انسان اور زندگی - زینی سحر

نو ماہ ماں کے پيٹ ميں رہنے کے بعد جب انسان اس دنيا ميں دھکيلا جاتا ہے،
(آنا کون چاہتا تھا)
تو ايک جھرجھری سی ليتا ہے، پہلا احساس جو ہوتا ہے، وہ يہ کہ کسی گرم مقام سے سرد جگہ بھیج ديا گيا ہوں،
پھر انسان کی پہلی ضرورت وہ گرم گرم لمس جو ماں کی گود اسے مہيا کرتی ہے،
جب وہ وہاں تھوڑی دير سکون پاتا ہے تو پھر ايک اور ضرورت سر اٹھتی ہے،
پيٹ کی بھوک‫‫‫..
ماں دودھ پلا کر اس کی يہ ضرورت پوری کرتی ہے.

پھر انسان جوں جوں عمر کی منزلت طے کرتا جاتا ہےاس کی خواہشات اور ضروريات بڑھتی چلی جاتی ہيں.‫‫‫‫‫‫.
کبھی یہ چاہیے تو کبھی وہ ...
کھیلنے کے لیے کبھی اپنے ہم جولی ڈھونڈتا ہے تو کبھی بہن بھائیوں کے کھلونے.....
کبھی ماں سے یہ ضد کہ چھوٹے کے حصے کا پیار بھی مجھے دو، اور کبھی یہ کہ بڑے کے کپڑے بھی مجھے پہناؤ.
کبھی لگتا ہے کہ بہن بھائیوں کی محبت ہی سب کچھ ہے. اس کے بعد شاید کسی اور محبت کی حاجت نہیں ہوگی...
ماں باپ بہن بھائی بس یہی ساری کائنات..
پھر ايک وقت ايسا بھی آتا ہے جب اس کو پيدا کرنے والے، اس دنيا ميں لانے کا سبب بننے والے اس کی ضروريات ميں کہیں نہيں رہتے..

پھر اسے ايک رفيق کی ضرورت پيش آ جاتی ہے جو اس کی خلوتوں اور جلوتوں کا ساتھی ہو، جس کے ساتھ رویا اور ہنسا جائے،
نگر نگر اسے ماہی بے آب کی طرح تلاش کیا جاتا ہے،
اور جب وہ بھی مل جاتا ہے تو، انسان کی ساری خواہشات اپنے بچوں سے منسلک ہو جاتی ہیں.

بھاگم بھاگی اور خواہشات کے سفر ميں اسے زندگی کا مقصد ڈھونڈھنے کی فرصت ہی نہيں ملتی،
اسے يہ خبر ہی نہيں ہو پاتی کہ خالق نے اسے کيوں تخليق کيا، وہ کیا وجہ تھی؟
رب نے اسے اتنی محبت سے کیوں بنایا؟
اور بنا کر اس قدر خوش ہوا کہ ملائکہ سے کہہ دیا کہ اسے سجدہ کرو.
اس مقصد کو جاننے کی کبھی فرصت ہی نہ ملی.
بہت ہوا تو دو چار سجدے کر ليے، پيسے ہوئے تو حج و عمرہ ادا کر ليا.

یہ بھی پڑھیں:   سوچنے کی بات ہے - ماہ گل عابد

خواہشات کا سفر جاری رہا.
جو ضروريات کے نام پہ کبھی پوری ہو جاتیں اور کبھی ادھوری رہ جاتیں‫‫‫‫.
پھر ايک وقت ايسا آتا ہے جب انسان کو تمام تر خواہشات کے ساتھ نامعلوم دنيا ميں دھکيل ديا جاتا ہے..
(تب بھی وہ جانا نہیں چاہتا)
حالانکہ اب اس کا يہاں اچھے سے دل بھی لگ جاتا ہے.
ايک ہچکی اور زندگی اپنی تمام تر رونقوں سمیت اختتام پذیر.
گويا زندگی ايک جھرجھری سے ايک ہچکی تک کا سفر تھا.
اور اس چھوٹے سے سفر ميں انسان لير و لير ہوجاتا ہے.

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.