ماسی کنیز کا سجدہ - سعدیہ نعمان

میں درِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہ سجدے میں گرے ایک کردار کا مشاہدہ کر رہی ہوں، جس کا چہرہ خوشی و مسرت، بے یقینی و یقین کے ملے جلے جذبات کا عکس لیے ہوئے ہے. سفید کپڑوں اور چادر سے خود کو لپیٹے اس کردار کا ایک ایسا خواب رب رحمان نے پورا کر دکھایا جسے سب دیوانے کا خواب کہہ کر ہنس دیا کرتے تھے۔
سچ ہے کہ
جسے چاہا اپنا بنا لیا
جسے چاہا در پہ بلا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے.

آئیے آپ کو اس کردار سے ملواتی ہوں۔

‎یہ کردار ماسی کنیز کا ہے۔ ماسی کنیز سے ہمارا تعلق کم و بیش پندرہ سال کا ہے، مزدور طبقہ اور غریب گھرانے کی یہ وہ خاتون ہے جس نے اپنی پچاس سالہ زندگی میں کبھی ہار نہیں مانی، ہر بندہ مزدور کی طرح اس کے حالات بھی بہت تلخ رہے
‎گزری غمِ زمانہ کی بھٹی سے اس طرح
‎وہ کامنی سی چھوکری اسٹیل ہو گئی

ماسی کنیز نے عورت کی نام نہاد آزادی کی علمبردار تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنی مظلومیت کے داغ دکھا کر عالمی سطح پر ہمدردیاں اور فنڈ نہیں سمیٹے بلکہ حیا و حجاب، رواداری و خود داری اور انا کے تمام تر اصولوں کے ساتھ مسلسل محنت و مشقت اور جدوجہد کی ایک مثال قائم کی ہے. سیلاب اور بارشوں کی زد میں آ کر گرے ہوئے کچے مکان کی تعمیر، بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت سے لے کر ان کے گھر آباد کرنے تک، شوہر کو محنت مزدوری پر آمادہ کرنے سے اس کی مالی امداد تک، ماسی کنیز کہیں نہیں ہاری۔ وہ گھروں میں کام کرتی اور گھریلو سطح پر ہی قرض لے کر اپنی ضروریات پوری کرتی، اور کمیٹیاں ڈال کر وقتِ مقررہ پر رقم لوٹا دیتی. مفلسی اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا، مکاری، فریب، چوری اور جھوٹ کا رستہ اختیار نہیں کیا، اپنی بیماری اور کمزوری میں بھی محنت کا راستہ ترک نہیں کیا، اپنی بڑی بیٹی کے پہلے ذہنی و جسمانی معذور بچے کی پرورش بھی ماسی کنیز نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔

‎پچھلی بارشوں میں ایک شام ماسی کے میاں نے اپنی بیل گاڑی چو نگی نمبر ایک کے چوک میں روکی، اور سستانے کے لیے بیل کو بھی کچھ دیر کے لیے کھول دیا، بارش کے کھڑے پانی میں کرنٹ آ گیا اور بیل اپنی جان سے گیا، مزدوروں نے بیل چوک میں رکھ کے احتجاج کیا، اخباروں میں تصویریں اور خبریں لگیں، ماسی کئی دن تک وہ اخبار لیے پھر تی رہی کہ شاید ارباب اختیار کے آ گے شنوائی ہو جائے لیکن ہمارے سیاست دان غریب کی کیوں سنیں گے۔ ستم یہ کہ اس چوک سے چند قدم کے فاصلے پر سابق وزیراعظم یو سف رضا گیلانی کا عظیم قلعہ موجود ہے.

‎ایک بار پھر ماسی کنیز نے قرض لیا اور گرتی گاڑی کو سہارا دے کر کھڑا کیا۔ ماسی کنیز کے صبح و شام ایک سے ہیں، سخت تھکا دینے والے، پھر بھی وہ روتی نہیں ہنستی ہے، مایوس نہیں پرُ امید ہے، اور ان دنوں وہی ماسی کنیز اللہ کے گھر کا طواف کرنے، عمرہ کرنے اور در نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دینے آئی ہے۔ جہاں وسائل و دولت والے پیچھے رہ گئے، وہاں ماسی کنیز خالی جھولی بھر رہی ہے، دولت سمیٹ رہی ہے اور خوب سمیٹ رہی ہے۔

میری سوچ کا سفر رُک گیا ہے۔ ماسی کنیز سبز گنبد کے بالکل سامنے کھڑی نم آنکھیں لیے مجھ سے مخاطب ہے۔
”سعدیہ میڈا دل آکھدے، میں اتھائیں رہ ونجاں، ایں خاک اچ خاک تھی ونجاں، اتھوں دی پاک مٹی اچ رل ونجاں“
سعدیہ! میرا دل چاہتا ہے کہ میں اسی خاک میں خاک ہو جاؤں، اسی در پہ پڑی رہوں، ادھر کی پاکیزہ مٹی میں مِل جاؤں۔

Comments

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان

سعدیہ نعمان سعودی عرب میں مقیم ہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر کیا، طالبات کے نمائندہ رسالہ ماہنامہ پکار ملت کی سابقہ مدیرہ اور ایک پاکیزہ معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں خواتین کی ملک گیر اصلاحی و ادبی انجمن حریم ادب کی ممبر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.