خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم دن - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

خارجہ پالیسی میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ دن نہایت اہم ہیں ۔

افغانستان میں ”داعش“ کی کاروائیوں میں بڑھتے تسلسل اور شدت نے اس خدشہ کو حقیقت کا رنگ دینا شروع کر دیا ہے کہ شام کا معاملہ افغانستان میں دہرایا جا سکتا ہے۔ آسان لفظوں میں، افغانستان ایک بار پھر میدان جنگ بن سکتا ہے۔

اس وقت خطہ کے ممالک بشمول چین، پاکستان، روس اور ایران داعش کو اپنے خلاف ایک حقیقی خطرہ سمجھ رہے ہیں اور اس بات نے انہیں اس کے خلاف مشترک حکمت عملی پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ادھر بھارت نے بھی حالات کا رخ دیکھ لیا ہے اور اس نے بھی اپنے ہاں داعش کی موجودگی اور کسی حد تک فعال ہونے کی بات کرنا شروع کر دی ہے۔

پاکستان کا یہ خیال ہے کہ امریکہ اور اس کا مضبوط علاقائی تزویراتی حلیف بھارت داعش کے مسئلہ کی آڑ میں افغانستان میں موجودگی کو زیادہ ”بامعنی“ اور مؤثر بنانے کے لیے استعمال کرے گا۔ بھارت کی موجودگی پاکستان کی مشکلات کو اور پیچیدہ کر سکتی ہیں۔

افغانستان کے مخصوص علاقائی اور مذہبی حالات کی وجہ سے امریکہ یہ خواہش رکھے گا کہ ایران اس کے افغانستان میں ازسر نو ”بلڈ اپ“ کی مخالفت نہ کرے۔ اس کے لیے وہ بھارت کی مدد چاہے گا کہ وہ ایران کو اپنے کیمپ میں رکھے۔

ادھر پاکستان کی خواہش یہ ہوگی کہ امریکہ آئے تو آئے لیکن بھارت اب کہ کسی افغان مہم جوئی کا حصہ نہ بنے۔ اس لیے پاکستان یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف نہیں بلکہ اس کی افغانستان میں موجودگی داعش کے حوالے سے مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اسے اس کے لیے بھارت کے بجائے پاکستان، چین اور روس سے تعاون کی امید رکھنا چاہیے۔ پاکستان کی اس پالیسی کے نتیجے میں امریکہ کے انکار یا پہلوتہی کی صورت پاکستان کو امریکہ مخالف قرار نہیں دیا جاسکے گا اور چین اور روس کے ساتھ اس کا بیک اپ اتحاد ایک فطری آپشن بن کر ابھرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   باتوں سے آگے، عمل درآمد کا وقت! شیخ خالد زاہد

نیز یہ کہ پاکستان افغانستان اور خود اپنے حالات کی وجہ سے یہ خواہش رکھتا ہے کہ ایران اس کے کیمپ میں شامل ہو جائے تاکہ اگر حالات بگڑیں بھی تو داعش اور اس کے پیدا کردہ ارتعاش کا اثر محدود تر کیا جا سکے۔

اسلام آباد میں منعقد ہوئی ای سی او سربراہ کانفرنس نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ افغانستان کے شمالی ہمسایہ ممالک اور جنوب میں ایران پاکستان کے ساتھ مل کر علاقائی معاملات میں پیشرفت کرنے پر آمادہ ہیں۔ گویا کم از کم علاقہ کی سطح پر پاکستان نہ تو تنہا ہے اور نہ ہی ناپسندیدہ، جیسا کہ بھارت اپنے تئیں تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے۔ سارک سربراہ کانفرنس کے اسلام آباد اجلاس کی تنسیخ کو بھارت نے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا۔

دوسری جانب ایران کے ساتھ قربت، گلف تعاون کونسل کے ممالک میں بے چینی کا باعث بن سکتی ہے۔ اس صورتحال کے سدباب کے لیے پاکستان ان سب ممالک کے ساتھ مختلف، لیکن اعلی ترین سطح پر یقین دہانیوں اور تجدید تعلقات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کے حوالہ سے حالیہ دنوں میں کیےگئے دورے بہت اہم ہیں۔ یہاں بھی مسئلہ یہی ہے کہ اس بات کا خاص اہتمام کیا جا رہا ہے کہ ناراضی یا کسی بیرونی دباؤ کے نتیجہ میں یہ ممالک بھارت کے ساتھ تعلقات غیر معمولی حد تک نہ بڑھا لیں یا بھارت کے ساتھ دفاعی معمالات میں تعاون کو پاکستان پر فوقیت دینا شروع کر دیں۔ گو آخر الذکر بات کا امکان بہت کم ہے کیونکہ یہ ممالک پاکستانی فوج کو اپنا اصل محافظ خیال کرتے ہیں۔ تاہم خدشہ کو حقیقت بننے سے روکنا اپنی جگہ اہم ہے۔

یہ بھی کوشش ہوگی کہ جی سی سی اور ایران کے مابین برف پگھلانے کا کچھ بندوبست بھی کیا جائے۔ بظاہر ایران اور عرب ممالک دونوں ہی اس بارے میں منفی رویہ کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت بھی معاشی بحران کی زد میں - پروفیسر جمیل چودھری

ایک نئی صف بندی ہے۔ یہ داعش کے لیے بھی ہے، عمومی علاقائی تناظر کے لئی بھی اور پاکستان کے اسٹریٹیجک معاشی منصوبوں، جیسا کہ سی پیک وغیرہ ، کے لیے بھی۔ بادی النظر میں پاکستان کا ”اسٹیک“ سب سے زیادہ ہے اسی لیے پاکستان کی جانب سے بھاگ دوڑ بھی سب سے زیادہ ہے۔

ڈپلومیسی اپنے عروج پر ہے۔ سفارت کاری اور عالمی تعلقات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ دن اپنے اندر بہت سے دلچسپ نتائج و عواقب سموئے ہیں ۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.