیے پھر رہا ہے۔ اس کتاب ِعلم میں کائنات کے تمام علوم مرقوم ہیں اور انسان ورق بہ ورق اسے کھولتا آگے بڑھ رہا ہے، یہاں تک کہ اللہ کے ودیعت کردہ ہر ہر علم کو اپنی عقل سے جان کر اور عیاں کر کے اپنے آپ کو مسجود ملائک کے شرف کا حقدار ثابت بھی کردے گا، کیونکہ تخلیق کے وقت عظیم الشّان خالق نے انسان کو نیابت کا شرف بخشتے ہوئے فرشتوں کے تجسّس پر فرمادیا تھا کہ:
’’جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے‘‘۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ نائب کا مطلب ہم انسان اپنی انتظامی دنیا میں کیا لیتے ہیں؟
یہی کہ سپیرئیر یا باس boss کی مرضی سے اس کے کرنے کے ہر کام کو ایک حد تک کرنے کی آزادی !
دوسرے لفظوں میں اختیار کی محدود منتقلی! limited-transfer-of-power

ہماری مینیجمنٹ کا اصول authority-can-be-transferred-but-responsibility-cannot-be یعنی اختیار منتقل کیا جاسکتا ہے ذمّہ داری نہیں، اسی کتاب کی کوئی لائن ہے، تبھی تو اللہ نے انسان کو کائنات میں تصرّف کا اختیار دیا لیکن اس کو چلانے کی ذمہ داری اپنے پاس ہی رکھی!

مختصراً! انسان آدم علیہ السلام کو عطا کیے گئے علوم کے ساتھ یا دوسرے الفاظ میں ایک غیر مرئی کتاب ِعلم کے ساتھ زمین پر اتارا گیا ہے۔ کائنات کے سارے علوم انسان کی میراث ہیں اور سب مل کر ہی اس کے ہر ہر اسرار کو سمجھیں گے۔ یہی ہو بھی رہا ہے کہ ہر انسان ایک مختلف سرشت کے ساتھ علم کے سمندر میں اپنی کشتی کھَیتا رہتا ہے اور کسی ایک یا معدودے چند ہی شعبوں میں سر کھپاتے علم کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر کچھ موتی نکال لاتا ہے ۔

انسان جب کسی طبعی مظہر کی جانچ شروع کرتا ہے تو اُس بیرونی تحریک پر اپنے اندر موجود اس کمپریسڈ compressed یا بھنچے ہوئے ڈیٹا میں فکّر کے توسّط سے کھدائی یا تلاش کرتا ہے اور اس کی یہ کاوش کسی پوشیدہ اصول، قانون یا علم سے روشناس کرادیتی ہے یا انسان اسے ڈھونڈ نکالتا ہے۔ یہی جانکاری اور دریافت ہماری سائنس بنتی ہے۔ اسی طرح یہ سفر جاری رہے گا یہاں تک کہ انسان تمام علوم حاصل کرکے خالق کے نائب ہونے کا عملی practical اظہار بھی کر گزرے ! کون جانے!

ہماری محدود عقل تو اب تک یہی سمجھ پائی کہ:
آدم کی کتاب ِعلم، شاید کسی پارٹیکل میں پنہاں اربوں کھربوں صفحات کی مائیکروکتاب ہے، جو ڈی این اے کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی، پڑھی جاتی ہم تک آن پہنچی ہے۔ ہمارے اعصاب سے اس کا کوئی اچھوتا رابطہ ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن بار بار انسان کو تفکّر کی دعوت اسی لیے دیتا ہے کہ جب انسان غور کرتا ہے تو معلومات کے اس وئیر ہاؤس تک جاپہنچتا ہے اور اس کتاب کے اوراق کھلنے شروع ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ العلیم چاہتا ہے کہ انسان علوم حاصل کرکے نیابت کا حق ادا کرے۔
کیا انسان اس کے آخری اسباق تک پہنچ گیا؟ یہ تو وقت بتائے گا۔۔ لیکن
علم کا یہی چُھپا خزانہ آدم ؑ کے حوالے سے ہماری بھی میراث ہے۔
یاد کریں کہ کیا ہمارے نبی ﷺ نے نہیں فرمایا کہ:
’’علم مومن کی گمشدہ متاع ہے‘‘۔
مگر خالق کا قانون یہ بھی تو ہے کہ، انسان کے لیئے وہی ہے کہ جس کی کوشش کرتا ہے۔
یہ بزم مَے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اُٹھا لے ہاتھ میں میِنا اُسی کا ہے

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.