کوٹہ سسٹم، استحصال اور پنجاب - محمد زاہد صدیق مغل

صوبائی عصبیت اور استحصال پرگفتگو چل رہی ہے تو دل میں آیا کہ کچھ مزید متعلقہ پہلوؤں پر بھی روشنی ڈال دی جائے۔ ایک خیال یہ پایا جاتا ہے کہ مجموعی پبلک پالیسی میں پنجاب دیگر صوبوں کی قیمت پر ہر معاملے میں فائدہ اٹھاتا ہے۔ یہاں کوٹے کے قانون پر غور کرنا فائدے سے خالی نہ ہوگا۔ اپنا ذاتی تجربہ شئیر کرتا ہوں۔

یہ 2007ء کی بات ہے جب میں ایک پراجیکٹ کے ریجنل ہیڈ کے طور پر حیدرآباد میں تعینات تھا۔ یہ پراجیکٹ تمام صوبوں کے چھوٹے شہروں سے بارہ سال کی تعلیم مکمل کرنے والے بچوں سے متعلق تھا، جس میں ان بچوں کو سکالر شپ ملنا تھی۔ آئیڈیا یہ تھا کہ چھوٹے شہروں (مثلا کراچی، لاہور، فیصل آباد، پنڈی وغیرہ کو نکال کر) کے کالجوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو حساب، انگریزی و فزکس کے متعلقہ نصاب میں 21 دن کی ٹریننگ دے کر ان کا ایم سی کیوز پر مبنی یکساں امتحان لیا جائے۔ اس امتحان میں جو بچے ٹاپ کریں، انہیں ملک کی مختلف یونیورسٹیز میں آئی ٹی سے متعلق شعبوں میں داخلہ دیا جائے، اور تمام تعلیمی اخراجات سرکاری فنڈ سے ادا کیے جائیں۔ میں چونکہ سندھ سے تعلق رکھتا تھا تو میری پوسٹنگ حیدرآباد میں تھی جہاں ہم نے یہ تمام پراسس (ٹریننگ، امتحان وغیرہ) کروانا تھا۔ پنجاب، سندھ و بلوچستان کے کل 380 طلبہ کو میرٹ پر اسکالر شپ ملنا تھی (خیبرپختونخوا کا کوٹا الگ سے دوسرے ادارے کو دیا گیا تھا جس نے یہ ٹریننگ و ٹیسٹ وغیرہ کروانا تھے)۔ میرے ساتھ ڈیوٹی پر موجود دوسرے ساتھی سندھی تھے اور حیدر آباد ہی کے آبائی رہائشی تھے۔ ہمیں ادراک تھا کہ پنجاب کا معیار تعلیم زیادہ ہے، چنانچہ ہماری قیاس آرائی یہ تھی کہ سندھ کے کم از کم پچاس سے ساٹھ جبکہ بلوچستان کے پندرہ سے بیس بچے میرٹ پر سیلیکٹ ہوجائیں گے۔

نتیجہ آنے پر معلوم ہوا کہ پنجاب سے 361، سندھ سے 13 جبکہ بلوچستان کے 6 بچے میرٹ پر آئے۔ جب نتیجہ متعلقہ منسٹری تک پہنچا تو پریشانی بن گئی اور پھر میرٹ کے اصول کو ترک کرکے یہ فیصلہ کیا گیا کہ سکالر شپ کوٹے کی بنیاد پر دی جائے جس کے بعد پنجاب سے کوئی 253، سندھ سے 104 اور بلوچستان سے 23 طلبہ کو سکالرشپ دی گئی۔ کیا پنجاب کے ان 108طلبہ کا استحصال کیا گیا جنہیں میرٹ پر ہونے کے باوجود سکالر شپ نہ دی گئی؟

یہ صرف ایک چھوٹی سے مثال ہے، سرکاری انتظام و انصرام میں میرٹ سے صرف نظر کرکے کوٹے کا یہ نظام چھوٹے صوبوں ہی کو فائدہ دینے کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم ایس سی میں داخلے کا کوٹہ مقرر ہے جہاں پنجاب کا میرٹ گیارہ سو کے قریب ہوتا ہے جبکہ چھوٹے صوبوں کا میرٹ سات آٹھ سو کے قریب ختم ہوجاتا ہے۔ کیا پنجاب سے آج تک یہ آواز آئی کہ دیگر صوبوں والے اتنے سالوں سے ہمارے ہزاروں بچوں کا استحصال کر رہے ہیں؟ ساتھ رہنے کی کچھ نہ کچھ قیمت ہر کوئی ادا کر رہا ہوتا ہے۔

کوٹا کیوں؟
بالخصوص پنجاب و کراچی شہر سے تعلق رکھنے والے احباب کا شکوہ ہوتا ہے کہ یہ کوٹے کا نظام استحصالی ہے، یہ میرٹ کا قتل ہے اور کوئی قوم میرٹ کو پس پشت ڈال کر ترقی نہیں کرسکتی۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس اشکال پر مختصرا کچھ اصولی گزارشات پیش کردی جائیں۔

جاننا چاہیے کہ کسی مسابقتی عمل (competitive process) سے متعلق عدم مساوات تین سطحوں پر پائی جاسکتی ہے:
- اولا، کسی مسابقتی پراسس کے نتائج (outcomes) کی سطح پر۔ معاشی تصورات میں اسے عام طور پر افراد کے مابین آمدن (قوت خرید) یا صرف کے تفاوت سے ماپا جاتا ہے (تعلیم کی مثال میں یوں سمجھیے کہ کچھ طلبہ کے گریڈ اچھے ہوں اور کچھ کے خراب)
- ثانیا، پراسس کی سطح پر۔ مثلا یہ ایک شخص کو کسی مارکیٹ میں اجارہ داری ہو یا کچھ مزدوروں کو ٹریڈ یونین کا تحفظ حاصل ہو (تعلیمی نظام میں یوں سمجھیے کہ کچھ طلبہ کو اچھا نصاب پڑھایا جائے یا استاد کچھ طلبہ کو زیادہ محنت سے پڑھائے یا انہیں آسان امتحانی پرچہ دیا جائے)
- ثالثا، حالات یا مواقع کی سطح پر۔ یعنی یہ کہ دو لوگ مسابقتی عمل میں شامل ہونے سے قبل خود کو امتیازی مواقع کا حامل پاتے ہیں۔ مثلا ایک شخص شہر میں پیدا ہوا اور دوسرا گاؤں میں، ایک کے والدین پڑھے لکھے و امیر ہیں تو دوسرے کے ان پڑھ و غریب (اس میں ایک شخص کی پیدائشی صلاحتیں بھی شامل کرلیں)۔ یہ حالات و مواقع ایک فرد نے اپنے زور بازو پر پیدا نہیں کیے ہوتے (تعلیم کی مثال میں یوں سمجھیے کہ کچھ علاقوں میں نسبتا اچھی تعلیمی سہولیات ہیں)

ان تینوں کے تعلق کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ نتائج کی عدم مساوات بہت حد تک پراسس اور حالات و مواقع کی عدم مساوات سے جنم لیتی ہے (فرد کی اپنی محنت کا عمل دخل بھی شامل ہے مگر حالات اس پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں)۔ کوٹے کا مقصد نتائج کی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے اس تیسری قسم کی عدم مساوات کو کم کرنا ہوتا ہے، یعنی یہ اصول کہ ایک شخص کو حالات سے علی الرغم ایسے مواقع ملنا چاہییں جن کی بنا پر وہ اپنے نتائج کی عدم مساوات پر اثر انداز ہوسکے

مارکیٹ اکانومی میں پبلک پالیسی دو مقاصد کے گرد گھومتی ہے: ایک ایفیشنسی اور دوسرا ایکویٹی (equity)۔ میرٹ صرف ایفیشنسی کا نام نہیں، یہ کسی ”مطلوبہ مقصد“ کے تصور سے برآمد ہوتا ہے (وگرنہ ایک شخص کی دولت قریبی رشتہ داروں میں تقسیم ہونا میرٹ کے خلاف کہلائے گا)۔ چنانچہ جو شخص نامساعد حالات میں پیدا ہوگیا، میرٹ کا تقاضا یہ ہے کہ اسے ایکویٹی کی بنیاد پر موقع دیا جائے۔ کوٹا اسی اصول کو عمل میں لانے کی ایک صورت ہے اور جائز ہے۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com