سانپ سیڑھی کا کھیل - نورین تبسم

دُنیا کےمیدان میں، دُنیا کے اسٹیج پر ہم صرف دو طرح کے لوگوں سے ملتے ہیں۔”سانپ اور سیڑھی“
باقی جتنے ملنے والے ہیں وہ حاضرین ہیں یا تماشائی، تالیاں بجاتے ہیں یا اُٹھ کر چلے جاتے ہیں، آوازیں کستے ہیں یا پھر شاباشی کے ڈونگرے برساتے ہیں۔ کبھی ”ایک بار اور“ کی صدا لگاتے ہیں تو کبھی نقالی کہہ کر یکسر رد بھی کر دیتے ہیں۔ کبھی بار بار آتے ہیں اور ہر بار نیا لُطف پاتے ہیں، تو کبھی ایک بار آ کر دوبارہ نہ آنے کی قسم کھا لیتے ہیں، کبھی روبرو ہوتے ہیں تو کبھی ہواؤں میں سوچ کے لمس کو چھوتے ہیں، کبھی داتا جان کر خیرات طلب کرتے ہیں،گڑگڑاتے ہیں تو کبھی گدا سمجھ کر بھیک دیتے ہوئے ایک نگاہِ غلط بھی نہیں ڈالتے، کبھی ساتھ نباہنے کی قسمیں کھاتے ہیں تو کبھی ساتھ یوں چھوڑجاتے ہیں کہ کبھی ملے ہی نہ تھے، کبھی قاتل ملتے ہیں تو کبھی مسیحا، کبھی درد ہیں تو کہیں دلدار۔

کبھی بادشاہ بھی اپنے تخت سےاُتر کر جو ہمارا تماشا دیکھنے آتے ہیں تو اِن کے غلام وہیں کونے میں ہمیں اسی طور پسند کرتے ہیں۔ ہمارے مسئلے وہاں شروع ہوتے ہیں جب ہم ”سانپ سیڑھی“ اور ”تماش بین اورحاضرین“ کا فرق بھول جاتے ہیں۔ جس کا جو مقام ہے، اس کے مطابق اپنے آپ کو تیار نہیں کرتے۔ ہرشے اپنی فطرت پر ہے۔ کوئی ردوبدل نہیں۔ یہ تقدیر ہے، ایک اٹل حقیقت ہے۔ ہم اپنی نظر اپنے فہم پر بھروسہ کرتے ہیں۔ بصارت کو اوّلیت دیتے ہیں۔ بصیرت اُس وقت آتی ہے جب پانی سرسے گُزر جاتا ہے۔ اپنی نادانی اور کم عقلی کا دوش دوسروں کو دیتے ہیں اور پچھتاووں کی لپیٹ میں بھی آ جاتے ہیں۔

تجربات میں وقت خود ضائع کرتے ہیں اور بعد میں وقت کی کمی کا رونا روتے ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ وقت کبھی ہاتھ سے نہیں نکلتا۔ آخری سانس سے پہلے وقت ہی وقت ہے۔ اُس وقت کو پکڑ لو توصدیوں کا سفر لمحوں میں طے ہو جاتا ہے۔ فاصلے یوں سمٹتے ہیں کہ کوئی دوری نہیں۔ کوئی حجاب نہیں۔ کوئی پردہ نہیں۔ دینے والا کبھی نہیں تھکتا، معاف کرنے والا کبھی اپنے دروازے بند نہیں کرتا، پُکار سُننے والا ہمیشہ سے ساتھ ہے، ہم ہی اُس کو بھول جائیں تو اور بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان اور پروڈکٹ، مگر کیسے؟ صفدر چیمہ

ہم زندگی کے ڈرامے میں محض کٹھ پُتلیاں ہیں۔ نادیدہ ہاتھوں کی ڈوریوں سے بندھے بس ناچتے چلے جاتے ہیں۔ کبھی جان کر آنکھیں بند کرتے ہیں اور کبھی انجانے میں۔ یہ تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جب ڈرامہ فلاپ ہونے لگتا ہے۔ آنکھ آگہی کے اُس لمحے کُھلتی ہے جب پردہ گرنے والا ہوتا ہے، پھر سوائے ندامت اور تاسُف کے کچھ نہیں بچتا۔

زندگی کے ڈرامے میں کردار بےشک بنے بنائے ملتے ہیں، لیکن ہمیں اپنی اداکاری سے ان میں رنگ بھرنا ہوتے ہیں۔ زندگی کے اسٹیج پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کردار اتنی خاموشی سے اپنی جگہ بدل لیتے ہیں کہ گُمان نہیں کیا جا سکتا۔ راہِ عمل یہ ہےکہ ہم جان لیں، پہچان لیں کہ کون کہاں پر ہے؟ کس نے اپنی جگہ بدل لی ہے؟ ہمارے کردار کو سہارا دے رہا ہے یا ایکسٹرا بنا رہا ہے؟ کوئی واویلا نہیں، بس خاموشی سے اپنا کردار نباہنا ہے اور اسٹیج سے اُتر جانا ہے۔

زندگی براہِ راست کھیلا جانے والا تماشا ہے۔ اس میں کوئی ریہرسل نہیں، کوئی ری ٹیک نہیں، کوئی ریکارڈنگ نہیں، جو کہہ دیا سو کہہ دیا، جو کر لیا سو کر لیا۔ کام کرو اور گھر جاؤ، مزدوری نہ مانگو، وہ خود ہی مل جائے گی، مانگو تو کام کرنے کا حوصلہ مانگو، قبولیت کی سند مانگو۔ یہی قرینہ ہے، یہی سلیقہ ہے اور یہی اندر کا سکون بھی ہے جو سب سے زیادہ اہم ہے۔

دنیا میں کسی کے جیتنے یا ہارنے کا تعین دیکھنے والی آنکھ سے نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی محسوس کرنے والا ذہن ایسا کوئی فیصلہ صادر کرنے کا اہل ہے۔ سب سے بڑھ کر ہم خود اپنی زندگی کی ہار یا جیت کے بارے میں آخری سانس تک نہیں جان سکتے۔

سانپ اورسیڑھی کا کھیل جاری ہے۔ ایک قدم آگے نہیں بڑھتا اور رُکاوٹوں کے سانپ راستہ روک لیتے ہیں۔ اللہ کا کرم ہےکہ اگلے ہی موڑ پر فاصلہ زمان و مکان کی قیود سے آزاد طے ہونے کی نوید ملتی ہے، لیکن انسان تو انسان ہے، چوٹ لگےگی، تکلیف تو ہو گی، سانپ ڈسے گا، درد کی شِدّت تو ہوگی۔ اللہ کا فضل یہ ہے کچھ سیکنڈ، کچھ منٹوں یا کچھ گھنٹوں کے ”کوما“ کے بعد ذہن اس صورتِحال کوقبول کرکے معمولات کی انجام دہی میں مصروف ہو جاتا ہے۔
”اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے.“

Comments

نورین تبسم

نورین تبسم

جائے پیدائش راولپنڈی کے بعد زندگی کے پانچ عشرے اسلام آبادکے نام رہے، فیڈرل کالج سے سائنس مضامین میں گریجویشن کی۔ اہلیت اہلیہ اور ماں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لکھنا خودکلامی کی کیفیت ہے جو بلاگ ڈائری، فیس بک صفحے کے بعد اب دلیل کے صفحات کی جانب محوِسفر ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں