والدین ہمارے عہد کے - فرح رضوان

ہنسنا ہنسانا جتنی قیمتی نعمت ہے، ہنسی اڑانا اتنی ہی بری عادت ہے. اللہ تعالیٰ کبھی بےوجہ کسی بات سے نہیں روکتے. مذاق اڑانے کے دنیاوی بھی بہت سے نقصانات ہیں.

، بس مزے اور تفریح کی غرض سے، معصوم بچے کا یا اس کے والد یا والدہ کا، یا پھر اس کے ”زائد“ بھائی بہنوں کی تعداد کا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں، کبھی والد کے لیے کہا جاتا ہے”تمہارے پاپا تو کنجوس ہیں،گنجے ہیں، ٹھگنے ہیں، وہ تو ایسے ہیں ویسے ہیں“، ”مما تو .... وہ تو بھائی کو زیادہ پیار کرتی ہیں، اتنے بچوں کی تو کرکٹ ٹیم بن جائے، ہیں پھر! پھر تمہارے ہاں خوشخبری ہے؟ کیا کروگے اتنے بچوں کا؟“ یہ کہنے والوں کو علم ہی نہیں کہ یہ کیسے قاتل جملے ہوتے ہیں، جو کمزور اور کم فہم ایمان والے والدین سے نہ جانے کتنے قتل کروا ڈالتے ہیں، یا تمام عمر اولاد کی نعمت، جو والدین کے مرنے کے بعد بھی پیچھے سے صدقہ جاریہ بننے والی، مسلسل مدد کا خزانہ ہوتی ہے، لیکن ان کو بوجھ لگنے لگتی ہے، اور جب نعمت بوجھ لگے تو کیا اس کا شکر کیا جائے گا؟ تو دہرا گناہ، اور جب شکر ادا نہ کیا جائے تو اس نعمت کی تربیت، اخلاق و کردار میں برکت ہوگی؟ اصول تو یہی ہے نا کہ شکر کرو گے تو نعمت بڑھے گی، اور ناشکری پر پکڑ ہوگی.

دوسری جانب یہی حال معصوم بچے کی نفسیات کا ہوتا ہے کہ شروع میں تو بچہ چڑ چڑ کر سب سے میری مما سب سے اچھی ہیں، مرے پاپا بیسٹ ہیں، کہتا لڑ تا ہے، لیکن عمر کے جس حصے میں، والدین کو بچے کی سرزنش کرنی پڑ جاتی ہے، وہ عمر وہی ہوتی ہے جب شیطان بھی تمام فوج لیے اسے بہکانے پر کمربستہ ہوتا ہے، اور شیطان کو آگ لگانے کے لیے بس وسوسے کی تیلی ہی لگانی ہوتی ہے، کیونکہ ایندھن تو اس کے گھر والے بچپن سے اس کی شخصیت میں، مزے اور تفریح کے نام پر جمع کر ہی رہے تھے، اب وہ تمام باتیں، کہ ماں تم سے زیادہ دوسروں کو پیار کرتی ہے، باپ کنجوس ہے، بھائی بہن میرے لیے رکاوٹ اور شرمندگی کا ذریعہ بن رہے ہیں، مذاق کی چنگاری سے حقیقت کے الاؤ میں تبدیل ہو کر اسے جھلسانا شروع کر دیتی ہیں، اس کے ان ہی ”مزاح نگار“ بڑوں کو بس اس کے رویے پر حیرت بڑی ہوتی ہے کہ پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے آجکل کے بچوں کو! لیکن افسوس کہ ایک پودا جسے گھنا سایہ دار، پھلدار درخت بننا تھا، اسے کانٹے دار جھاڑی بنا کر عقل کے ناخن لینے کے بجائے اگلی نسل کو چھیڑ چھیڑ کر ان سے وہی مزے لینا ختم نہیں ہوتا. شدید دکھ کی بات ہے کہ ان رویوں کی بنا پر بننے والی خلش کے سبب کوئی اولاد اپنے والدین کی وہ قدر ہی نہ کر پائے، اپنے بھائی بہنوں سے وہ محبت کا حق ادا نہ کر پائے، جو اس کے ذمہ تھی، تو سوال یہ ہے کہ کیا وہ تنہا ہی اس گناہ کا مرتکب ہوگا؟ ہمارے معاشرے میں لوگ تسبیح کے دانے تو خوب پھیرتے ہیں، دل کو اصلاح کی جانب پھیرنے پر توجہ نہیں ہوتی. بہرحال والدین کا اولین فرض ہے کہ وہ آس پاس کے افراد کے منفی رویوں سے خود کو اور بچوں کو دور رکھیں، مناسب طریقے سے سمجھ جانے والے ہوں تو بہترین بات ہے، لیکن معاملہ نازک ہو تب بھی دعا اور حکمت کے ساتھ مکمل کوشش جاری رکھنی چاہیے.

یہ بھی پڑھیں:   تین بیٹے جو والد کو ساتھ نہ رکھ سکے - بشری نواز

بعض بچے، بلکہ بڑے بھی، دوسروں کی نقلیں اتارنے میں مہارت رکھتے ہیں، تو سبھی ان سے ”اچھا اب فلاں کی، اب فلانے کی“ نقل کی فرمائش کر کر کے ان کا حوصلہ بڑھاتے اور خود اگر کسی سے بیزار ہیں تو ان کا مذاق اڑا کر اپنا دل ہلکا کرتے ہیں. اس عمل سے جہاں اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی نافرمانی کا ہم شکار ہوتے ہیں کہ [اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کامذاق نہ اڑائے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کامذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب کے ساتھ پکارو۔ ایمان لانے کے بعد فاسق کہلانا کتنا برا نام ہے اور جو توبہ نہیں کریں گے (باز نہیں آئیں گے) وہی لوگ ظالم ہیں۔ ]١١؛٤٩
وہیں ازخود غیبت کے مرتکب بھی ہوتے ہیں، کہنے کو فن لیکن نام فاسقوں میں درج کرواتے ہیں، کہنے کو زندہ دل لیکن دیکھ لیں کہ باز نہ آئے تو ظالم لوگوں کی فہرست میں شمار ہوں گے. لیکن یہ وہ نتائج ہیں جو فی الحال دکھائی نہیں دیتے. البتہ یہ الگ بات ہے کہ ہم بدحال، بےحال، بےسکون کیوں رہتے ہیں، دل کھول کر قہقہے لگاتے ہیں اور دل کے خالی پن سے وحشت زدہ کیوں رہتے ہیں؟ کا جواب ڈھونڈھتے رہ جاتے ہیں .

ساتھ ہی کچھ نظر آنے والے دنیاوی نقصانات بھی ہیں جن کو ان شاءاللہ ہم فوائد میں بدل سکتے ہیں.
نقل کرنے والوں کی بہت بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ ان کا مشاہدہ بہت تیز ہوتا ہے، کون کیسے چلتا ہے؟ اٹھتا بیٹھتا بولتا ہے؟ ساتھ ہی ان کا حافظہ تو تیز ہوتا ہی ہے، اور بار بار کوئی قصہ سنانے سے ازبر بھی ہو جاتا ہے. برائی اس جگہ ہوتی ہے جب ان خوبیوں کے ساتھ سوچ محدود ہو جاتی ہے، اگر سوچ کے زاویے کا قبلہ درست ہو جائے تو یہی نکتہ چینی کی عادت اللہ کی رحمت سے تدبر میں تبدیل ہو سکتی ہے. مگر جب بچہ بڑوں کو دوسروں کی نقل کرتے دیکھے اور سکول سے گھر آکر دوستوں اور اساتذہ کی نقل کرے اور گھر کے بڑے محظوظ ہوں، تب اس کا ذہن بجائے استاد کے سبق پر دھیان دینے کے، ان کی عادت کے مشاہدے پر مرکوز ہو جائے گا، اور یہ عادت عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتی جاتی ہے، بڑی بڑی عمر کے لوگ کتنی ہی اچھی مجلس میں اٹھیں بیٹھیں، وہ وہاں سے تجربہ یا علم سمیٹنے کے بجائے یہی سطحی سی باتیں لے کر لوٹ آتے ہیں، نہ ان کی شخصیت ان کی عمر کے لحاظ سے بن پاتی ہے نہ زندگی. لیکن جب انسان جان لیتا ہے کہ تمسخر اڑانا اس کی زندگی سے خارج ہے تو پھر نقل کرنے کا یہ ہنر یا جذبہ یا صلاحیت اسے ایک مثبت انسان بننے میں معاون ہو جاتی ہے کہ وہ گندی مکھی جو صرف کوڑے اور زخموں کو ڈھونڈھتی، اسی پر لپکتی اور اسی پر بیٹھتی ہے، اس سے شہد کی مکھی میں تبدیل ہو جاتا ہے، پھولوں کو ڈھونڈھنا، محنت سے ان کا رس لینا، اور دوسروں میں بانٹ دینا، اس کی فطرت کا حصہ بن جاتا ہے. وہی مشاہدے کی عادت اب انھی انسانوں سے ہیرے موتی چن کر خود کو سجانے کا کام شروع کر دیتی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   یہ بیکار ڈگریاں - علی معین نوازش

دل ڈوب سا جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کی فقط ایک آیت کو نہ سمجھنے کے کتنے نقصانات اور ذرا سا سمجھ لینے، مان لینے کے کتنے ان گنت فوائد ہیں، تو پورا قران ہمیں نہ جانے کیا کچھ سکھاتا ہے، آخر ہم کب سمجھیں گے؟ بس اسی آیت کا اتنا حصہ دیکھیں کہ [اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں] ..یہ اشارہ ہے خواتین و حضرات کی الگ الگ محفل کے لیے، اور ذرا ہم اپنی محفلوں کا جائزہ لیں تو ہر طرف ”گھر والوں“ کے نام پر محرم نامحرم سب خلط ملط ہوئے ہوتے ہیں، سب مل کر ہنسی مذاق میں مبتلا فیملی بونڈنگ سے اس گناہ کو شوگر کوٹڈ کر رہے ہوتے ہیں، مانا کہ تنہا انسان فوری تبدیلی پر اکثر قادر نہیں ہوتا، لیکن خود کو تو تبدیل کیا جاسکتا ہے، برائی کو ہاتھ سے، زبان سے کسی حد تو روکا جا سکتا ہے، اگر یہ اعضاء برائی کے خلاف نہ کام آسکیں تو کم از کم اس سے محفوظ رہنے کی دعا کے لیے تو اٹھایا جا سکتا ہے. آخر کب تک برائی کو محض دل میں برا جاننے کے آخری درجے پر کھڑے رہیں گے؟

ایک جانب ہمارا دین ہمیں یہ اخلاق سکھاتا ہے کہ اگر کوئی شخص سو رہا ہو اور دوسرا شخص نوافل اور تلاوت کے لیے بھی اٹھے تو سونے والے کی نیند اور سکون کا احترام کیا جائے، لیکن ہمارا عمومی رویہ یہ ہے کہ بات بات پر لوگوں کا مذاق بنا کر ان کے دن کا چین اور راتوں کی نیندیں اڑا دیتے ہیں. ہم سبھی الحمدللہ ، صدقہ کے فضائل کے ساتھ ہی دونوں جہانوں میں اس کی وجہ سے تکالیف اور مصائب سے نجات کے بارے میں جانتے ہیں، لیکن کسی کا مذاق اس کے منہ پر یا پیٹھ پیچھے اڑاتے وقت بھول جاتے ہیں کہ اگر ہم اس وقت دوسرے کو اپنے شر سے بچا لیں تو یہ ان شاءاللہ بہت بہترین اور کئی گنا بڑا صدقہ ہو سکتا ہے، اور کیونکہ بچے، جو بڑوں کے ہر عمل سے سیکھتے ہیں، آپ کی یہ نیکی، یہ خوبی بھی اللہ کے اذن سے ان میں منتقل ہوگی، اور صدقہ جاریہ بن جائے گی. ان شاءاللہ
(جاری ہے )

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.