مجھے مستور رہنے دو - ام الہدیٰ

وہ کوئی تیسری بار اپنی اس ضدی سی سہیلی سے اصرار کرنے آئی تھی، اس امید کے ساتھ کہ شاید وہ مان جائے۔
”دیکھو! ایسے اچھا نہیں لگتا، تم سمجھتی کیوں نہیں ہو؟ سب کیا کہیں گے کہ آج بھی تم اس بڑے سے ٹینٹ میں چھپی بیٹھی ہو!“
اس نے نہایت اطمینان سے آگے سے سوال کیا، ”کس کو اچھا نہیں لگ رہا؟ کس کو اعتراض ہے میرے نقاب پر؟“
”یہاں سب عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں تمھیں، تمھیں محسوس تو ہو رہا ہوگا نا!“
اس کا اطمینان چہرے پر مسکان کی صورت میں ابھرا، ”وہ جو اوپر ہے نا ایک، اس کو اچھا لگ رہا ہے، اس کواچھا لگنا ان سب کی نظروں کو میرے لیے مسلسل بےوقعت بنا رہا ہے!“

”میں تمہارے نظریات کو سمجھتی ہوں یار! لیکن دیکھو، آج خواتین کا عالمی دن ہے۔ اور اس دن کو ہمارے ساتھ منانے کے لیے ہمارے کلاس فیلوز ہی تو آئے ہیں۔ ان لوگوں کو عورت کی عزت کرنی آتی ہے، اس لیے ہی تو آئے ہیں۔ یہ تھوڑی کوئی اوباش لوگ ہیں؟ ہمارے بھائیوں جیسے ہی تو ہیں۔ ان کے سامنے تم چہرے سے نقاب ہٹا بھی دو گی تو ان کے دل میں کوئی خرابی نہیں پیدا ہوگی، یہ ہماری عزت کرتے ہیں۔ اور میں کون سا تمھیں حجاب اتارنے کا کہہ رہی ہوں، بس چہرہ نہ ڈھانپو۔“ وہ سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔

اس کی مسکراہٹ اس بار ہنسی میں بدل گئی تھی۔ ”اللہ کے نبیﷺ نے اپنی موجودگی میں حضرت عائشہؓ اور حضرت حفصہؓ کو ایک نابینا صحابی سے بھی پردہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ کیا وہ امت کی مائیں نہ تھیں؟ کیا وہ صحابی رسول، اپنےنبیؐ کی موجودگی میں نعوذباللہ اپنے دل میں کوئی غلط مقصد رکھ سکتے تھے؟ کیا آقائے دو جہاںﷺ کی موجودگی میں وہاں شیطان داخل ہو سکتا تھا جو اس محفل کے شرکا میں سے کسی کوبھی بہکاتا؟ اور یہاں تو نہ میرے نبیﷺ کی محفل ہے، نہ صحابہ جیسا کوئی مرد۔ اور سب آنکھوں والے بھی ہیں۔ تو پھر تم خود سوچو۔ کیسے اتاروں؟“

یہ بھی پڑھیں:   اللہ قدر دان ہے - ام حبیبہ

اس کی مزاحمت دم توڑنے لگی تھی، لیکن پھر اچانک اسے ایک اور خیال آیا، اور وہ گویا ہوئی: ”ہاں ٹھیک ہے، لیکن وہ اور دور تھا۔ انسان کو وقت کے ساتھ چلنا چاہیے، اگر وہ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ آج کے دور میں پردے تو دور حجاب تک کو دہشت گردوں کا لباس سمجھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں تم کب تک، اپنے ان نظریات کو بغیر تبدیلی کے سنبھالے رکھو گی ؟ کب تک سسٹم سے ٹکراؤ گی؟کیا تم نہیں چاہتی کہ تم آگے بڑھو؟“
[pullquote]وَان يَمْسَسْكَ اللہ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَہ الَّا ھوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِہ ۚ يُصِيبُ بِہ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِہ ۚ وَھوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ [/pullquote]

”میرے مستقبل کا فیصلہ یہ زمانہ نہیں کر سکتا۔ جس کے لیے ٹکرا رہی ہوں، وہی کرے گا!“ اس نے عجیب فخریہ لہجے میں سورۃ یونس کی آیت کو اپنے دفاع میں پیش کر دیا۔

اسے ایک لمحے کے لیے اپنی سہیلی کی بے باکی سے خوف محسوس ہوا۔ وہ اس کے لیے بہت فکرمند رہتی تھی۔ ”میں مانتی ہوں، لیکن جب یہ لوگ سکیورٹی کی وجہ سےجگہ جگہ تمھارے ساتھ امتیازی سلوک برتیں گے، جگہ جگہ تمہیں بےعزت کریں گے، تب تم کیا کرو گی؟ سہتی رہو گی؟“ فکر اور پریشانی اس کے لہجے میں در آئی تھی۔

”لاکھ جنگل کا قانون سہی، لیکن اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک کے لوگوں کے دلوں میں آج بھی کہیں نہ کہیں ایمان زندہ ہے۔ سب کے سب تو مجھے کھا جانے والے نہیں ہیں نا، ہاں! مگریہ امتیازی سلوک اب بڑھنے لگا ہے، جب بات ایک فرد کی ہو تو ساتھ کم لوگ ہی دیتے ہیں، مگر جب بات امت کی ہو، تو ساتھ دینے والے بہت ہوتے ہیں۔ ہاں مجھے ملیں گے میرے جیسے لوگ، جو میرا ساتھ دیں گے، ہاتھ سے اس اس ریت کو روکنے کے لیے؛ کچھ لکھیں گے، کچھ بولیں گے، کچھ خاموشی سے دل میں دعائیں دیں گے!“ اس کا اطمینان جوں کا توں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   بنتِ حوا کے نام - حنا صدف

اس کی پریشانی ختم نہیں ہوئی، مگر وہ کچھ بول نہ سکی، کیا کہتی وہ اپنی پاگل سی اس سہیلی کو!

”تم جاؤ۔ وہ سب انتظار کر رہے ہیں تمھارا، میری فکر نہیں کرو، مجھے صرف اس سے ڈر لگتا ہے جو سب سے زیادہ اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ محبت سے میری جانب دیکھ رہا ہوگا اس وقت۔ تم مجھے یونہی رہنے دو!“
اس کے چہرے کی مسکراہٹ بہت گہری ہو گئی تھی۔

Comments

ام الہدی

ام الہدی

ام الہدیٰ ایم فل لنگویسٹکس کی طالبہ ہیں۔ پبلک اسپیکر ہیں۔ لکھنا، اور سوشل میڈیا کے آلٹرنیٹ استعمال کو فروغ دینا مشغلہ ہے۔ سوال اٹھانے سے پہلے مسائل کی وجوہات کو اجاگر کرنا اور ان کے سدِباب کی کوشش کرنا ان کا عزم ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں