ڈے آف ریلائزیشنز – نیر تاباں

کل ہوا کا طوفان تھا۔ اتنی زور کی آوازیں کہ دل ہی خوف کھا جائے۔ باہر بار بی کیو کا بڑا سا ’’چولہا‘‘ جس کے پہیے لاکڈ ہوں تو ہلانا ممکن نہیں، یوں اوندھا ہوا رکھا تھا کہ جیسے کوئی بات ہی نہیں۔ مجھے بار بار احساس ہو رہا تھا کہ انسان کتنا بے بس ہے۔ یاد آ رہا کہ کیسے پچھلی قوموں پر تیز ہوا سے عذاب نازل ہوا تھا۔ ’اللھم انی اعوذبک من شر ما فیہ‘ پڑھ رہی تھی اور دل ہول رہا تھا۔

رہی سہی کسر تب پوری ہو گئی جب لائٹ چلی گئی۔ زندگی ایک لمحے کے اندر اندر بالکل مفلوج ہو چکی تھی۔ کھانا ابھی ابھی پکنے کو رکھا تھا لیکن چولہا بند، فریج میں پچھلے دن کا جو تھوڑا سا کھانا رکھا تھا، اسے گرم بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لینڈ لائن فون بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ کام نہیں کر رہا تھا، سیل فون کی بیٹری بھی ختم ہونے کے قریب تھی۔ دو گھنٹے بعد بھی جب لائٹ نہ آئی تو پیزا آرڈر کیا لیکن وہاں سے بھی انکار۔ گھر اب آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہو رہا تھا۔ گرم پانی بھی ختم ہو چکا تھا۔ گاڑی لے کر باہر نکلے۔ ٹوٹے ہوئے ٹریفک سگنلز کی وجہ سے ہلکی ہلکی سرکتی ہوئی ٹریفک، رستے میں نظر ڈالتے رہے لیکن سب کچھ بند۔ خیال تھا کہ کچھ اور نہ سہی، واپسی پر گروثری سٹور سے کچھ پھل ہی لے لیں گے لیکن طوفان کی وجہ سے سب کچھ ہی بند حتی کہ گیس سٹیشنز بھی۔ ہم پورے ہفتے کا سودا اکٹھا لیتے ہیں اور ہفتے کے اختتام پر سب کچھ ہی اپنے اختتام پر ہوتا ہے۔ کل بھی ایسا ہی تھا۔ سوچا کہ اگر کچھ بھی نہ ہو سکا تو بریڈ پر چاکلیٹ سپریڈ لگا کر دودھ کے ساتھ کھا لیں گے۔ دل میں سو طرح کے خیال آ رہے تھے.

گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے احمد نے تین بار کوئی بات کہنے کی کوشش کی لیکن آنسوؤں کو روکنے کی کوشش میں بول نہیں پا رہا تھا۔ اسے بھوک بھی لگ رہی تھی اور شاید اندر ہی اندر ڈر بھی رہا ہو۔ آپ فکر نہیں کریں، یہ بھی ایک ایڈوینچر ہی سہی، میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ ’ٹوڈے از دی ورسٹ ڈے ایور (آج زندگی کا بدترین دن ہے)‘ اس کا جواب تھا۔ ارے نہیں بھئی، ’ٹوڈے از دی ڈے آف ریلائزیشنز‘، میں نے اس کو سمجھایا۔ دیکھیں ناں، کتنے ہی لوگوں کے پاس گرم گھر نہیں، گرم تازہ کھانا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم شکر کیا کریں ان سب چیزوں کا۔ اور پھر میں نے اس کا دل بہلانے کے لیے اسے بتایا کہ جب میں اس جتنی تھی تو کیسے لائٹ چلی جاتی اور ہم موم بتی یا گیس لیمپس کی روشنی میں بیٹھ کر کبھی باتیں کرتے، کبھی ہوم ورک کرتے۔ اب وہ بہتر تھا اور مجھ سے سوال کر رہا تھا کہ کیسے ہوا کرتا تھا سب۔ یونہی گھومتے گھماتے آخرکار ایک ریسٹورانٹ کھلا مل گیا۔ رش زیادہ تھا لیکن الحمدللہ کھانا مل گیا۔ انتظار کے دوران وائی فائی کنیکٹ کرنے کی کوشش کی لیکن سپیڈ بہت سلو تھی۔ بس امی کا خیال آ رہا تھا۔ ویک اینڈ تھا اور اگر کل تک لائٹ نہ آئی تو میں کسی طرح کسی سے کوئی رابطہ نہیں کر سکتی۔ امی فکر مند نہ ہو جائیں۔

واپسی تک اندھیرا ہو چکا تھا۔ ہوا اب بھی تیز تھی لیکن دل دہلا دینے والی آواز اب مفقود تھی۔ گھر آ کر موم بتیاں جلائیں۔ کھڑکی سے باہر چودھویں کا چاند اپنے مخصوص حسن کے ساتھ جلوہ افروز تھا۔ تاریکی میں ڈوبے ہوئے شہر کی وجہ سے معمول سے زیادہ روشن لگ رہا تھا۔ کھڑکی کے ساتھ رکھے صوفے پر کمبل میں گھس کر احمد اور میں نے ڈھیر ساری باتیں کر لیں۔ اب وہ مجھے خود بتا رہا تھا کہ کتنی ہی نعمتیں ہم استعمال کرتے ہیں جن کا ٹھیک سے شکر ادا نہیں کرتے، اب ہمیں شکر گزار بننا ہے۔

ساڑھے آٹھ بجے ہم سب سو چکے تھے۔ ساڑھے تین بجے جب آخرکار لائٹ‌ آئی تو آنکھ کھلی۔ حساب لگایا تو سات گھنٹے کی نیند ہو چکی تھی۔ بستر کو خیر باد کہتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اگر روز رات کو لائٹ چلی جائے تو میں تو تہجد گزار ہو جاؤں‌۔

الحمدللہ نیا دن شروع ہو چکا ہے۔ ہوا تھم چکی ہے۔ زندگی واپس اپنی ڈگر پر آ گئی ہے۔ کچھ ہی دیر پہلے احمد کہنے لگے، ماما، میں ہیٹر کےلیے اللہ کا شکر ادا کر رہا ہوں، اور کھانے کی خوشبو کےلیے۔ آپ کس چیز کےلیے شکر کر رہی ہیں؟ ’’میں شکر کرنے والے اس بیٹے کےلیے شکر ادا کر رہی ہوں۔‘‘ الحمدللہ

Comments

FB Login Required

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

Protected by WP Anti Spam