کتاب خرید کر مصنف سے تعاون کریں - حافظ محمد زبیر

آج مجھے ایک ایسی عادت کو ڈسکس کرنا ہے جو بہت سے علم دوست کہلانے والے ساتھیوں میں پائی جاتی ہے اور وہ میری نظر میں اچھی عادت نہیں ہے۔ اکثر طلبۃ العلم بلکہ علماء کا بھی رویہ یہ بن چکا ہے کہ انہیں کوئی کتاب خریدنی نہ پڑے اور ہر مصنف انہیں اپنی کتاب ہدیہ اور گفٹ کرے جبکہ ایسا ممکن نہیں ہے۔

میں پہلے بھی ایک پوسٹ میں عرض کر چکا ہوں کہ اس وقت اردو بازار کے پبلشرز کی صورت حال یہ ہے کہ کوئی آپ کی کتاب پبلش کرنے کو تیار نہیں ہے، چاہے آپ کتنے اچھے ہی لکھاری کیوں نہ ہوں، اور تو اور عطاء الحق قاسمی صاحب نے اپنے ایک کالم میں شکایت کی ہے کہ اب تو وہ دور ہے کہ ہماری کتابیں چھاپنے کے لیے بھی پبلشر پیسے مانگتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں؛ ایک وجہ تو یہ ہے کہ پہلے مصنفین کی تعداد کم تھی لہذا پبلشرز کو چھاپنے کے لیے کچھ چاہیے تھا اور اب لکھنے والے اتنے ہو گئے ہیں، ما شاء اللہ سے، اور دوسرا یہ کہ پبلشرز نے بھی اتنی کتابیں چھاپ لی ہیں کہ اب ان کے پاس مزید پر انویسٹمنٹ کی گنجائش نہیں ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پبلشرز عموما اس کی کتاب چھاپتے ہیں کہ جس کا بڑا نام ہو اور دوسرا وہ کتاب ایسی ہو کہ بازار میں نکلنے والی ہو یعنی عوامی موضوع ہو لہذا تحقیقی اور تخلیقی نوعیت کے کام کو کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ ایسے میں مصنف کو اپنا شہ پارہ، ظاہری بات ہے دوسروں کے نزدیک وہ ردی ہو گا لیکن اس بے چارے کے نزدیک تو وہ شہ پارہ اور ماسٹر پیس ہی ہو گا، پبلش کروانا ہے اور عوام کے سامنے لانا ہے تو اسے انویسٹمنٹ بھی خود ہی سے کرنی ہو گی۔ اور ایک طرف وہ بے چارہ تحقیق اور تخلیق کرے اور پھر اس کو پیسے لگا کر پبلش کروائے اور اب مفت میں تقسیم بھی کرے تو یہ اس کے ساتھ بہت ظلم ہے اور علم کی ناقدری بھی۔

نوجوان اور نئے لکھاریوں کی تصانیف اور تالیفات کی پبلشنگ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حوصلہ افزائی نہیں ہو پاتی لہذا آپ کو تحقیق اور تالیف کے نام پر کچھ نئی چیز دیکھنے کو بھی نہیں ملتی۔ اب کچھ عرصے سے اردو بازار میں تحقیق وتصنیف کا غالب رجحان یہی بن چکا ہے کہ گناہ کبیرہ پر کتاب نکال دیں، اس کے بعد عنوان تبدیل کریں اور محرمات اور حرام امور کے نام سے کتاب چھاپ دیں، پھر کبھی جنتی مرد چھاپ دیں اور کبھی جہنمی عورت، کبھی دس تراجم قرآن کو سامنے رکھ کر ایک نیا ترجمہ قرآن چھاپ دیں۔ کبھی حدیث کی کتاب کی ایک تخریج اور تحقیق چھاپ دیں، کبھی دوسری۔ بس ایک ہی موضوع کو عنوان اور ٹائیٹل پیج بدل بدل کر رگڑا لگاتے رہیں۔ بس یہی تحقیق اور تخلیق ہے جو بد قسمتی سے علم وتحقیق کے نام سے باقی رہ گئی ہے۔

ایسے میں اگر کوئی مصنف اس تقلیدی تحقیقی رجحان سے ہٹ کر کچھ پیش کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے محنت کر کے کوئی چیز سامنے لاتا ہے تو اب عوام کے اوپر ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی اس طرح کریں کہ اس کی کتاب خرید کر پڑھیں۔ میرے خیال میں یہاں فیس بک پر کچھ نام ایسے ہیں کہ جنہیں پبلش ہونا چاہیے مثلا عظیم الرحمن عثمانی، زاہد صدیق مغل، حسیب احمد خان، رعایت اللہ فاروقی وغیرہ لیکن ان کے پاس نہ تو کوئی ادارہ ہے اور نہ کوئی جماعت کہ جو اپنے فنڈز سے ان کو شائع کرے۔

اور اگر ان میں سے کوئِی ہمت کر کے اپنے ذاتی خرچہ پر کوئی تصنیف سامنے لاتا بھی ہے تو آپ اس کو خریدنے کے بجائے مفت حاصل کرنے کے خواہشمند ہوں گے تو آپ انہیں یہ میسج پہنچائیں گے کہ بھئی، یہ کتاب کو شائع کر لی، اسے تومفت تقسیم کر دو، اب اگلی کی غلطی نہ کرنا۔ ایک کتاب کی قیمت اگر دو سو ہے، یعنی آپ کو دو سو میں پڑتی تو مصنف کو وہ دو لاکھ میں پڑتی ہے، آپ کتاب نہیں خریدں گے تو وہ دو لاکھ کا مقروض ہو جائے گا۔

اور ویسے بھی ایک مصنف کی کتاب جب شائع ہوتی ہے تو وہ پچاس ساٹھ نسخے یا ستر اسی نسخے ضرور مفت میں لوگوں کو دیتا ہے، اور اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جنہیں فری میں نسخہ ملا ہے تو مصنف کا اچھے سے شکریہ تو ادا کر دیں، میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ستر اسی فیصد علماء اور پروفیسر جن کو آپ فری میں کتاب بھجوائیں، شکریہ تو دور کی بات اتنی اطلاع بھی نہیں دیتے کہ کتاب موصول ہو چکی ہے جبکہ ان کے پاس آپ کا موبائل، ای میل اور پوسٹل ایڈریس سب پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اس معاملے میں ہمیں اپنے رویوں کو ریوائز کرنے کی ضرورت ہے۔ واللہ اعلم بالصواب