پولیس کی بھی تو سنو - احسان کوہاٹی

’’مٹھائی کس بات کی یار! ہم تو صدقہ خیرات لینے آئے تھے، مالک کا شکر ہے مل گیا‘‘ تنومند پولیس اہلکار نے کرسی پر پھنستے ہوئے سیلانی کے دوست کو جواب دیا اور میز پر فائل پٹخ کر چائے کی فرمائش کر تے ہوئے کہنے لگا ’پھیکی منگوانا، شوگر ہوگئی ہے اور ساتھ میں کچھ نمکین بسکٹ وغیرہ بھی منگوالے، بھوک لگ رہی ہے‘‘
پیٹی بند بھائی کی فرمائش پر سیلانی کے دوست نے ہنستے ہوئے کہا ’’کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے، نوٹ تجھے مل رہے ہیں اور خرچا میرا کروا رہا ہے.‘‘
’’نوٹ۔۔۔ہاہاہاہا ‘‘وہ ہنسنے لگا، اس کا ہنسنا ایسے تھا جیسے زلزلہ آ گیا ہو ’’یہ تو سندھ سرکار کا صدقہ ہے جو صاحب لوگ پولیس کو دیتے ہیں، اور پولیس کے صاحب حاتم کی قبر پر اچھل اچھل کر اپنے سروں سے گھما گھما کر ہمارے ہاتھ میں رکھ دیتے ہیں.‘‘
’’احتیاط سے بات کر اخبار والا ساتھ بیٹھا ہے‘‘سیلانی کے دوست نے اسے سیلانی کی جانب متوجہ کیا، اس نے اپنی صحت مند گردن بمشکل گھما کر سیلانی کی طرف دیکھا اور پھولی ہوئی سانسیں سمیٹ کر بولا
’’تو یہ کون سے دودھ کے دھلے ہیں، اپنے ہی جیسے ہیں‘‘۔

’’یہ امت اخبار کے سیلانی صاحب ہیں.‘‘
سیلانی کے نام پر موصوف نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں سیلانی پر جما دیں اور کہنے لگا ’’سیلانی آپ ہی ہو، وہ دیکھتا چلا گیا.‘‘
سیلانی نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا جس پر اس نے تاسف بھرے انداز میں ٹھنڈی سانس بھری اور کہا ’’آپ کو لائینز ایریا کے ابلتے گٹر نظر آتے ہیں، اورنگی ٹاؤن کی ادھڑی سڑکیں دکھائی دیتی ہیں، بازار میں ریڑھی والے سے پچاس روپے لیتا ہوا سپاہی نظر آجاتا ہے،گالیاں دیتا ہوا ہیڈ محرر بھی مل جاتا ہے، لیکن ہم پر جوظلم ہو رہا ہے وہ کبھی دکھائی نہیں دیا ۔۔۔‘‘
’’پولیس اور مظلوم!!!‘‘سیلانی نے طنز کیا.
’’قسم سے ہم سے زیادہ مظلوم کوئی نہیں، کبھی حسین آباد آئیں، کوئلہ مٹن کڑاہی کھانے آئیں تو بتاؤں دل پھٹا ہوا ہے ہمارا۔ یہ دیکھیں یہ دیکھیں، یہ دیکھ رہے ہیں آپ۔۔۔۔‘‘ اس نے جیب سے بٹوہ نکالا اور ہزار ہزار کے تین نوٹ نکال کر میز پر پھینک دیے، نو مہینے پہلے مرڈر کیس جمع کرایا تھا، آج یہ خیرات ملی ہے؟‘‘
’’مطلب؟‘‘
’’ سیلانی بھائی میں بتاتا ہوں‘‘ سیلانی کے دوست نے کہا کہ وہ کراچی پولیس کا سدا بہار انسپکٹر ہے، سدا بہار ان معنوں میں کہ سیلانی اسے بارہ سالوں سے سب انسپکٹر ہی دیکھ رہا ہے۔
وہ بتانے لگا ’’پولیس کے تفتیشی افسر کو ہر مقدمے کی تفتیش کی کچھ رقم ملتی ہے کہ دوران تفتیش جو خرچا ورچا ہوا ہو، وہ پورا ہو جائے‘‘
’’اوہ ہاں ! مجھے یاد آگیا‘‘
’’اچھی بات ہے آپ کو یاد آگیا، کیا یہ بھی یاد ہے کہ یہ رقم کتنی ہوتی ہے؟‘‘ اسی تنومند سب انسپکٹر نے طنزیہ لہجے میں پوچھا.
’’یہ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں‘‘
’’یاد کہاں سے ہو، پولیس والے نے بیس سال پہلے بیس روپے بھی لیے ہوں تو میڈیا کو یاد رہتا ہے، بھائی ہمیں ایک قتل کے کیس کی تفتیش کے صرف دو ہزار روپے ملتے ہیں اور وہ بھی خیرات کی طرح چکر کاٹ کاٹ کر کر‘‘
’’دو ہزار روپے ۔۔۔۔‘‘ سیلانی کا منہ حیرت سے انگریزی حرف او کی شکل میں کھل گیا، اس نے تصدیق طلب نظروں سے اپنے دوست کی طرف دیکھا تو اسے مسکراتے پایا ’’کاغذوں میں تو بیس ہزار روپے لکھے ہیں، لیکن ملتے دو ہزار روپے ہیں‘‘
’’میں سمجھا نہیں کہ بیس ہزار روپوں کا ایک صفر کہاں چلا جاتا ہے.‘‘
’’ہاں یہ ہوا ناں سوال۔ لیکن اس سوال سے پہلے میرا ایک سوال ہے کہ بیس ہزار روپوں میں کوئی تفتیش ہوسکتی ہے؟ اس میں ہمارا آنا جانا، جائے وقوعہ کے پھیرے، لوگوں سے ملاقاتیں، ملزم تک پہنچنا، مخبر کی ناز بردرایاں، ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے، پکڑا جائے تو مہمان نوازی الگ، بھائی حوالات میں ہوگا تو کچھ کھائے گا پیے گا یا نہیں، پھر مجسٹریٹ سے ریمانڈ لینا، عدالت کی پیشیاں۔ وہاں تو بغیر نوٹ کے پٹے والا آواز بھی نہیں لگاتا کہ ملزم جیم، میم سین ولد شین، قاف، لام حاضر ہو، اس کی جیب میں کچھ جاتا ہے تو آواز نکلتی ہے۔ یہ سارا خرچہ بیس ہزار روپے میں کوئی کر کے دکھائے، میں اسی وقت اپنی مونچھیں مونڈ کر اس کا مرید ہوجاؤں گا. اب آجاؤ آپ کے سوال کی طرف کہ ایک صفر کہاں جاتا ہے، بیس ہزار میں سے سیدھے سیدھے دس ہزار تو اپنے فنانس والے لے لیتے ہیں، باقی رہ گئے دس ہزار جس میں سے آدھے ایس ایس پی صاحب کی سلامی ہو گئی، پیچھے رہ گئے پانچ ہزار، ان میں سے آدھے اکاؤنٹنٹ کی جیب میں گئے ،باقی رہ گئے ڈھائی ہزار، ان میں سے بھی پانچ سو روپے پٹے والا اور دیگر کلرک شلرک بریانی نہاری کے لے لیتے ہیں، ہماری جیب میں آتے ہیں دو ہزار روپے‘‘۔
’’اور یہ کسی بھی کیس میں ملنے والی سب سے زیادہ رقم ہوتی ہے، اغواء برائے تاوان کے تو پانچ ہزار روپے ملتے ہیں.‘‘

یہ بھی پڑھیں:   مجرم ماں، اندھا قانون اور سنگدل بچے - محمد عاصم حفیظ

سیلانی حیران حیران آنکھوں سے کبھی سامنے بیٹھے دوست کو دیکھتا اور کبھی افسران بالا کا ’’جھوٹا‘‘ سمیٹ کر آنے والے سب انسپکٹر کو۔ کمرے میں عجیب سی خامشی پھیل گئی، دونوں پولیس اہلکار سیلانی کی حیرانگی پر طنزیہ انداز میں مسکرا رہے تھے،یہ مسکراہٹ بالآخر کمرے میں چائے لے کر آنے والے نے ختم کی، اس نے تین کپ میز پر رکھ کر پلاسٹک کی تھیلی کا منہ کھولا اور مہارت سے تینوں کپوں میں چائے ڈالتے ہوئے بسکٹ بھی سامنے رکھ دیے.
’’بسکٹ تو تمیز سے لا، پلیٹ کہاں ہے؟‘‘سیلانی کے دوست نے غصے سے کہا.
’’صاحب! پلیٹ ذرا بزی ہے.‘‘
’’پلیٹ بھی بزی ہوتی ہے؟‘‘
’’سر! ساتھ والے لے گئے ہیں، نہاری منگوائی ہے، کہہ رہے تھے کھانا کھا کر دے دیں گے‘‘
’’اچھا اچھا بس ٹھیک ہے‘‘سیلانی کے دوست نے کھسیا کر سیلانی کی طرف دیکھا اور کہنے لگا’’یہاں ہمارے لیے کراکری تک نہیں ۔۔۔‘‘

’’ہمیشہ چھوٹی بات کرے گا۔۔۔‘‘ مہمان سب انسپکٹر نے برا سا منہ بنا کر مداخلت کی ’’کراکری تو بہت چھوٹی بات ہے، آپ یہ بتائیں پنجاب پولیس کے سپاہی کی تنخواہ کتنی ہے؟‘‘۔
’’مجھے نہیں معلوم.‘‘سیلانی نے صاف گوئی سے جواب دیا.
’’وہاں ایک سپاہی کی تنخواہ چالیس ہزار روپے ہے اور میں ستائیس سال کی سروس کے بعد سب انسپکٹر کے رینک سے اکتالیس ہزار لے رہا ہوں۔ ہمارے ساتھ کے وہاں انسپکٹر نہیں سینئر انسپکٹر ہو چکے ہیں، ہم 1998ء میں سب انسپکٹر بنے تھے اور اب انیس سال ہو رہے ہیں، کندھے پر دو سے تین پھول نہیں ہوئے، سب انسپکٹر کے سب انسپکٹر ہی ہیں اور نہیں پتہ کہ کب تک رہیں گے، پولیس رولز کے مطابق 2008ء میں ہمیں انسپکٹر ہو جانا چاہیے تھا لیکن ہماری کوئی سفارش نہیں، کوئی چاچا ماما آئی جی یا ڈی آئی جی کا سلام دعا والا نہیں، سی ایم ہاؤس سے کوئی فون کرنے والا نہیں، اس لیے ہماری ترقی نہیں ہو سکتی‘‘
’’یہ تو بڑی زیادتی ہے‘‘ سیلانی نے تاسف بھرے لہجے میں ہمدردی کا اظہار کیا.
’’ابھی تو آپ نے کچھ سنا ہی نہیں، ہم وہ سوتیلی فورس ہیں، اگر مقابلے میں گولی لگ لگا جائے تو ہمارے لیے لال دوائی والے سول اور جناح جیسے سرکاری اسپتال ہی رہ جاتے ہیں، مر جائیں تو ہمارا کوئی قبرستان تک نہیں، ہمارے لیے کوئی رہائشی اسکیم نہیں، ہمارے بچوں کے لیے ہمارے ادارے کا کوئی اسکول نہیں، رینجرز، اے ایس ایف، کوسٹ گارڈ، سب کے اپنے اپنے اسکول ہیں، انہیں علاج معالجے کی بھی مناسب سہولیات مل جاتی ہیں، ایک ہم ہی ہیں جو عوام کی بددعائیں، میڈیا کی گالیاں اور افسران کی جھڑکیاں کھانے کے لیے رہ گئے ہیں۔۔۔‘‘
’’گارڈن ہیڈکوارٹر کراچی میں پولیس اسپتال ہے تو سہی‘‘
’’بالکل ہے، آپ جا کر معلوم تو کرو کہ وہاں آخری آپریشن کب ہوا ہے؟ کاغذوں میں ساری سہولتیں ہیں، حقیقت میں کچھ نہیں‘‘
’’اوہ۔۔۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   ویلڈن پشاور پولیس - ملک محمد سلمان

دونوں دل جلے سب انسپکٹر اپنے دل کے پھپھولے پھاڑنے لگے، سیلانی ان کی سنتا رہا اور سوچنے لگا کہ یہ وہ فورس ہے جس نے دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔ اس نے خودکش بمباروں کو کسی مزار، اسپتال، بازار میں پہنچنے سے پہلے روکنا ہے، اور اسی نے جرائم کی شرح نیچے گرانی ہے، لیکن یہ سب اس گرے ہوئے مورال کے ساتھ کیسے ممکن ہے؟ پولیس اصلاحات، پولیس اصلاحات، پولیس اصلاحات کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بتائیں کہ کہاں ہیں وہ اصلاحات؟ بات شروع کریں پولیس ٹریننگ کی تو ٹریننگ سینٹروں میں وہی برسوں نہیں دہائیوں پرانا نظام رائج ہے، فزیکل فٹنس کا کوئی معیار نہیں، کوئی جانچ بھی نہیں، تفتیش کا وہی گھسا پٹا انداز اور وسائل یہ کہ بیس ہزار میں قاتل اور پانچ ہزار میں اغواء کار پکڑ کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ قائم کرو۔ تنخواہ اتنی کم کہ پولیس اہلکار کی زندگی ’’مجاہدہ‘‘ کرتے گزرے، پھر ہم توقع کریں کہ یہ نیشنل ایکشن پلان میں اپنا کردار ادا کریں گے! جان پر کھیل کر ہماری جان بچائیں گے!

ارباب اختیار کبھی سوچنے کی زحمت تو کریں کہ اسی راشی کرپٹ بدعنوان محکمے سے موٹر وے پولیس میں ڈیپوٹیشن پر جانے والے اہلکاروں کو راتوں رات کیا ہو جاتا ہے؟ ان کی پھیلی ہتھیلی کہاں چلی جاتی ہے؟ وہ ایک دم فرض شناس اور دیانتدار کیسے ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ انہیں وہاں سال کی چھ وردیاں ملتی ہیں، تین تین ماہ بعد چودہ روز کی چھٹیاں ملتی ہیں، ڈیوٹی کے اوقات کار طے ہوتے ہیں،گاڑیوں کے ڈیزل پٹرول کے لیے کہیں ’’پیدا‘‘نہیں کرنی پڑتی، افسران کی ’’فٹیگیں‘‘بھی نہیں ہوتیں، تنخواہ ڈبل ہوجاتی ہے، سالانہ انکریمنٹ الگ ملتا ہے، پھر کوئی نگاہ رکھنے والا بھی ہوتا ہے، اسی لیے تو موٹر وے پر کوئی ایم این اے ہو یا کوئی وزیر مشیر، غلطی کرتا ہے تو چالان لے کر ہی جاتا ہے، کوئی دباؤ کوئی سفارش کام نہیں دکھاتی، آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ سوچنے والے کیوں نہیں سوچتے کہ ہمیں پولیس کو از سر نو خدوخال دینے ہوں گے، بھرتی سے لے کر تربیت اور تربیت سے لے کر فرائض کی ادائیگی تک، انہیں بہترین وسائل بھی دینے ہوں گے، عزت وقار دینا ہوگا، انہیں صرف’’پولیس والا‘‘ نہیں، انسان بھی سمجھنا ہوگا، تب ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اب ہم محفوظ ہیں۔ حکمران کیوں بھول جاتے ہیں کہ رینجرز اور فوج کا کام دہشت گردوں، مجرموں سے نمٹنا نہیں ہے، فوج اس بڑے سرجن کی طرح ہے جو چند روز کے لیے کسی اسپتال کے آپریشن تھیٹر میں ہے، اس نے کل نہیں تو پرسوں یہاں سے چلے جانا ہے، بعد میں اسپتال کے مقامی سرجنوں نے ہی آپریشن کرنے اور ناسور علیحدہ کرنے ہیں۔ سیلانی چائے کا کپ ہاتھ میں لیے دوہزار میں قاتل پکڑنے والے سب انسپکٹر کو جلتا کڑھتا دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں