شکریہ سلیم صافی صاحب - ثمینہ رشید

قائد اعظم کی بذلہ سنجی کے ضمن میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک امریکی سیاح شملہ کانفرنس کے دوران قائد اعظم سے ملاقات کےلیے حاضر ہوا۔ وہاں آ کر اسے پتاچلا کہ محمد علی جناح آدھی آدھی رات تک اپنے کمرے میں بیٹھےکام کرتے رہتے ہیں۔ دوران ملاقات اس نے قائد اعظم سے پوچھا کہ ’’کانگریس کے تمام لیڈر اس وقت سو چکے ہیں، لیکن آپ ابھی تک جاگ رہے ہیں۔‘‘
قائد نے مسکرا کر جواب دیا ’’جی ہاں! کانگریس کے لیڈر اس لیے سو رہے ہیں کہ ان کی قوم جاگتی ہے۔ اور مجھے اس لیے جاگنا پڑتا ہےکہ میری قوم سو رہی ہے۔‘‘

قائد اعظم نے تو اُس وقت اپنی بذلہ سنجی میں ایسا کہا لیکن اب یہ حقیقت سے کافی قریب صورتحال ہے۔ ستر سال ہونے کو ہیں لیکن افسوس قوم پھر سے اس خوابِ غفلت کا شکار ہوگئی ہے۔ اور خوابِ غفلت کا شکار بنانے والے مسلسل اس بے خوابی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

لیکن ان میں ایک لیڈر ایسا بھی ہے جو دن رات نقارے بجاتے نہیں تھکتا اور خوابِ غفلت میں ڈوبی قوم کے کان پہ جوں نہیں رینگتی۔ البتہ قوم کے نام نہاد عظیم لیڈران جب چاہیں قوم کو اُٹھا کر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں-

یوں تو قوم نے خوابِ غفلت سے نہ جاگنے کا تہیہ کیا ہوا ہے لیکن ایک جادوئی کلمہ جو آدھی سے زیادہ سوئی قوم کو پوری طرح جگانے کا ہنر رکھتا ہے، وہ ہے عمران خان صاحب کا ایک بیان جس کو راتوں رات اتنی مشہوری ملتی ہے کہ کیا کسی ہالی ووڈ یا بالی ووڈ ہیرو کے کسی بیان کو ملتی ہوگی۔ ٹی وی، اخبار، سوشل میڈیا پہ سارے موضوعات اس ایک بیان کے سامنے پھیکے پڑ جاتے ہیں۔ سونے پہ سہاگہ وفاقی حکومت کے وزیر اس پہ حتی المقدور نمک مرچ ڈال کر کئی دنوں تک موضوعِ گفتگو بنائے رکھتے ہیں تو صحیح طریقے سے معلوم ہوتا ہے کہ نان ایشو کو ایشو کیسے بنایا جاتا ہے۔

کل شام دلیل پہ سلیم صافی کا کالم ’’شکریہ عمران خان‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ مقام افسوس ہے کہ جن دانشوروں سے ہم غیر جانبدارانہ تجزیہ اور رائے جاننے کہ خواہشمند ہوتے ہیں، اگر وہ بھی جانبدارانہ تحریروں سے قوم کو کنفیوزن کا شکار بنا دیں تو عوام کی رہنمائی کون فراہم کرے گا۔ ایک لکھاری کا کام ہے غیر جانبدار ہو کر حقائق سے آگاہ کرنا نہ کہ ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پہ قوم کو گمراہ کرنا۔

ان کے کالم کا ابتدائی حصہ کچھ الجھا دینے والہ ہے جس میں انہوں نے اپنی طالب علمی کے زمانے کا تذکرہ کیا ہے کہ جب وہ جنرل حمید گل اور ڈاکٹر محمد فاروق خان مرحوم کی عمران خان کے ساتھ ہونے والی نشستوں میں شریک ہوتے تھے۔ بقول ان کے کہ طالب علم ہونے کے باوجود ان کی زیرک نگاہی نے فورا ہی بھانپ کیا کہ ’’خان صاحب ویسے نہیں جیسے دِکھتے ہیں‘‘ البتہ اس حقیقت کو سمجھنے میں جنرل حمید گل اور ڈاکٹر فاروق خان مرحوم کو کافی عرصہ لگا اور بقول سلیم صافی، وہ دونوں کافی عرصہ تک اسی غلط فہمی یا خوش فہمی کا شکار رہے۔ بعد ازاں جنرل حمید گل پیچھے ہٹ گئے لیکن ڈاکٹر فاروق خان صاحب نے (صافی صاحب کے منع کرنے کے باوجود) پی ٹی آئی میں شامل ہوکر پارٹی کا دستور تحریر و تخلیق کیا اور دو سال بعد پی ٹی آئی سے علیحدہ ہوئے۔ اس کے بعد صافی صاحب کے بقول ڈاکٹر صاحب کی شہادت کے موقع پر ’’ہماری التجاوں‘‘ کے باوجود عمران خان صاحب جنازہ یا فاتحہ میں شریک نہ ہوئے۔ اب جنازے میں شریک نہ ہونے کی توجیہہ تو خان صاحب ہی دے سکتے ہیں البتہ صافی صاحب کی ہماری التجاؤں والا جملہ الجھا دینے والا ہے کہ خان صاحب کو سمجھ جانے کے باوجود اتنی قربت اور توقعات کی وجہ کیا رہی۔

آگے صافی صاحب فرماتے ہیں کہ لوگ عمران خان کو صاحبِ دل سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے پوری ٹیم کی فتح کو صرف اپنے نام کرکے اسپتال کے لیے کیش کرایا۔ صافی صاحب یہ لکھتے ہوئے اس بات کو قطعی فراموش کر گئے کہ شوکت خانم کینسر ہسپتال عمران خان نے قوم کو اس وقت تحفے میں دیا جب وہ سیاست میں نہیں تھے۔ افسوس ہوتا ہے جب لوگ شوکت خانم کو بھی نہیں بخشتے جو اس ملک کے ہزاروں لوگوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔ بیس کروڑ عوام نے کتنے عمران خان کو جنم دیا ہے۔ جو اپنا عیش و آرام تیاگ کے ایسے مشن کو پورا کرسکیں۔ صافی صاحب کا یہ خیال، کہ عمران خان ہسپتال کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں، محض ایک غلط فہمی ہے۔

مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ابھی ایسی کوئی سائنس ایجاد نہیں ہوئی کہ جو عمران خان کو ایسے دو حصوں میں تقسیم کرسکے جس میں ایک کا تعلق سیاست سے ہو، دوسرے کا شوکت خانم سے۔ اب خان صاحب کا قصور اتنا ہے کہ اگر وہ کراچی شوکت خانم کا افتتاح کرتے ہیں تو ان پہ فورا ہسپتال کو سیاست میں لانے کا اعلان کر دیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے قطعی بر عکس ہے. کراچی شوکت خانم کے بارے میں آج سے تقریبا تیرہ سال قبل سوچا گیا تھا۔ آج کئی سال بعد جب کراچی کے پراجیکٹ پہ باقاعدہ کام شروع ہوگیا ہے تو بجائے اس پر مسرت کے اظہار کرنے اور سپورٹ کرنے کے ایک سیاستدان عمران خان صاحب کا پروجیکٹ کہہ کر الزام تراشی کی سیاست کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہاتھیوں کا کھیل - محمد عرفان ندیم

صافی صاحب کی شکووں کی فہرست تو طویل ہے لیکن ان کا یہ الزام ہم میں سے کتنوں کے لیے قابل قبول ہے کہ حال ہی میں اسمبلی کے دروازے پر جاوید لطیف اور مراد علی کے درمیان جو جھگڑا ہوا، وہ عمران خان کی برکت سے ہے۔ اس ایک جملے میں وہ متعصب ہونے کے سب سے اونچےمقام پہ نظر آتے ہیں۔ پوری قوم جاوید لطیف کو ان کے بیان اور اس کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس پہ لعن طعن کر رہی ہے، لیکن سلیم صافی اپنی الگ ہی غیر منطقی رائے دیتے نظر آتے ہیں۔ انہیں خواجہ آصف، دانیال عزیز، سعد رفیق اور رانا ثناءاللہ کی خوش بیانیاں بالکل سنائی نہیں دیتیں۔ یا شاید عمران خان صاحب پہ ان کی ’’نظرِعنایت‘‘ کچھ خاص ہی ہے، اب اس خاص نگاہ نے کیا کچھ ارد گرد فراموش کردیا، اس کا حساب تو تاریخ دان ہے بتائے گا۔ لیکن میں ان سے سوال کرتی ہوں کہ کوئی ایک شخصیت ایسی لائیے جو کئی سالوں سے اپنے مشن سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹی ہو۔ اپنے کاز کو زندگی جان کر اپنے عزم سے لوگوں کو حیران نہ کرچکا ہو، لیکن اس کی اِن خوبیوں کو پسِ پشت ڈال کر اہمیت دی جاتی ہے تو ان باتوں کو جن کی سِرے سے کوئی اہمیت نہیں۔

موجودہ پھٹیچر والا قصہ سب کے سامنے ہے۔ ہم سب اپنی خلوت میں دوستوں میں ایسی کئی باتیں کرجاتے ہیں جو شاید اس سے بھی زیادہ نامناسب ہوں لیکن خان صاحب کی نجی محفل کی چھپ کہ ویڈیو بنائی جاتی ہے، اخلاقیات کو سائیڈ پر رکھ کہ اس کو میڈیا پر اس طرح اُچھالا جاتا ہے کہ شاید قوم کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ایسے سارے صحافی اور ن لیگیوں کو وہ زبان یاد نہیں جو شریف برادران محترمہ بینظیر صاحبہ کے لیے استعمال کرتے تھے۔

عمران خان ایک طویل جنگ نہتے لیڈر کے طور پہ لڑ رہے ہیں جو ایک پورے کرپٹ سسٹم کے خلاف ہے۔ اس کرپٹ سسٹم میں ایک جماعت نہیں کئی جماعتیں اور شخصیات شامل ہیں۔ عمران خان اس طویل اعصاب شکن جنگ کے باوجود ہمت ہارنے یا پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اور یہی ان کے سچے لیڈر ہونے کی نشانی ہے۔ اور یہی پرانے کھلاڑی سیاستدانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس وقت پورا سسٹم بشمول میڈیا کے بھرپور استعمال کے، عمران خان کے گرد گھیرا تنگ کرنے، ان کو بدنام کرنے اور ان کو اکیلا کرنے کے مشن پہ عمل پیرا ہے۔ اگر کہا جائے کہ پوری اسٹیٹ مشینری اپنی مکمل قوت کے ساتھ عمران خان کے خلاف کام کرنے پہ مامور ہے تو غلط نہ ہوگا۔ رؤف کلاسرہ صاحب کا دنیا نیوز میں اتوار کے روز چھپنے والا کالم بھی اس موقف کی تائید کرتا ہے۔

سلیم صافی کا کالم پڑھنے کے بعد مجھے کئی ایسے مواقع یاد آ رہے ہیں جن کے لیے شریف برادران کا شکریہ ادا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ ان میں سے کچھ شکریہ آج پیش کرنے کی جسارت کر رہی ہوں۔ شاید قوم غفلت سے جاگنے کی غلطی کرے اور پڑھے کہ سلیم صافی کے اصل شکریہ کا صحیح حقدار دراصل کون ہیں۔

شریف برادران کے شکریہ کی بات آئی تو ان کے کریڈٹ پہ ایسے کئی کام نظر آئے جس کے لیے ان کو شکریہ کہا جا سکتا ہے۔

ماڈل ٹاؤن میں ناحق شہید کیے جانے والے چودہ بےگناہ اور نہتے لوگوں کا خون بہانے والوں کا جرم جن کی گردن پہ ہے ان کا کوئی کیا بگاڑ سکا ہے۔ کیس کئی سالوں سے چل رہا ہے، کمیشن بنتے رہیں گے، تاریخیں پڑتی رہیں گی، ذمہ داروں کا تعین کبھی ہو سکے گا یا نہیں، اس کے لیے شکریہ شہباز شریف

نندی پور پاور پروجیکٹس، ایل ڈی اے لاہور، رمضان شوگر ملز اور وفاقی وزیرِ خزانہ کے ریکارڈ رومز میں پراسرار آگ لگ جاتی ہے، کرپشن کے ثبوت جلا دیے جاتے ہیں، اہم افراد اغوا ہو جاتے ہیں، ٹی وی چینلز پہ شور اور باضمیر صحافیوں کی اٹھتی آوازوں کو کسی نہ کی طرح دبا جاتا ہے۔ شکریہ نواز شریف

یہ بھی پڑھیں:   مستقبل کے ساتھ کھلواڑ - رعایت اللہ فاروقی

اورنج ٹرین کی لاگت اصل منصوبے سے کئی گنا زیادہ ہوچکی ہے۔ اس کے ایک کلومیٹر ٹریک کا بجٹ کسی یونیورسٹی کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے لیکن کیا کریں جناب یہی قوم کی ترجیحات ہیں۔ جاہل عوام تو ان حکمرانوں کے لیے خزانہ ہیں۔ تو کوئیئ بات نہیں حکمران سلامت رہیں، اور ان کی کرسیاں آباد رہیں۔ شکریہ شہباز شریف

کیا ہوا جو اسٹیل مل اربوں روپے کے خسارے میں اور شریف برادران کے اسٹیل کا کاروبار تین گنا منافع پر چلایا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ملک خسارے میں جائے تو جائے، مگر اپنی ذاتی مل زیادہ ضروری ہے۔ شکریہ شریف برادران۔

کیا ہوا جو تھر کے بچے بھوک سے مرتے رہے اور وفاقی حکومت اٹھارویں ترمیم کا رونا روتی رہی۔ مک مکا کی سیاست کرتی رہی۔ کیونکہ الیکشن ابھی کافی دور تھے اور ن لیگ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتی۔ تھر کے بچے غلط وقت پہ مشکل میں تھے، اب اگر خدا نہ کرے ایسی مشکل آتی تو وفاقی حکومت خزانوں کا منہ کھول دیتی اور تھر کی قسمت بدلنے کے ایسے خواب دکھاتی کہ لوگ شاید انہیں ووٹ دینے پہ غور کرتے لیکن وہ وقت گزر گیا۔ کیا ہوا جو برا وقت تھا اور کئی معصوم جانوں کو ساتھ لے گیا۔ شکریہ نواز شریف

کیا ہوا جو پنجاب میں دل کے مریضوں میں جعلی اسٹنٹ ڈال کر ان کی زندگیوں سے کھیلنے کا کھیل جاری تھا، اسکینڈل سامنے آچکا، کمیٹی بن چکی، نوٹس لے لیا گیا اور کمیٹی کے سربراہ ایک کے بعد دوسرے تبدیل کیے جاتے رہے۔ یہ گھناؤنا کھیل کب سے جاری تھا کسی کو علم نہیں۔ حتی کہ وزیرِ اعلی جن کے پاس کئی سالوں سے وزیرِ صحت کا قلمدان بھی ہے، ان کو بھی علم نہیں کہ اس کوتاہی کے ذمہ دار وہ خود ہیں لیکن سادگی دیکھیے کہ وہ ذمہ داروں کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ اس کے لیے شکریہ شہباز شریف

الیکشن سے صرف ایک سال پہلے وزیراعظم کو اچانک سندھ یاد آگیا کہ ٹھٹھہ کے عوام کو اب وفاق کی مدد کی بہت ضرورت ہے۔ اب الیکشن سے پہلے ترقیاتی منصوبوں کے سنہرے وعدوں کو سوائے بدنیتی اور پری پول رگِنگ کے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اور یہ ہتھکنڈے مسلم لیگ ن کئی ضمنی انتخابات میں ہتھیار کے طور پہ استعمال کرچکی ہے۔ سوائے اس کے کہ کورٹ کوئی ایکشن لے، اس طرح کی رِگنگ اب اور صوبوں میں بھی کی جائے گی۔ شکریہ نواز شریف

اورنج میٹرو ٹرین کے ضمن میں جو کچھ ہوا ابھی کسی کو علم نہیں۔ اس منصوبے کے لیے زمین خریدنے کی مد میں اربوں روپے کی ادائیگیاں کی گئیں لیکن اس کا آڈٹ مکمل نہ ہو سکا۔ اسی طرح کئی حکومتی محکموں کی بھی کروڑوں روپے کی زمین منصوبے کے لیے حاصل کی گئی لیکن محکموں کو معاوضہ دیا گیا نہ متبادل زمین فراہم کی گئی۔ ذرائع کے مطابق میٹرو ٹرین کے لیے خریدی گئی زمین کی مد میں بعض خاندانوں کو بھاری رقم دی گئی جس کا ریکارڈ بھی نہیں رکھا گیا اور اب کروڑوں روپے کی رقم کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ البتہ غریب بیوہ اور کچی آبادی کے مکینوں کو ملا کر تقریباً 433 افراد ابھی تک معاوضے سے محروم ہیں۔ لیکن پریشانی کی کیا بات۔ شکریہ شریف برادران قوم کے اصل مسیحا آپ ہی ہیں۔ آپ کو ایک موقع اور ملنا چاہیے۔

آخر میں پاناما کا ذکر نہیں کیا تو تاریخ دان مجھے بالکل معاف نہیں کرے گا تو جناب آئیے پچھلے ستر سالوں کی تاریخ دیکھتے ہیں، شب خون مارنےوالوں، الزام تراشی کرنے والوں اور لوٹ مار کی ملی بھگت کرنے والوں سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ لیکن پاناما کیس میں جس طرح کی غلط بیانیاں، حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کرنے کا عمل اور پھر عجب مضحکہ خیز قسم کے ثبوت پیش کیے گئے، اس سے پوری قوم واقف ہے۔ لیکن لگتا ہے اس قوم کے لیے بھی پاناما سے زیادہ پھٹیچر اہم ہے۔

شریف برادران کے علاوہ بھی کئی سیاستدانوں کا شکریہ مجھ پر واجب ہے لیکن تحریر کی طوالت کے خیال سے وہ کسی اور وقت سہی۔ آخر میں اس بات پہ زور دینا چاہوں گی کہ جن تجزیہ کاروں سے قوم کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں، وہ اپنے ذاتی تجربات و واقعات کے تعصب میں قوم کو گمراہ کرنے میں شامل ہیں، اور ملک کو لوٹنے والوں کو ایک موقع اور دینا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہوشیار رہیے اپنی بصیرت اور فہم استعمال کیجیے تاکہ آنے والی نسلوں کے سامنے سرخرو ہوسکیں۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں