تمھیں تو فیل ہونا بھی نہیں آتا - حفصہ عبدالغفار

کیا؟ ناکامی اچھی ہوتی ہے؟ حیران کیوں ہوتے ہیں بھائی۔ اگر داغ اچھے ہو سکتے ہیں تو ناکامی بھی اچھی ہو سکتی ہے۔ نہیں مانتے تو آئیے آج میں آپ کو ناکامی یعنی فیل ہونے کے فوائد بتاؤں گی۔ اور فیل بھی امتحانات میں۔

قصہ شروع ہوتا ہے میری ایف ایس سی سے۔ سال اول بیالوجی کا پرچہ تھا اور میں نے اپنی فطرت کے عین مطابق آخری دن اور رات تیاری کی. میں پرائیویٹ نہیں پڑھ رہی تھی بلکہ ملک کے مشہور کالج کی ”ریگولرلی ارریگولر“ طالبہ تھی۔ اور بیالوجی کے استاد بھی روزانہ سبق سننے کے معاملے میں میں انتہائی سخت تھے۔ روز کلاس کی پچھلی دیوار کے ساتھ سبق نہ سنانے والوں کی قطار بھی بنتی تھی۔ لیکن سر بفضل ربی میرے ابا جی کے جاننے والے تھے۔ اور یہ ان کی نظر کا کمال تھا یا حسن ظن کہ میں ذہین و فطین اور محنتی ہوں لہذا مجھے تو سبق آتا ہی ہوگا۔ اس لیے انہوں نے کبھی مجھ سے سبق نہیں سنا اور نہ ہی کبھی میں نے یاد کرنے کی ضرورت محسوس کی- ٹیسٹ بھی ہوا کرتے تھے مگر پندرہ منٹ پڑھ کے ٹیسٹ دینے میں مہارت اسی دور میں حاصل کی. بہرحال ایسے شارٹ کٹس کے ساتھ سال پورا کیا اور جب امتحانات شروع ہوئے تو معلوم ہوا تیاری بھی ابھی شروع ہوئی ہے. کمرہ امتحان میں پرچہ سامنے آیا تو میں نے اندازہ لگایا کہ پجھتر میں سے پچپن نمبر کے سوال آتے ہیں. پچپن نمبر اپنے شایان شان نہ تھے (کیونکہ پورے کالج میں سے ایک میں نے ہی تو میڈکل کالج میں جانا تھا) لہذا تھوڑا سا لکھ کے فیل ہونے کے ارادے سے باقی چھوڑ دیا کہ سپلیمنٹری امتحان میں دے کر کم از کم ستر نمبر لوں گی۔ بعد میں سب نے ”پاس ہونے سے ڈرانا شروع“ کردیا کہ ممتحن اکثر پاس کردیتے ہیں۔ اب میں نے پاس ہونے کے ڈر سے دعائیں شروع کی اور اپنی بیالوجی کی میڈم (جنہوں نے سر کے بعد پڑھانا شروع کیا تھا) کو بھی کہا کہ دعا کریں میں فیل ہو جاؤں۔ میم کہتیں دنیا کی پہلی طالبہ ہوگی تم، جو اپنے استاد کو ہی کہہ رہی ہے کہ دعا کریں میں فیل ہو جاؤں۔

خیر نتیجہ آیا تو جی ممتحن نے تا عمر دعاؤں کے حصول کے لیے 30 نمبر دے کر پاس کردیا۔ اب ابو جی کو علم ہوا کہ میں نے ”تھوڑا سا“ لکھا بھی تھا تو انہوں نے وہ ”تاریخی“ جملہ کہا جس نے میری ”غیرت ناکامی“ کو چیلنج کیا: ”تمھیں تو فیل ہونا بھی نہیں آتا، زندگی میں اور کیا کرو گی“.

تب سے فیل ہونے کا ڈر ختم ہو گیا۔ اور مجھے لگتا ہے کہ اگر کبھی میں فیل ہوئی تو مجھے مزہ آئے گا۔ اور بی ایس کے تیسرے سال میں یہ تجربہ بھی ہوگیا۔ الحمدللہ۔ مڈ ٹرم ایگزام میں فیل ہوئی اور ری۔سٹ دیا۔

اب سوال یہ ہے کہ مجھے فائدہ کیا ہوا؟ وہ سوچ کا کون سا زاویہ ہے جو میرے لیے ناکامی کو نعمت بنا دیتا ہے۔ لیجیے سنیے۔ اپنی اس ناکام ہونے میں ناکامی اور حقیقت میں فیل ہونے کے قصے کو میں ان لوگوں کے سامنے رکھتی ہوں جو کم نمبر یا بی گریڈ آنے پر ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میں ان کو اپنی مثال پیش کرتی ہوں کہ دیکھو میں بھی تو فیل ہوئی تھی نا۔ میں نے تو ناکامی سے بھی لطف اٹھایا۔ آپ بھی مزے کریں۔ اور میری یہ تحریر ہر اس طالب علم کے لیے ہے جس نے اپنی ”ڈگری“ کو ”زندگی کا ایک حصہ“ سمجھنے کے بجائے اپنی ”زندگی“ ہی سمجھ لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ میں ڈپریشن بڑھ رہا ہے جو کہ زندگی کے ہر پہلو میں ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔ دیکھیں ”تعلیم مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے، تعلیم بذات خود کوئی مقصد نہیں ہے“۔ لہذا اس کو لائٹ لیں۔ اگر خدانخواستہ آپ کا نتیجہ برا آتا ہے، یا آپ فیل بھی ہو جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے مقصد حیات میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اور یہ بھول جائیں کہ زندگی کی کامیابی کا دارومدار فقط آپ کی ڈگری پہ ہے۔

میرا مطلب یہ نہیں کہ محنت چھوڑ دیں، ضرور محنت کریں، بہت اچھے نتائج حاصل کریں مگر پڑھائی کو لے کر دو غلطیاں کبھی بھی مت کریں:
1) ڈگری کے لیے اپنا تمام وقت، توانائی اور فکر نہ لگائیں کہ آپ ”لائف سکلز“ ہی نہ سیکھ سکیں۔
2) کم نمبر آنے پہ ڈپریشن کا شکار نہ ہوں۔
اور ”پڑھائی کی سکلز“ سیکھیں۔ اگرچہ یہ ایک الگ عنوان ہے، سردست اتنا کہ اگر آپ کو ماسٹرز لیول میں بھی ہر جملہ لکھ لکھ کر یاد کرنا پڑتا ہے، اگر اس لیول پر آکر بھی آپ سارے دن میں پڑھائی کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے، اگر ابھی بھی آپ پندرہ منٹ کا کام تین گھنٹے میں مکمل کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ضرور کسی چیز کی کمی ہے۔ اور وہ کمی ”آرٹ آف سٹڈی“ سیکھنے کی ہے۔ اسی طرح اگر آپ ایف ایس سی لیول پر ہیں اور آپ مضامین، خطوط، اور دیگر جوابات کو لفظ بہ لفظ یاد کرتے ہیں تب بھی یقینا آپ کو آرٹ آف سٹڈی سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے پڑھائی کے معمولات کا جائزہ لیجیے کہ آپ آج بھی دو سال پرانے انداز سے تو نہیں پڑھتے؟

اسی طرح فیلڈ کا انتخاب سوچ سمجھ کہ کیجیے۔ کس کا سکوپ ہے اور زیادہ لوگ کیا کر رہے ہیں، یہ مت سوچیں۔ وہ کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں اور جو آپ کر سکتے ہیں۔ مثلا بی ڈی ایس کی ایک طالبہ نے مجھ سے ”سٹڈی پریشر“ کے حوالے سے رابطہ کیا۔ اور اس کا سال دوم غالبا مکمل ہو چکا تھا۔ وہ اتنا ڈپریشن میں تھی کہ میں نے مجبور ہو کر اسے یہ تک کہہ دیا کہ گولا مارو دو سالوں کو، بی ڈی ایس چھوڑ کر کسی آسان مضمون میں داخلہ لو، زندگی گزارو، لائف سکلز سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ. کیا ضروری ہے کسی مشکل ڈگری میں داخلہ لینا؟

اللہ تعالی ہم سب کو دنیا و آخرت میں کامیاب فرمائے۔ آمین

Comments

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار

حفصہ عبدالغفار ایم فل کیمسٹری کی طالبہ اور موٹیویشنل سپیکر ہیں۔ زاویہ ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */