توہین رسالت کیا ہے، تعین کیسے ہوگا؟ علی عمران

آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے فقہاء نے توہین رسالت کس چیز کو قرار دیا ہے. پھر اس تعریف کی روشنی میں ان بلاگرز کی حرکات اور ان کے کرتوتوں کا جائزہ لیں، تو آسانی سے پتہ چل جائے گا کہ یہ ظالم بدترین قسم کی توہین کے مرتکب ہیں.

فقہائے کرام نے استقرائی طور پر جو شکلیں گنوائی ہیں، ان کی مدد سے بآسانی توہین کا حدودِ اربعہ متعین کیا جاسکتا ہے.

امام ابو یوسف رح فرماتے ہیں، ”جو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کرے (گالی دے)، یا تکذیب کرے یا عیب لگائے، یا آپﷺ کی تنقیصِ شان کا مرتکب ہو، تو اس نے اللہ تعالٰی سے کفر کیا اور اس کی زوجہ اس کی نکاح سے نکل گئی.“ (کتاب الخراج ص 182، فتاوٰی شامی ج3ص319)

”کسی شے میں حضورﷺ پر عیب لگانے والا کافر ہے. اور اسی طرح بعض علماء نے فرمایا کہ اگر کوئی آپﷺ کے بال مبارک کو ’شُعیر‘ کہے، تصغیر کے صیغے کے ساتھ. بجائے ’شعر‘ کے، تو وہ کافر ہوجائے گا .اور امام ابوحفص الکبیر (حنفی) سے منقول ہے کہ اگر کسی نے حضورﷺ کے کسی بال کی طرف بھی عیب منسوب کیا، تو وہ کافر ہوجائے گا. اور امام محمد رح نے مبسوط میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا کفر ہے. (شرح الشفاء، ج2ص384، خلاصۃ الفتاویٰ ج4ص363، فتاوٰی قاضیخان ج4ص882)“

قاضی عیاض رح فرماتے ہیں، ”بےشک ہر وہ شخص جس نے نبی کریم ﷺ کو گالی دی. یا حضورﷺ کی ذات مقدسہ کی طرف کسی عیب کو منسوب کیا ،یا حضورﷺ کی ذات مقدسہ، آپﷺ کے نسب کی یا دین یا آپﷺ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی. یا آپﷺ پر طعنہ زنی کی یا جس نے بطریقِ اہانت یا تحقیقر،شان مبارک یا ذات مبارک کی طرف کسی عیب کو منسوب کرنے کے لیے حضورﷺ کو کسی چیز سے تشبیہ دی، تو وہ حضورﷺ کو گالی دینے والا ہے. اسے قتل کیا جائے گا.. ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثناء نہیں کرتے، اور نہ اس میں کوئی شک کرتے ہیں، خواہ صراحتاً توہین ہو یا اشارتاً، کنایتاً. یہ سب علمائے امت اور اہلِ فتویٰ کا اجماع ہے. عہد صحابہ سے لے کر آج تک. (الشفاء ج2ص214، الصارم المسلول ص 525، طبع بیروت)“

یہ بھی پڑھیں:   ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ - حامد کمال الدین

لغوی اعتبار سے بھی سب کا معنی، ”کسی چیز کے بارے میں ایسے کلمات کہے جائیں، جن سے اس چیز میں عیب و نقص پیدا ہوجائے. (مرقاۃ)“
اور توہین میں سب و شتم کا حصہ سب سے زیادہ ہے. اور سب وشتم کے دائرے کے بارے میں حافظ بنِ تیمیہ رح لکھتے ہیں، ”جو کلام عرف میں نقص، عیب، طعن کے لیے بولا جاتا ہے، وہ سب سب وشتم ہے. (الصارم المسلول ص534)“

قانونی طور پر آئین پاکستان کی دفعہ 395 سی قبل از پٹیشن، میں توہین کی مندرجہ ذیل سزا تحریر ہے. جس کے ضمن میں توہین کی شکل بھی آگئی ہے.. پڑھیے، ”جو کوئی عمداً، زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی، بالواسطہ یا بلا واسطہ، اشارتاً یا کنایتاً، نامِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین یا تنقیص کرے یا بےحرمتی کرے، وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائےگی.“ جبکہ بعد از پٹیشن یہ قرار پایا کہ اہانتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا بطورِ حد صرف سزائے موت ہے.

مندرجہ بالا اصولی اور جزئیاتی اشکال سے توہین کی مکمل شکل وجود میں آتی، اور ایک جامع صورت تشکیل پاتی ہے، جس میں حضورﷺ کی ذات یا نام کو استہزاء سے یاد کرنا، چاہے صراحتاً ہو، یا اشارتاً و کنایتاً، کسی نامناسب چیز سے کسی طرح تشبیہ دینا، یہ سب توہین ہے. اور قاضی عیاض رح کے الفاظ میں اس پر اجماع ہے.

گویا یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ پاکستان کا موجودہ توہین ِ رسالت کا قانون امت کا متفقہ قانون اور اصول رہا ہے. اسی طرح اس کی سزا پر بھی امت کا اتفاق اور اجماع ہے..
توہین کا مسئلہ ایک ایسا بدیہی مسئلہ ہے، جس سے کوئی بھی معقول انسان انکار نہیں کرسکتا.

شخصیت عرفی کو مجروح کرنے پر ہم آئے دن دنیا کے کونے کونے میں مقدمات کی بھرمار دیکھتے ہیں. یورپی ممالک میں بھی توہین کا قانون موجود ہے اور اس پر شدید ترین سزائیں بھی مقرر ہیں. ان کے ہاں اسے بلاس فیمی کہا جاتا ہے، اس کا لغوی مطلب ہے اہانت. لاطینی زبان میں خدا کے وجود اور دینِ مسیح کی صداقت سے انکار یا نجات دہندہ عالم یسوع مسیح کی اہانت، اور انجیل مقدس کی تحقیقر اور تضحیک کو بلاس فیمی کہتے ہیں.
چلتے چلتے امریکہ کے اندر موکس کیس پر عدالت کی یہ رولنگ ذرا دیکھ لیں..
ان حالات میں کسی کو خدائے مسیحیت (اصل الفاظ یہ ہیں، God of christcan religion ie Jesuschrisst) جناب مسیح کی شان میں گستاخی کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس کی وجہ سے مملکت کی بنیادوں میں رخنہ پڑتا ہے.

Comments

علی عمران

علی عمران

علی عمران مدرسہ عربیہ تبلیغی مرکز کے فاضل ہیں۔ تخصص فی الافتاء کے بعد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں اسلامک کمرشل لاء میں ایم فل کے طالب علم ہیں. دارالافتاء والاحسان اسلام آباد میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں افتاء کے علاوہ عصری علوم پڑھنے والے طلبہ اور پروفیشنل حضرات کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.