لکھنؤ میں داعش، حقیقت کیا ہے؟ ریحان خان

لکھنؤ کے ٹھاکر گنج میں داعش سے متاثر سیف اللّہ کو منگل کی شام انکاؤنٹر میں مار گرایا گیا۔ یہ سیف اللّہ کا منطقی انجام ہے۔ بےشک ملک میں ہنسا واد اور شدت پسندی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سیف اللہ یہ راستہ اختیار کر کے اپنے مستقبل کا تعین از خود کر بیٹھا تھا۔ اب وہ مستقبل سے گزر کر عاقبت کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ لیکن سوال اب بھی برقرار ہے کہ کیا اس کا انکاؤنٹر ضروری تھا؟ کیا اسے زندہ گرفتار نہیں کیا جاسکتا تھا؟ وہ تنہا ملک کے بہترین جوانوں سے مزین کمانڈو دستے کو کتنے وقت تک چیلینج دے پاتا؟ کیا اس کی گرفتاری سے کچھ عقدے حل ہونے کی امیدیں نہیں کی جاسکتی تھیں جن کے سلسلے میں تفتیشی ایجنسیاں اب بھی ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہیں؟ سیف اللّہ کے انکاؤنٹر سے یہ تمام امکانات معدوم ہوگئے ہیں اور تفتیش کے نام پر مسلم نوجوانوں کو ہراساں کرنے کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہوگیا ہے۔ شاید یہی تفتیشی ایجنسیوں کا منشابھی تھا۔

ٹھاکر گنج کے جس علاقے میں سیف اللہ کا انکاؤنٹر ہوا ہے، وہاں پانچ گھنٹے قبل پولیس نے باپ بیٹے کے ایک تنازعے کو سلجھانے کا کام کیا تھا اور اس دوران سیف اللہ وہاں موجود تھا۔ مذکورہ عمارت کے عبدالقیوم نامی ایک کرایہ دار کے مطابق جب پولیس والے تنازعہ سلجھا کر وہاں سے نکل رہے تھے تب انھوں نے دیگر کرایہ داروں سے سوالات کیے اور خود سیف اللہ سے بھی اس کا شناختی کارڈ طلب کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ ایک نوجوان جس کے کمرے میں وہ سارا ساز و سامان موجود ہے جو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا، پولیس کی تفتیش اور شناختی کارڈ طلب کیے جانے کے بعد اپنے اعصاب پر اتنے بہترین انداز میں کنٹرول کس طرح پا سکتا ہے جس سے پولیس کو کوئی شبہ نہ ہو۔ یہ تو بالکل ناممکن سی بات لگتی ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب مقابل وہ پولیس موجود ہے جو خطرات کو سونگھنے کا دعوی کرتی ہے بلکہ صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ پانچ گھنٹہ قبل مکمل اطمینان کے ساتھ سیف اللہ یوپی پولیس کو اپنے تعلق سے ضروری معلومات فراہم کرتا ہے، اپنا شناختی کارڈ دکھاتا ہے اور پانچ گھنٹے بعد ہی سرینڈر کرنے سے انکار کرتے ہوئے مقابلے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ واقعہ بھی کسی نکسلائٹ علاقے کا نہیں بلکہ یوپی کے دل لکھنؤ کا ہے۔ جس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سب کچھ آئی بی کی لاعلمی میں ہوا ہے۔ خصوصاً اس وقت تو بالکل بھی نہیں کہا جاسکتا جب ریاست میں انتخابی ماحول گرم ہو۔

خصوصاً اس وقت تو سیف اللہ کا انکاؤنٹر بالکل مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے جب ملک میں درجن سے زائد آئی ایس آئی ایجنٹ زندہ گرفتار کرنے کا دعوی کیا گیا ہو اور ان میں سے ایک نے بھی مزاحمت نہ کی ہو۔ انکاؤنٹر کی کچھ تاویلیں ہیں جس میں کہا گیا کہ سیف اللہ کے بھائی سے سرینڈر کرانے کی کوشش کی گئی تھی جسے سیف نے رد کرتے ہوئے شہادت کو ترجیح دی۔اس کی کوئی شہادت نہیں ہے کہ سیف اللہ کے بھائی کی ملاقات سیف اللّہ سے ہی ہوئی یا پس پردہ کوئی اپنی صداکاری کے جوہر دکھا رہا تھا۔ وہ ٹیلی فونک گفتگو مختلف ٹیسٹ سے گزر کر ہی قابل صداقت گردانی جائے گی، فی الوقت اس گفتگو کی صداقت پر تکنیکی بنیادوں پر یقین نہیں کیا جاسکتا۔

سوال بہت سے اٹھتے لیکن ان سوالوں کے جواب میں خاموشی اور محض خاموشی ہے۔ ایک جانب سیف اللہ کا فیصلہ چند گھنٹوں میں ہوگیا اور دوسری جانب اے این آئی کی خصوصی عدالت نے اجمیر بم دھماکہ کے کلیدی ملزم اور ماسٹر مائنڈ سوامی اسیما نند کو بری کر دیا ہے۔ طویلے کی بلا بندر کے سر کے مصداق اجمیر بم بلاسٹ کا مجرم سنیل جوشی کو قرار دیا گیا ہے جو خود اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں مشتبہ حالات میں قتل ہو چکا ہے۔ اسیمانند پر حیدرآباد اور سمجھوتہ ایکسپریس کے دھماکوں کی سازش رچنے کا بھی الزام ہے، اس لیے ابھی اسے رہائی نہیں مل سکتی لیکن رہائی کی پہلے زینے پر وہ پہنچ گیا ہے۔ یہ ایک بربریت کی بریت ہے جس میں سیکڑوں جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔ اور ان سیکڑوں جانوں کا مجرم جو اقبالیہ بیان بھی ریکارڈ کراچکا تھا، وہ بری ہوگیا۔ اور سیف اللہ جس کا کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں تھا مار دیا گیا۔ ہم سیف اللہ کے اقدام کے حامی نہیں ہیں۔ جس ملک میں ایک اقبالی مجرم جو خواہ بعد میں اپنے اقبالی بیان سے منحرف ہوگیا ہو، عدلیہ سے بری ہوسکتا ہے تو اس ملک میں سیف اللہ کا حق تھا کہ اس کو گرفتار کرکے اس پر مقدمہ چلایا جاتا۔ اے ٹی ایس کے بیان کے مطابق موت کے اس متلاشی کو زندگی سے بڑی سزا اور کیا دی جاسکتی تھی۔ داعش سے روابط اور اسلحہ جات رکھنے کے الزام میں انکاؤنٹر کے بعد چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ یوپی پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ سیف اللہ کے داعش سے روابط کے ثبوت نہیں مل سکے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ بھوپال ٹرین بلاسٹ اور لکھنؤ انکاؤنٹر ایسے وقت میں ہی کیوں ہوئے جب منی پور اور اتر پردیش میں آخری مرحلے کے الیکشن کی ووٹنگ ہونی ہے۔
تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں
ہم بھی سادہ ہیں تری چال میں آجاتے ہیں

Comments

ریحان خان

ریحان خان

ریحان خان بھارت کے نوجوان قلمار ہیں- اردو ادب اور شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں، تجارت پیشہ ہیں-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */