گرل فرینڈ کو گالی - رضوان اللہ خان

کچھ دِن قبل ایک دوست کے ہمراہ لاہور کے معروف پارک کے پاس سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک جانب کچھ نوجوان آپس میں گتھم گتھا نظر آئے۔ ہم لڑائی چھڑانے کی خاطر آگے بڑھے اور ہمارے پہنچنے تک بہت سے دوسرے لوگ بھی آ جمع ہوئے اور سب اپنی اپنی کوشش کرنے لگے۔ اتنے میں ایک لڑکے نے لڑائی ختم کروانے کی خاطر آنے والے ایک صاحب کو باپ کی گالی دی اور منظر ہی بدل گیا۔ یعنی جو چھڑوانے آیا، وہ بھی لڑنے والوں میں شامل ہوگیا۔ معاملہ کسی طرح بھی قابو میں نہ آرہا تھا کہ اچانک عین درمیان میں لڑنے والے لڑکوں میں سے ایک کی آواز سماعت سے ٹکرائی کہ:
”تیری ہمت کیسے ہوئی میری گرل فرینڈ کو گالی دینے کی“۔
کیا آپ کو سْنائی دیا جملہ؟؟؟ ذرا غور سے سْنیں ”تیری ہمت کیسے ہوئی میری گرل فرینڈ کو گالی دینے کی“ ۔ اور ہاں وہ جو صاحب لڑائی ختم کروانے کی خاطر اپنی بڑی سی کار سے اْترے تھے اور پھر خود بھی لڑنے لگے اس کی وجہ کیا تھی؟ اْس کے باپ کو گالی دی گئی۔

کیسی بات ہے نا کہ ایک جانب گرل فرینڈ کی خاطر غیرت جاگے اور دوسری ہی جانب ایک سلجھے ہوئے سوٹڈ بوٹڈ صاحب باپ کی گالی سننے پر طیش میں آجائیں اور اس بات پر ذرا بھی بْرا نہ مانیں کہ اتنے لوگوں میں اْنہیں ”ٹائی“ سے پکڑ کر کھینچا گیا ہو۔ کیوں؟ کیونکہ باپ کی محبت میں انہیں یہ سب گوارہ تھا۔

میں پڑھی لکھی آبادی کے ساتھ ساتھ حکمران طبقے کی توجہ بھی ایک اہم موضوع کی جانب دلانا چاہتا ہوں۔ ذرا سوچیں کہ انٹرنیٹ کی دْنیا میں ہر ایک کو آزادی ہے کہ وہ کچھ بھی بولے تو کوئی روک ٹوک نہیں۔ لیکن اگر کوئی ہمارے سیکیورٹی اداروں اور سرکار کے خلاف غلط بات کرے، گالی دے یا کوئی بھی گستاخی کرے تو وہ غائب کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اسی انٹرنیٹ کی دْنیا میں اْن لوگوں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے جو دن رات اللہ رب العزت کی ذات سے لے کر نبی رحمت ﷺ اور اصحاب ؓرسول تک کے خلاف غلاظت بکتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں اور گستاخیاں کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ اپنے بچوں پر چیختے ہیں - جویریہ سعید

ایسا کیوں ہے کہ ایک مسلمان ملک میں ان جیسے گندے کیڑوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی؟ ایسا کیوں ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ادارے جس اللہ کی حاکمیت کو حاکمیت اعلیٰ تصور کرتے ہیں، اسی اللہ کے خلاف بولنے والے دجالیوں کو کوئی سزا نہیں دیتے؟ سوال یہ ہے کہ :اگر کوئی بانی پاکستان کو گالی دے تو کیاآپ اْسے چھوڑ دیں گے؟؟ میرے مطابق تو ایسے شخص کو سزا ملنی چاہیے اور اگر کوئی پاکستان میں رہتے ہوئے پاکستان کو گالی دے تو اسے غدار ڈکلئیر کرکے ملک بدر کردینا چاہیے۔ لیکن حضورِ والا کیا ان گستاخوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے جو دن رات اللہ کے محبوب ﷺ کے خلاف غلیظ زبان سے غلاظت اگلیں؟

ذرا تصور کیجیے آپ ان لوگوں کو صبر کی تلقین کر رہے ہیں جن کو قرآن نے یہ سیکھایا کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا پتہ ہی تب چلتا ہے جب اْن کی خاطر جان دینے اور لینے میں تمہیں زیادہ سوچنا نہ پڑے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کہ جن کی خاطر یہ دُنیا تخلیق کی گئی اور جن کی خاطر اُن کے غلاموں نے گردنیں تو کٹوا لیں لیکن اُف تک نہ کی۔
اب ذرا سوچیں کہ جہاں لوگ گرل فرینڈ کو دی جانے والی گالی پر یہ تک کہہ دیں:
”میں تیرے سارے خاندان کو آگ لگا دوں گا“
اور جہاں ایک سوٹڈ بوٹڈ ماڈرن دنیا کا سلجھا ہوا انسان باپ کو پڑنے والی گالی کے بدلے میں یہ کہہ ڈالے :
”میں تیرا خون پی جاؤں گا“
وہاں آپ کا یہ سوچنا بے کار ہے کہ لوگ اپنے نبی ﷺکے عشق میں گستاخوں کی گستاخی پر صبر کریں۔

ایسی باتوں سے مجھے اپنی ہی میڈیا کلاس کا وہ واقعہ یاد آجاتا ہے جہاں ایک صاحب بڑے پْر جوش انداز میں اس بات پر زور دے رہے تھے کہ نبی ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کو برداشت کرنا چاہیے اور انہیں دعوت دینی چاہیے لیکن جونہی صرف ایک سوال کیا گیا کہ اگر آپ کے والد کو کوئی گالی دے تو کیا کریں گے تو وہ ایک لڑکی کو تھپڑ تک مارنے کے لیے تڑپنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ اپنے بچوں پر چیختے ہیں - جویریہ سعید

مؤدبانہ گذارش ہے، اگر آپ واقعی اس معاملے میں سنجیدہ ہیں کہ عوام اس طرح کے فیصلے گلی کُوچوں میں نہ کریں، تو سوشل میڈیا پر موجود اِن گستاخوں کو لگام دیجیے، وگرنہ ہر مسلمان چاہے وہ ”نام“ ہی کا مسلمان کیوں نہ ہو ایسے موقع پر ”کام“ کا مسلمان بن جایا کرے گا اور کسی گستاخ کو خون میں نہلانے کے بعد خود پھانسی پر چڑھ جانے پر فخر محسوس کرے گا اور ایسی پھانسی جس سے پہلے وہ حکمرانوں کی شان میں گستاخی کرنے کے لیے دو رکعت نفل ادا کرکے پھانسی گھاٹ میں اللہ کا نام لیتا ہوا داخل ہوگا۔
پھر نہ کہیے گا کہ ظلم ہوا، کیونکہ ظلم سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے اور اس کو روکنا آپ کا کام ہے۔۔۔

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.