ہجر و وصال - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

سوال: ہجر و فراق اور وصال کیا ہیں .. اس کی وضاحت کر دیں؟
جواب: ہجر اور فراق تو ہم معنی ہیں، محبوب سے دوری کے احساس کو کہتے ہیں. ’’وصال‘‘. وصل سے نکلا ہے. جب محبوب کی قربت اور اس کی نگاہوں میں ہونے کا احساس رہے تو یہ وصال ہے. یاد رکھیے کہ اس میں جسمانی ہجر یا جسمانی وصال کی بات نہیں ہو رہی، کیونکہ میرے نزدیک ہجر اور وصال قطعاً روحانی تجربہ ہے.

سوال: کیا یہ روحانی اور جسمانی بھی ہوتا ہے؟
جواب: جی ہاں! مجازی اور حقیقی میں یہ فرق ہے. مثال کے طور پر حبیب اکرم ﷺ کو اپنا محبوب مان لیں. اب جسمانی ہجر اور وصال سے آپ آزاد ہو گئے.

سوال: مطلب مجازی ہجر و وصال کی کوئی حقیقت نہیں؟
جواب: ہے، کیوں نہیں ہے، لیکن یہ تو محب کی چاہت پر منحصر ہے کہ اس کی طلب کی حد کیا ہے.

سوال: مجاز کی حد کیا ہو سکتی ہے آخر، ملتے جائیں، مل کے پچھڑتے جائیں، شاید اس کو بھی لا انتہا ہونا چاہیے؟
جواب: مجاز پہلی سیڑھی اور سیری ہے حقیقت کے سفر میں.

سوال: اس سے ناامید ہو کے ہی انسان کا سفرِ حقیقی شروع ہوتا ہے؟
جواب: نہ نہ، نا امید نہیں، جب محبوب مجازی سے آپ ترقی کر کے محبوب حقیقی کو پہچاننا شروع کر دیتے ہیں تو اگلا سفر شروع ہو جاتا ہے.
محبت کی طبیعت میں زبردستی نہیں ہوتی
نہ تو یہ قید ہوتی ہے نہ ہی یہ قید کرتی ہے
عطا ہے یہ، توفیق والوں کو ہی ملتی ہے
محبت خطا نہیں ہوتی نہ ہی یہ سزا میں ملتی ہے

سوال: لیکن پھر محبوب مجازی کی تو وقعت ختم ہوگی؟
جواب: وسیلہ کی وقعت کیسے ختم ہو سکتی ہے؟

سوال: لیکن مجاز میں پہلے شدت، پھر احساس قربت اور پھر احساس دوری کے ساتھ یہ سفر تو مٹتا جاتا ہے، اور مجاز اس سفر کے بعد شاید مجبوری بن کے ہی رہ جاتا ہے، اصل سفر بقول آپ حقیقت کا سفر ہی ہے؟

جواب: مجاز کا وصل ہجر کی تڑپ کو سرد کر دیتا ہے. جی اصل سفر حقیقت کا ہی ہے. قرآن کہتا ہے نا کہ عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں، تو یہ نشانیاں خدا کی ربوبیت کی پہچان کے لیے ہی تو ہیں.

سوال: ہجر کی مدت کی انتہا کیا ہے؟
جواب: ایسے ہجر کی مدت جس سے دید و وصال کی تڑپ میں اضافہ ہی ہو وہ تو نعمت ہے اور نعمت جتنی زیادہ ہو اتنی ہی اچھی. بقول شاعر
مجھے رستہ بھلا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ایک چھوٹا سا بہت آسان سا نقطہ ہے. انسان سمجھ لے تو کوئی پیچیدگی نہیں بچتی. معبود اور عبد کا نقطہ. معبود کی اطاعت لازم ہے. پھر اس اطاعت میں رہ کر. کوئی کیسا بھی عشق کرے. حقیقی ہو یا مجازی. وہ سعادت ہی ہے.
تو اطیعو اللہ منزل ہے
اطیعو الرسول رستہ ہے

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.