روح کےلیے ڈائٹ پلان - قانتہ رابعہ

انسان کو مٹی اور پانی سے تخلیق کیا مگر وہ جسم تھا، اصل چیز روح ہے، اور وہ لافانی ہے. جسم مٹی سے بنایا اور اس کی ہر ضرورت کو مٹی سے وابستہ کر دیا، خوراک لباس، ہر چیز جو جسم کی ضرورت ہے، وہ مٹی سے کسی نہ کسی قسم کا تعلق ضرور رکھتی ہے. جسم کا ایک طرح سے خالی ڈبہ یا چھلکے والا معاملہ ہے، جوس پینے کے بعد کوئی بھی اس کا ڈبہ سنبھال کر رکھتا ہے نہ کیلے مالٹے کو کھانے کے بعد ان کے چھلکے سنبھالے جاتے ہیں.

ردی چیزوں کا جو انجام ہوا کرتا ہے وہی ہوتا ہے، لیکن اللہ رب العزت نے انسانی جسم کے ساتھ یہ معاملہ نہیں رکھا، مرنے کے بعد اس بیکار وجود کو بھی خوشبو والے پانی کے ساتھ غسل دینے، نرم ہاتھ لگانے، صاف ستھرا کفن پہنا کر نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد قبر میں قبلہ رخ لٹانے کا حکم ہے. یہی نہیں کہ قبر میں ڈالو اور اب واپس آجاؤ بلکہ اتنی دیر تک قبر کے قریب کھڑے ہو کر دعا کرنے کا کہا گیا ہے جتنی دیر جانور کو ذبح کر کے کھال اتارنے اور گوشت بننے میں وقت صرف ہوتا ہے. کیوں؟ اس لیے کہ قبر کے اندر میت کو منکر نکیر کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے تنہائی محسوس نہ ہو۔

اس خاکی وجود کی کارکردگی بس آخری سانس تک تھی، اب تا قیامت جو بھی معاملہ ہونا ہے، وہ دنیا میں کی گئی کارکردگی کی بنیاد پر ہی ہونا ہے، اور کسی انسان کو محض اس لیے نہیں بخشا جائے گا کہ اس کا حسب نسب، شکل و صورت، عہدہ یا مال و دولت دوسروں سے زیادہ یا کم تھا. سوال روح کی زندگی کا ہوگا، جس طرح جسم کی خوراک توانائی، صحت کے بارے میں فکرمند تھے، کیا روح کی صحت و خوراک کے بارے میں بھی تھے؟ کیا اس کے لیے ڈائٹ پلان بنایا؟ دنیا میں جسم کےلیے متوازن خوراک کا خیال رکھا، مگر کیا روح کی صحت مند زندگی کے لیے بھی متوازن خوراک کا چارٹ بنایا؟

جسم کےلیے دو دن لگ کے ایک چیز نہیں کھاتے تھے، غریب بھی چار دن مسلسل دال نہیں کھاتا. دال ہو یا کوئی بھی چیز مسلسل کھانا انسانی جسم کے لیے فائدہ مند نہیں ہے، سبزی، دال، گوشت، پھل بدل بدل کے ہر چیز کھاتے ہیں تاکہ چاق و چوبند رہیں، پھر یہ کہ جسم کےلیے دھوپ چھاؤں، اندھیرا، روشنی ہر چیز کی ضرورت ہے.

اس بات کو جانتے ہوئے کہ یہ جسم صرف آخری سانس تک ہے، اور روح جسے ہمیشہ رہنا ہے، اس کی اصل خوراک کیا ہے، اس کی دھوپ چھاؤں کون سی ہے، اس کی متوازن خوراک کون سی ہے، یہ فراہم کرنا دور کی بات، اس کے بارے میں جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے.

روح کی متوازن غذا کے بارے میں ان شاءاللہ العزیز پھر کبھی بات ہوگی، پہلے اس کی بیماریوں کی بابت بات کرلیں جو بالآخر اسے ہلاکت کے گڑھوں میں پہنچا دیتی ہیں. روح کی صحت کا تعلق اس کی خوراک سے ہے. عقیدہ توحید، رسالت پر ایمان، نماز و روزہ و حج و زکوۃ، ذکر و اذکار، تقوی یہ سب ا سکی خوراک ہیں. ان میں سے ہر ایک کی الگ لذت ہے. نماز قربِ الہی عطا کرتی ہے. روزہ خوفِ خدا پیدا کرتا ہے. الغرض کسی سے معرفت نصیب ہوتی ہے تو کوئی ایمان میں حلاوت ڈالتی ہے. ان میں ایک چیز مشترکہ ہے اور وہ یہ کہ سب عبادات رضائے رب کے لیے کی جاتی ہیں اور مقصود اپنا تزکیہ ہوتا ہے. اگر دونوں میں سے ایک بھی نصیب نہیں تو وہ محض کارروائی ہے. اس کی درگاہ میں کس حال میں پہنچتی ہے، اور کس حد تک درجہ قبولیت پاتی ہیں، یہ کوئی بندہ بشر جانتا ہے نہ جاننے کا دعوٰی کرسکتا ہے.

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوں یا اولیائے کرام، سب نے عبادت کی یا اس کی مخلوق کی خدمت رضائے الہی کے لیے کی، اور اپنے تزکیے سے کبھی کسی صورت میں لمحہ بھر کے لیے غافل نہیں ہوئے. ان کے سامنے جسم یا اس کی ضروریات نہیں، روح اور روحانی قوتیں ہوتی تھیں. جسم کی زیبائش و آرائش رتی بھر ان کا مقصود نہیں تھی.

آج دجل و فریب کے اس دور میں روح یا اس کی زندگی نہیں، صرف اور صرف جسم کو کھلانا پلانا اور جانوروں کی طرح کھلاتے چلے جانا رہ گیا ہے. جسم کے رنگ برنگے پہناوے وارڈ روب بھری ہونے کے باوجود ہر فنکشن کےلیے نیا سوٹ بلکہ دن میں اور طرز کے اور رات کی تقریبات میں یکسر مختلف! اتنا ہی نہیں، اصل مرض فل میچنگ، لگتا ہے کہ بہت سارے اخراجات اور مصروفیات کے پیچھے یہی میچنگ کہانی ہے. بچوں کی ضد کا رونا روتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ہم نے بیج تو خود ہی میچنگ کا ڈالا ہے. دوسال سے کم عمر کی بچی کو موزے، جرابیں، ٹائٹس کے بعد ان کی پونیاں، ہیئر کیچر تک میچنگ والا ان کے سامنے رکھتے ہیں. سکول جانے والے بچے کو اریزر کے ڈھیر میں سے اپنی پسند کی اریزر منتخب کرنے کا کہتے ہیں کہ بیٹا کون سی لو گے؟ یہی حال پینسل، شاپنر اور باقی اشیاء کا ہے. بچپن میں ہمیں یہ چوائس نہیں دی گئی تھی. ماں جو پکاتی تھی وہ سب بچوں کو کھانا ہوتا تھا، خواہ پسند ہو یا نہ ہو، آج باورچی خانے میں قدم رکھنے سے پہلے ماں دوسال کے بچے سے پوچھتی ہے کہ بیٹا کیا کھاؤ گے؟ تین بچے ہوں یا چار سب کے لیے الگ الگ، ان کی پسند اور ذوق کے مطابق کھانا بنایا جاتا ہے. ایک شناسا خاتون کا بیٹا امریکہ سے گرمیوں کی چھٹیوں میں پاکستان آیا. اس کی ماں نے پیغام بھیجا کہ ہم نے کون سا پاکستانی جائیداد میں سے ورثہ لینا ہے، بس میرا بیٹا کھانے پینے میں بڑا چوزی ہے، اس کا خیا ل رکھیے گا. پہلے دن فرمائش فرائی انڈے کی تھی. فرائی کر کے اس کے آگے رکھتے گئے، اور چوزی بچہ ریجیکٹ کرتا گیا، بالآخر اللہ نے کرم کیا اور چودھواں انڈہ شرف قبولیت پاگیا. اناللہ وانا الیہ راجعون

مٹی بننے والے جسم کےلیے اتنا تردد. واقعی کسی دانا کا قول یاد آگیا لوگ جنت میں جانے کے لیے اتنی مشقت نہیں اٹھاتے جتنی جہنم میں جانے کےلیے! سوال یہ ہے کہ کیا انتخاب کے اس دلدل میں پھنسنے کے بعد بچہ روح کےلیے کچھ کرنے کے قابل رہے گا؟ چوبیس گھنٹے جسم اور جسمانی ضرورتوں کے پیچھے دوڑتے بھاگتے روحانی تگ و دو کی ہمت باقی رہ پائے گی؟ جواب کیا ہے آج رات سونے سے پہلے ضرور سوچیے گا.!