مشرق کا محاسبہ مغرب سے درگزر، آخر کیوں؟ مولانا محمد جہان یعقوب

ملک بھرمیں خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا گیا۔ افسوس ناک امر ہے کہ اس دن کی مناسبت سے ہونے والے تمام پروگرامز،ٹاک شوز اور سیمینارز میں حسب سابق خواتین کے حقوق کی آڑ میں اسلام پر تنقید اوریہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ خواتین کو حقوق تو مغرب نے دیے ہیں، اسلام نے عورت کو کیا دیا ہے؟

”مشرق سے محاسبہ اور مغرب سے درگزر“ کے اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل ہوناچاہیے۔ محترمہ فرزانہ باری ہوں یا عاصمہ جہانگیر، ماروی سرمد ہوں یا مہ ناز رحمن، آپ شوق سے خواتین کے حقوق کی جدو جہد کیجیے، مگر اس کی آڑ میں ہر ناکردہ جرم کا الزام اسلام اور اہل اسلام کو تو نہ دیجیے۔ خواتین حقوق کی جدوجہد میں مسلم معاشرہ آپ کے لیے سد راہ نہیں دست و بازو بنے گا، شرط یہ ہے کہ زن کو نا زن بنا کر اس کی نسوانیت چھیننے اور اسے شرم وحیا کے زیور سے محروم کرنے کی کوشش نہ کیجیے!

وطن عزیزکی ماں، بہن، بیٹی کوسمجھ لیناچاہیے کہ اسے حقوق مغرب و یورپ کی اندھی تقلید سے نہیں ،بلکہ اسلام کے عادلانہ نظام ہی سے ملیں گے۔ آج آپ کو جو مقام ملا ہوا ہے، وہ اسلام ہی کی دین ہے، ورنہ پہلے عورت کے بارے میں جو نظریات تھے وہ اس سے کہیں مختلف تھے، ملاحظہ فرمائیے!

چھٹی صدی میں رومیوں کا نظریہ تھا کہ عورت شرانگیز روح ہے۔ اسپین کے لوگ کہا کرتے تھے: بری عورت سے بچو اور اچھی عورت کی طرف مائل نہ ہوا کرو۔ تحریف شدہ تورات میں اب بھی ایسے جملے ملتے ہیں: عورت موت سے بھی زیادہ تلخ ہے۔ عوت سے بچنے والا ہی اللہ کی نظر میں برگزیدہ ہے۔ جرمن معاشرے میں عورت کے حصول علم پر پابندی تھی۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا، اس دور میں بیٹی کی پیدائش کو عار سمجھا اور نومولود بچی کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، غرض اس معاشرے میں عورت کی عزت و تکریم کا کوئی تصور بھی نہیں پایا جاتا تھا۔ اسلام واحد مذہب ہے جس میں عورت، جس کو پاؤں کی جوتی جتنی حیثیت بھی حاصل نہ تھی، کو عزت و احترام کی معراج پر فائزکر کے بلندی رتبہ کے اوج ثریا کا ہم نشیں بنایاگیا۔ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے پہلی مرتبہ عورت کو اپنی ذاتی ملکیت، اپنی شادی کا فیصلہ اپنی آزادانہ مرضی سے کرنے کا حق، اپنی ذاتی جائیداد رکھنے اور کاروبار کرنے کا حق، وراثت کا حق اور اپنے دائرے میں رہتے ہوئے، مردوں کے شانہ بشانہ، زندگی کے نشیب وفراز میں اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اگر آج معاشرے میں کہیں عورت کو اس کاشرعی حق نہیں مل رہا ہے، تو قصور اسلام کا نہیں۔

غیر جانب دارای سے تجزیہ کیجیے، آپ کو معلوم ہوگا کہ خواتین کے حقوق سب سے زیادہ مغرب اور یورپ میں پامال ہو رہے ہیں۔ حقوق نسواں کے دعویدار ہی ان کا استحصال کر رہے ہیں۔ مغربی معاشرے نے اپنی بے لگام شہوت کی تسکین کی خاطر عورت کو گھر کی محفوظ چاردیواری سے آزادی کے نام پر باہر نکالا۔ وہ جو گھر میں شرافت کا مجسمہ بن کر احترام و توقیر کی علامت تھی، اس سے اس کی نسوانیت جیسی متاع بے بہا چھین کر ہوسناک شہوانی نگاہوں کا شکار بنا دیا، اسے عزت و شرافت اور عفت و حیا کے ساتھ والدین، اولاد، بھائی بہن اور شوہر کی خدمت سے باغی بنا کر اجنبی مردوں کی خدمت پر مامور کردیا۔ ہسپتالوں میں نرس اور تیماردار کے نام سے بھرتی کرکے مریضوں سے زیادہ ڈاکٹروں کے نخرے برداشت کرنے اور ان کی آؤ بھگت کرنے کی ذمہ داری اس پر ڈال دی۔ ائیر ہوسٹس کی حیثیت سے اجنبی مسافروں کے سامنے جسم کی نمائش پر مجبور کردیا۔ آج حقوق نسواں اور مساوات کی آڑ میں مغربی عورت کی شرم و حیا اور عفت و عصمت سربازار نیلام ہو رہی ہ ۔ انجام کارمغرب میں خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے، ناجائزبچوں اور کنواری ماں کی تعداد آئے روز بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے خودکشیاں اور طلاقیں بڑھ رہی ہیں۔

اس کے بالمقابل الحمدللہ! تمام ترانحطاط و تنزل کے باوجود اب بھی ہمارے گھر اسلام کے مورچے ہیں اور ہمارا دشمن اسلام کے ان مورچوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ ہم توڈوبے ہیں صنم، تم کوبھی لے ڈوبیں گے، کے مصداق مغرب و یورپ کے وظیفہ خور چاہتے ہیں کہ مشرقی معاشرے کا بھی وہی حال ہو اور ہمارامعاشرہ اور خاندانی نظام بھی اسی طرح کی شکست و ریخت کا شکار ہو۔ اس نوع کی کوششیں آج سے نہیں، روز اول سے ہو رہی ہیں، مگر اب یہ برگ و باراس لیے لارہی ہیں کہ ہم نے خواتین اسلام کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں کی۔ ہم نے انہیں اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانے میں تغافل برتا، جس سے دشمنان اسلام نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ عورت انسانی معاشرہ کے نصف سے زیادہ حصہ پر محیط ہے بلکہ مستقبل میں ایسے دور کی نشاندہی تعلیمات نبوی علیٰ صاحبہاالصلوۃ والسلام میں موجود ہے جب مرد و عورت کی تعداد ایک اور چالیس کی نسبت سے ہوگی، پھر عورت کو اپنی جنس مخالف پر اثر انداز ہونے اور اپنی بات منوانے کی فطرت نے جو صلاحیت دی ہے، اسلام دشمن عناصر نے اس راز کو سمجھ کر نسوانی قوت کا بہت ظالمانہ استعمال کیا ہے۔ خواتین کو اسلام کے بالمقابل لا کھڑا کردیا گیا ہے ۔

مانا کہ وطن عزیز میں عورت کو اس کے حقوق حاصل نہیں، لیکن اس کی راہ میں رکاوٹ اسلام اور علمائے کرام نہیں، وہ لوگ ہیں جو سماجی جکڑ بندیوں کی وجہ سے عورت سے تعلیم کا حق چھین رہے ہیں، عورت کو ملازمت اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے اسلام نے نہیں روکا بلکہ اس کی راہ میں وہ جاگیردار طبقہ حائل ہے جو عورت کو محض جنسی تسکین کا ذریعہ یا دوسرے درجے کے شہری سے زیادہ کوئی مقام دینے کے لیے تیار نہیں، عورت پر تشدد اسلام کی تعلیم نہیں، اسلام نے اس کی حوصلہ شکنی کی ہے، عورت کو ونی کرنے یا غیرت کے نام پر قتل کرنے والوں کی چھان بین کرلیجیے، آپ کو ان میں بھی کوئی اسلام پر عمل کرنے والا نظر نہیں آئے گا۔ اسلام تو عورت کے احترام کا درس دیتا ہے چاہے وہ مشرک کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو۔ اسلام حالت جنگ میں بھی عورت کے قتل سے روکتا ہے۔ اسلام غیر مسلم عورت کو قید میں بھی وہ تقدس فراہم کرتا ہے جس سے متاثر ہوجر ایوان ریڈلے جیسی تعلیم یافتہ خواتین بھی اسلام قبول کرنے پر بہ رضا ورغبت راضی ہو جاتی ہیں۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.