سوشل میڈیا اور توہین رسالت - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

1. نائن الیون کے بعد توہین انبیاء کرام علیہم السلام میں شدت آئی ہے۔ سوشل میڈیا پر توہین رسالت کے سلسلہ کو روکنے کے لیے درج ذیل اقدامات کرنا ضروری ہیں :
1۔ توہین آمیز پیجز یا پوسٹس کو ”ناپسند“ کرنے سے گریز کریں ۔
2۔ توہین آمیز پیجز یا پوسٹس پر ”کمنٹ“ کرنے یا ”جواب“ دینے سے گریز کریں ۔
3۔ توہین آمیز پیجز یا پوسٹس کو ہرگز شئیر نہ کریں ۔
4۔ توہین آمیز پیجز یا پوسٹس کو کسی کو ان باکس میں بھی ارسال نہ کریں ۔
5۔ مشائخ و علماء تمام مکاتب فکر سے ایک نمائندہ جماعت کی صورت میں اپنے اداروں اور ملک کے سربراہان سے ملاقات کریں اور ان کو اس بات پر قائل کریں کہ توہین رسالت کو فساد شمار کیا جائے اور ان گستاخون کے خلاف بھی آپریشن کو رد الفساد کا اولین حصہ بنایا جائے۔
6. اگر یہ پیجز بیرون ملک سے چلائے جاتے ہیں تو حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ان ممالک سے رابطہ کرے اور فیس بک کے مالکان سے بھی اس سلسلہ کو روکنے کے لیے کہا جائے۔ اگر فیس بک کے مالکان اس پر رضا مندی ظاہر نہ کریں تو پاکستان میں فیس بک کو بند کر دیا جائے ۔

Comments

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی شعبہ علوم اسلامیہ، جامعہ کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز پر اسلام کے مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ علوم دینیہ کے علاوہ تقابل ادیان، نظریہ پاکستان اور حالات حاضرہ دلچسپی کے موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */