اے شوہر نامدار، ایک قدم پیچھے تو ہٹیں - زبیر منصوری

خواتین کا عالمی دن کل ہی تو تھا

اور میں کل ہی سے سوچ رہا ہوں کہ اپنی عزیز بہنوں کی طرف سے ان کے شوہروں، اپنے بھائیوں سے درخواست کروں کہ ان کے معاملے میں نرمی کریں، انہیں قائل کرنے کے بجائے مائل کر کے اپنی بات سمجھانے کی کوشش کریں۔ اپنے بھائیوں سے درخواست کروں کہ اللہ نے آپ کو بڑا بنایا ہے اور بڑے کا سینہ بھی بڑا اور کشادہ ہونا چاہیے، پلیز! ہماری بہنوں کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کے لیے اس بڑے اور کشادہ سینے میں ایک قبرستان بنا لیں، جس میں ان خامیوں کو دفن کر دیا کریں.

میں ان بھائیوں سے عرض کروں کہ دیکھیں ہم آپ تو آٹھ گھنٹے کے ملازم ہیں، اتوار کو چھٹی بھی کرتے ہیں مگر یہ تو چوبیس گھنٹے، ہفتہ کے سات دن، سال کے تین سو پینسٹھ دن، کی ”ملازمائیں“ ہیں راتوں کو جاگی ہیں دن میں کام کرتی ہیں سب کے دکھوں دباو کو سہتی ہیں ،گھروں میں ساسوں کے ہاتھوں جبر کا شکار رہتی ہیں، ایسے میں ان کے حصہ کا ”آدم“ بھی اگر اس ”حوا“ کی بات، گاہے بےمعنی، گاہے بےکار، گاہے بےموقع بات ہی نہیں سنے گا تو وہ کہاں جائیں گی، کسے سنائیں گی؟ اور اگر حالات کے جبر پر وہ کسی ”اور“ کو سنانے لگ گئیں تو پھر کیا بنے گا؟ (اللہ نہ کرے)

میں اپنے بھائیوں سے دست بستہ گزارش کروں کہ کہیں یہ نازک آبگینے شوہروں کے خوف سے سہمے تو نہیں رہتے؟ کہیں آپ کا گھر میں آنا ہٹلر کا آنا تو نہیں ہوتا؟ کہیں آپ ان کمزوروں کو فتح کر کے خود کو فاتح سمجھنے اور نفسیاتی تسکین حاصل کرنے تو نہیں لگ گئے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کے لیے اپنی ذات بس ترجیح اول ہے اور بس؟

میں عرض کروں کہ بھلا اگر امہات المؤمنین کے کسی عمل سے میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بوجھل ہو سکتی ہے تو یہ بےچاریاں تو پھر عام انسان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ اپنے بچوں پر چیختے ہیں - جویریہ سعید

دیکھیے!یقیننا آپ کی طبیعت پر ان کا کوئی عمل گراں گزرتا ہوگا مگر اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ آپ کا کوئی عمل کوئی رویہ، کوئی بات، کوئی اشارہ ان کا دل بھی تو توڑ سکتا ہے نا؟ آپ کی کوئی بات بھی تو برسوں کا مان توڑ سکتی اور دل کو چھلنی کرنے والی ہو سکتی ہے ناں؟ یا
یہ نہیں ہو سکتا؟
یہ نہیں ہوتا؟
تو پھر؟
یہ بہتر نہیں کہ ایک دوسرے کوکچھ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ رعایتیں دے دی جائیں، جب ایک غصہ میں ہو تو دوسرا اسے راستہ دے دے۔
دیکھیں یہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں،
یہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی کنیزیں،
یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پیاریاں ہیں،
یہ کہیں ماں کے روپ میں،
کہیں پیاری بیٹی کی صورت میں،
کہیں بیوی بہن اور دوسرے رشتوں کی شکل میں
بس نرمی، عزت، محبت، تھوڑی سی توجہ اور ذرا کی رعایت ہی تو مانگتی ہیں، آپ یہ انہیں دے دیں، ان کےدماغ نہیں دل کو اپیل کریں، انہیں دبائیں اور کچلیں نہیں، ان کو مشورے میں شریک کریں، ان پر بھروسہ رکھیں، یقین کریں کہ یہ آپ کی زندگی کو سکووون، محبت، حفاظت، عافیت اور عزت سے بھر دیں گی.
ایک بار کر کے دیکھیں!
ایک قدم پیچھے تو ہٹیں!
ایک بار آزمائیں تو!

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.