ڈاکٹر، دانشور اور چائے والا - عزیر سرویا

چند ماہ قبل میں ایک ہندو گُرو کا انٹرویو سن رہا تھا جس میں اس نے ایک بڑی پتے کی بات مذاق مذاق میں کہہ دی تھی:
”ہمارے یہاں آپ کسی چائے کی دکان پر جا کر بیٹھ جائیں تو وہاں چائے بنانے والے کی گفتگو آپ کو حیران کر دے گی۔ وہ آپ کو بتائے گا کہ وزیراعظم اور اس کی خارجہ ٹیم کیسی نا اہل ہے۔ خارجہ پالیسی سے لے کر بین الاقوامی تعلقات تک کیا کیا اور کیسے کیسے کرنا چاہیے، اس سب پر وہ اپنی 'ایکسپرٹ' رائے دیتا ہے۔ پھر وہ بتانے لگتا ہے کہ فلاں میچ میں ویراٹ کوہلی کو ایسے آؤٹ نہیں ہونا چاہیے تھا، اور اسے کور ڈرائیو کے بجائے بال اسویپ کرنی چاہیے تھی۔ الغرض آپ اس چائے والے کی دکان سے چائے پینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اس کو دنیا کا ہر کام آتا ہے… سوائے چائے بنانے کے“۔

جب میں فیس بک پر بعض جہاندیدہ ’بزرگوں‘ کو یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ پاکستان میں ساری نہیں تو زیادہ تر ادویات جعلی ہوتی ہیں، اور ان سے ہیپاٹائٹس اور دمہ جیسی بیماریاں مریضوں کو ’لگ‘ جاتی ہیں، اور پھر ایسی پوسٹس پر ’ٹھوکے‘ گئے ہزاروں ’لائیکس‘ کو دیکھتا ہوں تو مجھے چائے والے کی ایکسپرٹ رائے کا خیال آتا ہے۔ اور جب میں اوریا مقبول جان صاحب سے منسوب فیس بُک صفحے پر لگائی گئی ایک پوسٹ، جس میں ’لیموں ادرک اور شہد‘ کا محلول تیار کر کے ’دل کی بند شریانیں کھولنے‘ کا تذکرہ تھا، اور کہا گیا تھا کہ بائی پاس صرف ڈاکٹروں کا عوام کو لوٹنے کا ایک ذریعہ ہے، پڑھ کر یہ دیکھتا ہوں کہ اس کو چار لاکھ لوگ (جی ہاں، چار لاکھ، پڑھے لکھے افراد!) اپنی فیس بک پر ’شیئر‘ کر کے صدقہ جاریہ اور ڈھیر سارے ثواب کے مستحق بن چکے ہیں، تو میں سوچتا ہوں کہ چائے والوں کو چائے بنانا نہیں آتی تو کیا ہوا، باقی سب کام تو وہ جانتے ہیں!

جب ایمرجنسی ڈیوٹی کے دوران ریسیپشن پر بیٹھے ہوئے ینگ ڈاکٹر (وہی ینگ ڈاکٹر جنہیں قصائی، قاتل وغیرہ کے القاب سے نوازا جاتا ہے) دہلیز ناپتے ہوئے کسی ایسے بزرگ کو دیکھتے ہیں، جنھیں اکثر ان کے جوان بچے اپنے کاندھوں پر لاد کر لا رہے ہوتے ہیں، تو اپنے ملک کے ”چائے والوں/ قلم والوں“ کی شعبہ طب پر کی گئی ’علمی مہربانیوں‘ کے سبب ان ینگ ڈاکٹرز کے ذہن میں پہلے ہی سے چند ممکنہ ڈائیگنوسیز گردش کر رہے ہوتے ہیں۔ ”غالباً یہ بابا جی اس پیج کے لیموں اور ادرک والے محلول کے ڈسے ہوئے ہیں، اور اب بڑے ہارٹ اٹیک نے انہیں ’لمّا پا دیا‘ ہے۔ شاید ان کو کسی ”دانشور حکیم“ نے گردے یا پِتّے کی پتھری ’تحلیل‘ کرنے کے لیے کوئی کُشتہ شریف رعایتی نرخوں پر عنایت کیا ہوگا جس سے ان کے گردے فیل ہو گئے ہیں۔ شاید انہوں نے اپنے پھیپھڑوں کا علاج خورشید ہومیو پیتھک سے کرا کرا کے ان کی مزید آتما رلوا لی ہے۔ شاید انہوں نے فالج کے بعد اپنے پیر صاحب سے دم پر اکتفا کیا اور اب جسم کی دوسری سائیڈ بھی مفلوج ہوگئی ہے۔

مذکورہ بالا ٹوٹکوں کو آزما چکنے کے بعد جب بابا جی قریب المرگ ہو چکے ہوتے ہیں تو پھر سب حکیم، ہومیو اور پیر فقیر بھول جاتے ہیں۔ پھر اسی کے پاس آنا پڑتا ہے جس کے لیے زبان و قلم سے قصائی، قاتل، ظالم، لالچی، غنڈا جیسے خوبصورت الفاظ ادا کیے ہوتے ہیں۔ پھر بابا جی کے جوان بچے آ کر دامن پکڑ پکڑ کر پوچھتے ہیں کہ ”ڈاکٹر صاحب، ہمارے ابا جی ٹھیک تو ہو جائیں گے ناں؟“۔ ہمارا دل بھی بابا جی کی حالتِ زار دیکھ کر دکھ رہا ہوتا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ اندر سے کہیں یہ آواز بھی آتی ہے کہ ”بھائی اپنی فریج سے لیموں ادرک شہد والا محلول ہی پکڑ لاتے، ہم اس کو ڈرپ میں ڈال کر آپ کے ابا جی کی وہ شریانیں کھول لیتے جو اس محلول کو پیتے رہنے سے نہ کھل سکیں اور ہارٹ اٹیک ہو گیا“۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کے یہ قلم والے، لکھنا جن کی روزی روٹی اور پروفیشن ہے، وہ اپنے اصل کام کے علاوہ باقی سب کام جانتے ہیں! قلم اٹھانے سے پہلے اگر ذرا سی تحقیق اپنے موضوع پر کر لی جائے تو جہالت کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ لکھنے سے پہلے تحقیق کرنا ان لکھنے والوں کی کوئی خوبی نہیں بلکہ عین ذمہ داری ہے جسے یہ بھول چکے ہیں اور پیشے سے بددیانتی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ چار لاکھ لوگوں نے ادرک لہسن سے شریانیں کھلنے والی پوسٹ کو شیئر کیا، اور یہ چار لاکھ ”جہلاء“ کا ٹولہ نہ جانے کتنے لاکھ لوگوں تک مزید جہالت کو پھیلا گیا۔ اس پوسٹ کے بنانے والے نے اگر پانچ منٹ کسی دل کے ڈاکٹر سے بات سمجھ لی ہوتی یا خود انٹرنیٹ پر تحقیق کر لی ہوتی تو نہ جانے کتنے لوگ گمراہ ہونے سے بچ جاتے اور بروقت ٹریٹمنٹ لے کر مستقبل میں ہارٹ اٹیک ہونے سے بچ جاتے۔ایسے دانشوروں نے اگر ہیپاٹائیٹس یا دمے سے متعلق کوئی ایک آدھ پمفلیٹ ہی پڑھ لیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ بیماریاں کیسے لگتی ہیں اور میڈیسن کا اس میں کیا عمل دخل ہوتا ہے اگر ایک دن تکلیف کر کے ایمرجنسی میں صرف ایک گھنٹہ ریسیپشن پر بیٹھے ڈاکٹر کے ساتھ کرسی ڈال لیں اور یہ ملاحظہ کریں کہ یہ کس طرح ایک وقت میں چھے مریض اور بیسیوں اٹینڈنڈنٹس (جو ایسی تحریریں پڑھ کر گھر سے ہی ڈاکٹر کو قصائی مان کر چلے ہوتے ہیں) کے ساتھ سر کھپا رہا ہوتا ہے اور بدتمیزیاں برداشت کر رہا ہوتا ہے تو ان کو شاید اپنی تحریر پر ملال ہونے لگے۔ کسی کو یہ بتانا کہ وہ اپنا کام کیسے کرے بہت آسان ہے، جبکہ خود اپنے کام کو اس معیار کے مطابق کرنا بہت مشکل ہے۔