ایک قابل مذمت دوسرا قابل سزا - حامد میر

ایک درویش عالم دین کے مدرسے میں ہونے والے اجتماع کے مہمان خصوصی وزیر اعظم نواز شریف اسٹیج پر بیٹھ چکے تھے۔ سامنے والی کرسیوں پر بیٹھے اکثر افراد کوٹ اور ٹائی میں ملبوس تھے البتہ پچھلی نشستوں پر کچھ علماء اور طلبہ بھی نظر آ رہے تھے۔ جامعہ نعیمیہ لاہور کے سالانہ اجتماع میں مجھے پہلے بھی کئی مرتبہ شرکت کا شرف حاصل ہو چکا ہے لیکن سکیورٹی کے اتنے غیر معمولی انتظامات پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ شرکاء کم اور ان پر نظر رکھنے والے سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد زیادہ تھی۔ اجتماع کی کارروائی شروع ہوئی تو پچھلی نشستوں سے ’’قادری تیرے جانثار بے شمار بے شمار ‘‘ کے نعرے لگنے شروع ہو گئے، لیکن منتظمین کی منت سماجت پر نعرے رک گئے۔ میں نے اپنی تقریر میں مفتی ڈاکٹر سرفراز نعیمی کی جرات و بہادری کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے جہاد کے نام پر فساد پھیلانے والوں کے خلاف آواز بلند کی تھی اور انہیں اس مدرسے میں گھس کر شہید کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے مشرف دور میں ناموس رسالتؐ کے لیے قید بھی کاٹی تھی لہٰذا میں نے گزارش کی کہ ناموس رسالتؐ کے دشمن آج بھی سرگرم ہیں، ان کے مقابلے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء اتحاد بین المسلمین قائم کریں۔ مجیب الرحمان شامی صاحب نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں آپ کی جماعت کے ایک رکن قومی اسمبلی نے ایک مخالف رکن قومی اسمبلی کے گھر کی خواتین کے بارے میں جو غلیظ الزام لگایا ہے، اس پر آپ کو اپنے رکن اسمبلی کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہیے۔ میں نے تھوڑی سی گردن گھما کر وزیراعظم کے بائیں طرف بیٹھے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی طرف دیکھا، ان کے چہرے پر ایک خفیف مسکراہٹ کی موجودگی میری سمجھ سے بالاتر تھی۔ پھر وزیر اعظم صاحب نے بھی ایک لکھی ہوئی تقریر پڑھی۔ تقریر کے بعد وہ اپنی نشست پر واپس آئے تو میں نے گزارش کی کہ آپ کو سوشل میڈیا پر توہین رسالتؐ کرنے والوں کے خلاف ایک پالیسی بیان ضرور دینا چاہیے۔ مفتی راغب نعیمی نے میری تائید کی۔ وزیراعظم یہاں سے روانہ ہوئے تو اگلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے سوٹ پوش بھی ان کے ساتھ ہی نکل گئے۔ پتہ چلا یہ سارے کے سارے سیکورٹی اہلکار تھے. مجھے اور شامی صاحب کو ایوان اقبال میں حمید نظامی صاحب کی یاد میں ایک تقریب میں جانا تھا لیکن وزیر اعظم کی سیکورٹی کے لیے اقدامات اتنے سخت تھے کہ ان کی روانگی کے بعد بھی ہمارے لیے اپنی گاڑیوں تک پہنچنا مشکل تھا کیونکہ گڑھی شاہو سے لیکر شملہ پہاڑی تک سب سڑکیں بند تھیں۔ مولانا ضیاء الحق نقشبندی صاحب نے میری مدد کی اور میں پیدل شملہ پہاڑی پہنچا۔ وہاں سے ایک موٹر سائیکل رکشے پر بیٹھ کر ایوان اقبال پہنچا تو ضیاء شاہد صاحب کا خطاب جاری تھا۔

عارف نظامی صاحب کی دعوت پر ملک کے ممتاز صحافی حمید نظامی صاحب کی صحافت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کر رہے تھے۔ میرا نکتہ یہ تھا کہ حمید نظامی جیسے صحافیوں نے خبرنگاری کے معاملے میں صرف وہی لکھا جو دیکھا اور خبر میں اپنی ذاتی رائے کو اہمیت نہیں دی لیکن کالم نگاری اور اداریہ نویسی میں وہی لکھا جسے سچ سمجھا۔ ایک اچھا صحافی سچ اور جھوٹ کے درمیان توازن قائم کرکے غیر جانبداری اور نیوٹرل جرنلزم کا دعویدار نہیں بن سکتا۔ حمید نظامی قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم ؒ کےساتھ کھڑے رہے اور قیام پاکستان کے بعد قائداعظمؒ کے اصولوں پر کھڑے رہے۔ انہوں نے مسلم لیگی حکومتوں پر بھی تنقید کی۔ حمید نظامی تحریک پاکستان میں نیوٹرل رہتے تو مسلمانوں کے ترجمان نہ بن پاتے، قیام پاکستان کے بعد جمہوریت اور آمریت کی لڑائی میں نیوٹرل رہتے تو صحافت کی آبرو قرار نہ پاتے۔ سچا صحافی جمہوریت کے مقابلے پر آمریت کے ساتھ کھڑا نہیں ہو سکتا اور جمہوریت کے نام پر آمرانہ ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں کے دوغلے پن پر بھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ جمہوریت کے نام لیواؤں سے لفافے، پلاٹ اور سرکاری عہدے لیکر قلم کا سودا کرنا جمہوریت اور صحافت دونوں سے دشمنی ہے۔ سچا صحافی کبھی نیوٹرل نہیں ہوتا۔ وہ کسی سیاسی جماعت یا ادارے کا نہیں عوام کا ترجمان ہوتا ہے۔ سب پر تنقید کرتا ہے اور سب سے داد بھی پاتا ہے۔

دو روز پہلے کی بات ہے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں دوپہر کے کھانے کی میز پر آصف زرداری صاحب نے میری اور شیری رحمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے تو عرفان اللہ مروت سے صرف ایک ملاقات کی تھی لیکن آپ دونوں نے میری بیٹیوں سے مروت کے خلاف ٹویٹ کرا دیا۔ میں نے کسی قسم کی وضاحت کیے بغیر اعتراف جرم کر لیا لیکن شیری رحمان نے بڑے بھرپور انداز میں اپنا دفاع شروع کر دیا۔ میں نے عرض کیا کہ بختاور اور آصفہ کی ٹویٹ سے محترمہ بےنظیر بھٹو کی دونوں بیٹیوں کا وقار بلند ہوا ہے اور بیٹیوں کے باپ کو بھی عزت ملی ہے جس نے اپنی بچیوں کے اختلاف رائے کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ میں نے تردید کے بجائے اعتراف جرم اس لیے کر لیا کہ میرے لیے بختاور اور آصفہ کی رائے پر ایک نیوٹرل مؤقف اختیار کرنا بہت مشکل ہے۔ میں اسے پیپلز پارٹی کا اندرونی معاملہ قرار دیکر نظرانداز نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے بطور صحافی عرفان اللہ مروت کے بارے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی باتیں اپنے کانوں سے سن رکھی ہیں۔ مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے جب نوازشریف کی طرف سے محترمہ بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک قرار دیا جاتا تھا، پھر ان دونوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کر دیے، اور پھر دونوں میں سے جس نے بھی اس چارٹر کی خلاف ورزی کی تو مجھے تنقید کے نشتر چلانے پڑے۔ سچا صحافی سب کے ساتھ ہوتا ہے لیکن کسی کےساتھ نہیں ہوتا۔ لوگ بہت کچھ کہتے رہتے ہیں لیکن عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے کرم سے ملتی ہے۔

آپ مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے جاوید لطیف اور تحریک انصاف کے ایم این اے مراد سعید کے معاملے کو دیکھ لیں۔ کیا اس معاملے میں کوئی نیوٹرل رائے دی جا سکتی ہے؟ مراد سعید نے جاوید لطیف کو مُکا مارا، بہت غلط کیا لیکن جاوید لطیف نے مراد سعید کی چھوٹی بہنوں پر جو الزام لگایا، وہ غلط ہی نہیں گھٹیا بھی تھا۔ یہ الزام پارلیمنٹ ہاؤس کے دروازے کے باہر اس جگہ پر کھڑے ہو کر لگایا گیا جہاں پر کلمہ طیبہ کا سایہ ہے۔ میڈیا نے مراد سعید کا مُکا تو دکھا دیا لیکن جاوید لطیف کا غلاظت بھرا گھٹیا الزام نہیں دکھا سکتا۔ میں دونوں کی مذمت نہیں کر سکتا۔ مراد سعید ایک جذباتی، بڑبولا اورہتھ چھٹ نوجوان ہے میں اس کی مُکا بازی کی مذمت کرتا ہوں لیکن جاوید لطیف قابل مذمت نہیں قابل سزا ہے۔ میں دونوں کے درمیان نیوٹرل نہیں رہ سکتا۔ ایک غلط ہے دوسرا گھٹیا۔ ایک چھوٹی برائی ہے دوسرا بہت بڑی برائی ہے جو مراد سعید کو اپنے بیٹوں کی جگہ قرار دیتا رہا اور پھر اسی بیٹے کی بہنوں پر گھٹیا الزام بھی لگا دیا۔ الزام کی معافی مانگتے ہوئے یہ بھی کہا کہ میں اس بحث میں نہیں جاتا کہ میرا الزام صحیح ہے یا غلط لیکن غصے میں مجھے یہ الفاظ نہیں کہنے چاہیے تھے۔ جاوید لطیف کی یہ معافی ناقابل قبول ہے۔ شرافت کی علمبردار مسلم لیگ (ن) کو جاوید لطیف کے خلاف جماعتی سطح پر کارروائی کرنی ہوگی تاکہ پاکستانی قوم کو پتہ چلے کہ ایک مرد کا دوسرے مرد کو مُکا مارنا قابل مذمت ہے لیکن ایک مرد کا دو بہنوں اور بیٹیوں پر گھٹیا الزام قابل سزا ہے اور اس معاملے میں ہم نیوٹرل نہیں رہ سکتے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com