سوشل میڈیا کی بندش پر واویلا کیوں؟ علی ملک

فیس بک کو بین (ban) یا اس تک رسائی حاصل کرنے کی بات یہودی یا مسلمان وغیرہ کی نہیں ، بلکہ ایک نیشنل سیکورٹی انٹرسٹ (National Security Interest) ہے. ہر ملک میں قانونی بالادستی کو اہمیت حاصل ہے. مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس پر دیسی لبرل ٹرول کر کے کیا حاصل کر رہے ہیں.

چونکہ زیادہ تر سوشل میڈیا کے ہیڈکوارٹر امریکہ میں ہیں، اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان انفارمیشن ایکسچینج (Information Exchange) کا کوئی ایگریمنٹ ہی نہیں ہے، اس لیے پاکستان کے تحقیقی ادارے سوشل میڈیا کرائم کے خلاف ثبوت اکھٹے نہیں کر پاتے. یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عدالتوں میں ہزاروں کیسز جو سائبر کرائم سے متعلق ہیں، زیر التویٰ ہیں، چاہے وہ money scam ، harassment کے ہو یا پھر identity theft ، بلیک میلنگ یا پھر توہین و انتشار کے.

دوسری طرف انڈیا میں فیس بک کے 195 ملین یوزر ہیں، اور میری معلومات کے مطابق انڈیا کو سوشل میڈیا کے Back End تک رسائی حاصل ہونے کی یہی وجہ ہے کہ انڈیا کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66A پاکستان کے سائبر کرائم بل سے زیادہ مؤثر ہے.

انڈیا کے کچھ یوزر جن کو انڈین پولیس نے سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنے کی وجہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا:
اسیم ترویدی: 2012ء میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب اسیم نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر کارٹون لگا کر انڈین پارلیمنٹ کا تمسخر اڑایا!
شاہین Dhada اور رینو سری نواسن کو ممبئی پولیس نے 2012 میں گرفتار کیا کیوں انہوں نے شیوسینا کے رہنما بال ٹھاکرے کی آخری تدفین والے دن ممبئی شہر کو بند کرنے پر سوال اٹھایا تھا.
ائیر انڈیا کے دو کیبن کریو مینک موہن شرما اور K V J راؤ کو محض اس لیے گرفتار کیا گیا کیوں کہ انہوں نے وزیراعظم اور دیگر سیاستدانوں کے بارے میں نامناسب لطیفے پوسٹ کیے تھے . یہ بھی 2012ء کا کیس ہے .
پڈوچیری تاجر روی سری نواسن نے مبینہ طور پر کانگریس لیڈر پی چدمبرم کے بیٹے کو Karti چدمبرم کے بارے میں ٹوئٹر پر جارحانہ پیغامات پوسٹنگ کرنے کی وجہ گرفتار کیا گیا. یہ بھی 2012ء کا کیس ہے.
سی پی آئی ایم کے کارکن Rajesh Kumar کو پولیس نے اس لیے گرفتار کیا کیوں کہ کمار اپنی پوسٹ میں توہین آمیز گالیاں وزیر اعظم نریندر مودی کو دی تھی، یہ کیس 2014ء کا ہے.
اسی طرح Devu Chodankar جو شپ بلڈنگ کے پیشے سے منسلک تھا کو بھی 2014ء مودی کو فیس بک کے کمنٹس میں گالی دینے پر گرفتار کیا گیا تھا.

جب ہمارے ہمسایہ ملک جو بظاہر سیکولر اسٹیٹ ہے، میں پارلیمنٹ، سیاستدانوں، اور وزیر اعظم کو سوشل میڈیا پر گالیاں یا ان پر کارٹون لگانے پر گرفتار کیا جا سکتا ہے تو پاکستان جو کہ اسلامی ملک ہے، وہاں کتوں، بلوں، بھینسوں، سوروں کو توہین رسالت پر سزا کیوں نہیں دی جا سکتی؟

سیکولرزم کا ڈھنڈورہ پیٹنے والے دیسی لبرلز اپنے سیکولر ہمسائے سے ہی کچھ سیکھ لیں یا پھر ایسا ہے کہ آپ کے سیکولرزم کی حدود مسلمانوں سے بغض سے شروع ہو کر ملحدوں کی گندی زبان تک ہی ہیں؟

Comments

علی ملک

علی ملک

علی ملک ہانگ کانگ میں ایک چینی کمپنی میں بطور آپریشن مینیجر برائے انڈیا و بنگلہ دیش کام کرتے ہیں۔ اسلام اور پاکستان ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں، سوشل میڈیا پر ان کے دفاع کے لیے متحرک ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */